Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

2 Historical Event found

مجسمۂ آزادی نیویارک ہاربر پہنچا

17 جون 1885 کو مجسمۂ آزادی فرانس سے فرانسیسی بحری جہاز Isère کے ذریعے نیویارک ہاربر پہنچا۔ یہ مجسمہ 200 سے زائد کریٹس میں امریکہ بھیجا گیا تھا، جو فرانس کے عوام کی جانب سے امریکہ کے لیے ایک تحفہ تھا۔ یہ تحفہ آزادی، جمہوریت اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آمد کے بعد اس مجسمے کو بیڈلوز آئی لینڈ پر نصب کیا گیا، جسے آج لبرٹی آئی لینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ اس کا باضابطہ افتتاح 28 اکتوبر 1886 کو کیا گیا۔

مزید پڑھیں

دریائے ٹیمز کے کنارے قدیم مصری ستون Cleopatra’s Needle عوام کے لیے کھول دیا گیا

لندن: 21 جنوری 1878 کو قدیم مصر سے تعلق رکھنے والا مشہور پتھریلا ستون Cleopatra’s Needle باضابطہ طور پر لندن کے شہری اور عوامی علاقے کی زینت بن گیا۔ اس دن یہ ستون دریائے ٹیمز کے کنارے واقع Victoria Embankment پر مکمل طور پر نصب ہونے کے بعد عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ستون تقریباً 1450 قبل مسیح میں مصر کے شہر ہلیوپولس میں بنایا گیا تھا۔ بعد میں مصر نے اسے برطانیہ کو تحفے کے طور پر دیا۔ اگرچہ اس ستون کو مصر سے لندن لانے اور یہاں نصب کرنے میں کئی سال لگے، لیکن 21 جنوری 1878 وہ دن ہے جب اسے عملی طور پر لندن کی عوامی زمین پر ایک مستقل یادگار کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس وقت Victoria Embankment لندن کے جدید شہری منصوبوں میں شمار ہوتا تھا۔ Cleopatra’s Needle کی تنصیب سے یہ علاقہ صرف سڑک اور دریا تک محدود نہ رہا بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی مقام بن گیا، جس سے اس زمین کی اہمیت اور پہچان میں اضافہ ہوا۔ قدیم مصری تہذیب میں یہ ستون Cleopatra’s Needle مصر کی شاہی طاقت، ریاستی نظم اور مذہبی عقیدے کی علامت تھا۔ اسے تقریباً 1450 قبل مسیح میں فرعون تحتمس سوم کے دور میں بنایا گیا اور اس پر کندہ تحریریں مصر کے طاقتور فرعونوں، ان کی فتوحات اور دیوتاؤں سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایسے ستون اس دور میں اہم شہروں، مذہبی مراکز اور شاہی مقامات پر نصب کیے جاتے تھے تاکہ ریاست کی عظمت سب کے سامنے رہے۔ یہ ستون قلوپطرہ کے نام سے اس لیے مشہور ہوا کیونکہ جب اسے قدیم زمانے میں مصر کے شہر اسکندریہ میں رکھا گیا تو وہ جگہ قلوپطرہ کے محل کے قریب سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں جب یورپی لوگ مصر آئے تو وہ فرعونوں کے ناموں سے زیادہ قلوپطرہ کو جانتے تھے، اس لیے انہوں نے اس قدیم ستون کو اسی کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قلوپطرہ نے نہ یہ ستون بنوایا تھا اور نہ اس کا اس سے کوئی براہ راست تعلق تھا۔ یہ نام صرف آسان پہچان اور مشہور شخصیت کی وجہ سے رائج ہو گیا اور پھر یہی نام لندن اور دوسرے ملکوں میں بھی محفوظ رہ گیا۔

مزید پڑھیں