Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

East India Company

1 Historical Event found

27 مارچ 1668 کو بمبئی انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا گیا

جو ممبئی آج ہم دیکھتے ہیں، 1668 میں وہ ایسا نہیں تھا۔ اس وقت یہ کوئی ایک باقاعدہ شہر نہیں بلکہ سات الگ الگ جزائر پر مشتمل ایک علاقہ تھا، جن کے درمیان سمندر کا پانی آتا جاتا تھا۔ جگہ جگہ دلدلیں تھیں، نمک زار تھے، اور ایک جزیرے سے دوسرے تک جانا بھی ایک مہم سے کم نہیں تھا۔ 27 مارچ 1668 کو ایک رائل چارٹر کے تحت بمبئی کے سات جزائر انگلش ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیے گئے، اور یہ علاقہ محض سالانہ 10 پاؤنڈ کے عوض کمپنی کو دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ جزائر پرتگالیوں کے قبضے میں تھے، جو 1661 میں انگلینڈ کے بادشاہ چارلس دوم اور پرتگال کی شہزادی کیتھرین آف براگانزا کی شادی کے معاہدے کے تحت انگلینڈ کو منتقل ہوئے، اور بعد ازاں برطانوی تاج نے اسے براہ راست اپنے پاس رکھنے کے بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سپرد کر دیا تاکہ اسے تجارتی اور انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ کمپنی نے لوگوں کو یہاں آ کر آباد ہونے کی ترغیب دی، جس سے آبادی بڑھنے لگی اور رہنے اور کاشت کے لیے زیادہ زمین درکار ہونے لگی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان جزائر کے درمیان سمندر کا پانی آتا تھا اور بہت سے علاقے دلدلی تھے، جہاں ملیریا بھی پھیلتا تھا۔ اسی وجہ سے دلدل خشک کرنے، پانی کا راستہ روکنے اور کچھ حصوں میں سمندر سے زمین نکالنے کا کام شروع کیا گیا تاکہ یہ علاقہ رہنے اور استعمال کے قابل بن سکے۔ 1670 کی دہائی میں گورنر جیرالڈ آنگیئر کے دور میں یہاں انتظام مزید بہتر کیا گیا، بندرگاہ کو مضبوط بنایا گیا اور شہر کو باقاعدہ انداز میں چلانا شروع کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے سالوں میں مختلف بند اور راستے بنائے گئے تاکہ یہ جزائر آپس میں جڑ سکیں۔ آہستہ آہستہ یہ سب حصے ملتے گئے اور آخرکار 1838 تک یہ ایک مکمل جڑا ہوا شہر بن گیا۔ اسی عمل نے بمبئی کو ایک اہم تجارتی اور بندرگاہی مرکز بنا دیا اور یہی سے اس خطے میں باقاعدہ شہری ترقی کی بنیاد پڑی۔

مزید پڑھیں