Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

زمینی استعمال کی تبدیلیاں

1 Historical Event found

ہالی ووڈ کا نام پہلی مرتبہ ایک رئیل اسٹیٹ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے رجسٹرڈ کیا گیا

یکم فروری 1887 کو آج کی امریکی ریاست کیلیفورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی میں Harvey Wilcox نے اپنی ملکیتی زرعی زمین کو ایک باقاعدہ رہائشی اسکیم کے منصوبے کے طور پر رجسٹر کروایا، جو بعد میں ہالی ووڈ (Hollywood) کے نام سے پہچانی گئی۔ یہ ابتدا میں کسی بھی طرح کا فلمی منصوبہ نہیں تھا بلکہ ایک خالص رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کا رہائشی منصوبہ تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ عالمی ثقافت اور معیشت کی ایک طاقتور علامت بن گیا۔ اس منصوبے کا نام ہاروی ویلکاکس کی اہلیہ Daeida Wilcox نے تجویز کیا تھا۔ مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق یہ نام ہولی ہولک کے پودوں (Hollyhock plants) سے متاثر تھا جو اس علاقے میں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ اس رجسٹریشن کے ذریعے ہالی ووڈ پہلی مرتبہ سرکاری ریکارڈ میں ایک باقاعدہ ہاؤسنگ اسکیم کی شناخت کے ساتھ سامنے آیا، جہاں پلاٹس کی حد بندی (Plot Subdivision)، سڑکوں کی ترتیب اور رہائشی استعمال کے اصول جدید شہری منصوبہ بندی کے تحت طے کیے گئے۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی شامل کی گئی کہ اس علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ مقصد یہ تھا کہ متوسط اور اعلیٰ طبقے کے لیے ایک صاف ستھرا، صحت مند اور منظم رہائشی علاقہ تشکیل دیا جائے جو لاس اینجلس کے شور اور فیکٹریوں سے دور ہو۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں، خصوصاً 1880 سے 1910 کے دوران، امریکہ کے بڑے شہروں کے اطراف میں زرعی زمینوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت رہائشی کالونیوں میں تبدیل کرنے کا رجحان عام تھا۔ لاس اینجلس کاؤنٹی میں یہ عمل خاص طور پر تیز ہوا کیونکہ ریلوے کی آمد، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری پھیلاؤ نے زمین کے استعمال کی نوعیت کو تیزی سے بدل دیا۔ [img:Images/otd-1-feb-2nd.jpg | desc:ہم میں سے بیشتر لوگ لاس اینجلس کی پہاڑی پر نصب ہالی ووڈ لینڈ کے اس سائن بورڈ (Signage) سے بخوبی واقف ہیں، جو اس تصویر میں نظر آ رہا ہے۔ یہ سائن بورڈ خود ہالی ووڈ جتنا ہی مشہور ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں جب بھی ہالی ووڈ کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلے یہی سفید حروف ابھرتے ہیں جو پہاڑی پر ایستادہ نظر آتے ہیں۔ ہالی ووڈ لینڈ کی اصل کہانی کو سمجھنے اور ایک رئیل اسٹیٹ سوسائٹی سے ہالی ووڈ بننے تک کے سفر کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہاروی ویلکاکس (Harvey Wilcox) اور ہیری چانڈلر (Harry Chandler) کو دو مختلف کرداروں کے طور پر الگ الگ سمجھا جائے۔ ہاروی ویلکاکس وہ شخص تھے جنہوں نے یکم فروری 1887 کو لاس اینجلس کاؤنٹی میں اپنی زرعی زمینوں کو ہالی ووڈ کے نام سے ایک رہائشی رئیل اسٹیٹ پراجیکٹ کے طور پر رجسٹر کروایا۔ اس کے برعکس ہیری چانڈلر کا کردار کئی دہائیاں بعد سامنے آتا ہے، جب 1923 میں انہوں نے اور دیگر ڈویلپرز نے Hollywoodland سائن روشن کر کے علاقے کی رئیل اسٹیٹ تشہیر کی، اور آس پاس کی مزید زمین خرید کر رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کا کام کیا۔ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز، جن میں ہیری چانڈلر بھی شامل تھے، نے ہالی ووڈ لینڈ (Hollywoodland) کے اس سائن کو باضابطہ طور پر 13 جولائی 1923 کو روشن کیا۔ اس سائن پر تقریباً 4,000 بلب نصب تھے جو رات کے وقت مرحلہ وار روشن ہوتے تھے۔ پہلے “HOLLY”، پھر “WOOD” اور آخر میں “LAND” جگمگاتا تھا، جس کا مقصد علاقے کی تشہیر کو زیادہ مؤثر بنانا تھا۔ یہ سائن دراصل ایک عارضی منصوبہ تھا، جسے صرف 18 ماہ کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ اس وقت کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ یہ سائن ایک صدی بعد بھی موجود ہوگا اور ایک عالمی علامت بن جائے گا۔ 1940 کی دہائی تک یہ سائن شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا تھا۔ چنانچہ 1949 میں مرمت کے دوران “LAND” کا لفظ ہٹا دیا گیا تاکہ یہ صرف شہر اور ابھرتی ہوئی فلمی صنعت کی نمائندگی کرے۔ جو سائن آج ہم دیکھتے ہیں، وہ اصل لکڑی کا سائن نہیں ہے۔ 1978 میں پرانا سائن مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا تھا، جس کے بعد اس کی جگہ اسٹیل سے بنا نیا سائن نصب کیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے فنڈز جمع کرنے میں Hugh Hefner (پلے بوائے کے بانی) نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ہالی ووڈ سائن کی بحالی کے لیے آٹھ نو سپانسرز نے چندہ دیا، جن میں ہر اسپانسر نے ایک ایک حرف کی سرپرستی کی، اور ہر ایک نے 27,777.77 امریکی ڈالر عطیہ کیے۔ ہیو ہیفنر نے حرف Y کی اسپانسرشپ کی، اور یوں مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 22 ہزار امریکی ڈالر کی رقم سے نیا اسٹیل سائن نصب کیا گیا، جو آج تک ہالی ووڈ کی علامت کے طور پر قائم ہے۔ (سید شایان آرکائیو ہیڈ)] ہاروی ویلکاکس کا ہالی ووڈ رہائشی منصوبہ بھی اسی وسیع تر رجحان کا حصہ تھا۔ اگرچہ یہ زمین پہلے زرعی استعمال میں تھی، مگر رجسٹریشن کا بنیادی مقصد اسے پلاٹس، سڑکوں اور رہائشی ضابطوں کے ساتھ ایک باقاعدہ ہاؤسنگ سب ڈویژن میں تبدیل کرنا تھا۔ اس وقت ہالی ووڈ کا فلمی صنعت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ ایک خاموش دیہی علاقہ تھا جسے بہتر رہائش، صحت مند ماحول اور منظم بستی کے تصور کے تحت فروخت کیا جا رہا تھا۔ فلمی صنعت کئی برس بعد یہاں پہنچی، جب اس علاقے کی زمین، کھلا ماحول اور نسبتاً سستی پراپرٹی نے فلم سازوں اور پروڈیوسرز کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ وقت کے ساتھ یہی رہائشی بستی اسٹوڈیوز، کمرشل سرگرمیوں اور ثقافتی اثرات کا مرکز بنتی چلی گئی، اور یوں ایک سادہ زرعی زمین پر قائم ہونے والا رہائشی منصوبہ رفتہ رفتہ ایک عالمی فلمی و ثقافتی برانڈ میں تبدیل ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ Harvey Wilcox ایک سخت گیر مذہبی رجحان رکھتے تھے اور ہالی ووڈ کو ایسی رہائشی بستی بنانا چاہتے تھے جہاں شراب نوشی پر مکمل پابندی ہو۔ اور ماحول اخلاقی اقدار کے مطابق رہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کے ابتدائی ضابطوں میں یہاں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور صنعتی استعمال کی ممانعت شامل کی تھی ۔ تاہم وقت نے اس سوچ کے ساتھ جو ستم ظریفی کی وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ ۔ ہاؤسنگ اسکیم کے رجسٹر ہونے کے تقریباً چوبیس سال بعد، 1911 میں، یہاں پہلا فلم اسٹوڈیو Nestor Studios قائم ہوا، جس نے اس علاقے کی شناخت ہمیشہ کے لیے بدل دی

مزید پڑھیں