Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

مذہبی رئیل اسٹیٹ کی تاریخ

1 Historical Event found

13 مارچ 1656 کو امریکہ میں یہودیوں کو اپنی عبادت گاہ بنانے کے لیے زمین حاصل کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔

ایک وقت تھا کہ آج کے امریکہ میں یہودیوں کو اپنی عبادت گاہ بنانے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔ 13 مارچ 1656 کو گورنر پیٹر اسٹائیوسنٹ کی نوآبادیاتی انتظامیہ کی جانب سے یہ حکم جاری ہوا کہ یہودی برادری شہر میں عبادت گاہ بنانے کے لیے زمین خرید یا رکھ نہیں سکتی۔ اس کے ساتھ انہیں بعض سرکاری عہدوں سے بھی محروم رکھا گیا اور ان کی شہری و سماجی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا۔ اس فیصلے کا اصل مقصد یہ تھا کہ شہر میں یہودی مذہبی ادارہ منظم شکل میں قائم نہ ہو سکے اور ان کی مذہبی شناخت شہری منظرنامے میں نمایاں نہ ہو۔ اس زمانے میں اس علاقے کا گورنر پیٹر اسٹائیوسنٹ تھا جو مذہبی طور پر ڈچ ریفارمڈ چرچ کا سخت پیروکار تھا اور وہ شہر میں اسی مذہب کو غالب دیکھنا چاہتا تھا۔ چند سال پہلے 1654 میں برازیل کے شہر ریسیفے سے تقریباً تئیس یہودی نیو ایمسٹرڈیم (آج کا نیویارک) پہنچے تھے۔ برازیل میں پہلے ڈچ حکومت تھی جہاں یہودیوں کو نسبتاً مذہبی آزادی حاصل تھی، لیکن جب پرتگالیوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکلنا پڑا اور وہ پناہ کے لیے نیو ایمسٹرڈیم آ گئے۔ گورنر اسٹائیوسنٹ نے ابتدا میں ان کی آمد کی سخت مخالفت کی اور انہیں شہر سے نکالنے کی کوشش بھی کی۔ اس نے ڈچ ویسٹ انڈیا کمپنی کو خط لکھ کر کہا کہ یہودیوں کو یہاں رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔ تاہم کمپنی کے ڈائریکٹرز نے ایمسٹرڈیم سے جواب دیا کہ چونکہ بہت سے یہودی تاجر کمپنی کی معیشت اور سرمایہ کاری میں اہم کردار رکھتے ہیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر نکالا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ انہیں شہر میں رہنے کی اجازت تو مل گئی، مگر ساتھ ہی کئی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ بعد میں جب 1664 میں برطانیہ نے نیو ایمسٹرڈیم پر قبضہ کر کے اس کا نام نیویارک رکھ دیا تو مذہبی آزادی نسبتاً بڑھ گئی اور آہستہ آہستہ یہودیوں کو اپنی عبادت گاہیں قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔

مزید پڑھیں