From Real Estate History
2 Historical Event found
22 جولائی 1955 کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں واقع پیلس آف کلچر اینڈ سائنس پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ عمارت کی تعمیر یکم مئی 1952 کو شروع ہوئی تھی اور 21 جولائی 1955 کو مکمل ہوئی۔ اگلے روز اس کے کانگریس ہال میں ایک بڑی سرکاری تقریب منعقد ہوئی، جبکہ ہزاروں شہریوں کو عمارت دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ یہ محل سوویت یونین کی جانب سے پولینڈ کے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا گیا تھا اور شروع میں اسے جوزف سٹالن کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس کا نقشہ شاندار تعمیراتی انداز میں تیار کیا گیا۔ مقصد صرف ایک ثقافتی مرکز بنانا نہیں تھا بلکہ جنگ کے بعد دوبارہ تعمیر ہونے والے وارسا کے مرکز میں سوویت طاقت کی نمایاں علامت قائم کرنا بھی تھا۔ اس بڑی عمارت میں 3,288 کمرے موجود ہیں۔ یہاں تھیٹر، عجائب گھر، سنیما، دفاتر، ریستوران اور نمائش کے لیے مختلف ہال قائم ہیں۔ عمارت کی 30ویں منزل پر 114 میٹر بلندی پر ایک آبزرویٹری بھی بنائی گئی، جہاں سے پورے وارسا کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے پولش شہریوں کے لیے یہ عمارت طویل عرصے تک سوویت کنٹرول اور کمیونسٹ دور کی یادگار رہی۔ 1989 میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے بعد اسے گرانے کے مطالبات بھی سامنے آئے، لیکن عمارت برقرار رہی۔ وقت کے ساتھ یہ نمائشوں، تعلیمی سرگرمیوں، ثقافتی پروگراموں اور عوامی تقریبات کا اہم مرکز بن گئی۔ شہری منصوبہ بندی کے لحاظ سے یہ عمارت اس بات کی مثال ہے کہ ایک بڑا منصوبہ پورے شہر کے مرکز کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے گرد سڑکوں، کھلی جگہوں، کاروباری عمارتوں اور جدید بلند ٹاورز کی تعمیر نے وارسا کے شہری منظر کو نئی شکل دی۔ آج جدید شیشے کے ٹاور اس تاریخی محل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ منظر وارسا کے ماضی اور موجودہ ترقی دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ عمارت آج بھی متنازع ہے، لیکن اسے شہر کی شناخت سے الگ کرنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں
سنگاپور میں ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ (ایچ ڈی بی) کے پہلے پانچ سالہ تعمیراتی پروگرام کی تکمیل کے موقع پر ایک بڑی عوامی نمائش منعقد کی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم لی کوان یو نے سابق آؤٹرم جیل کی جگہ قائم ہونے والی اس نمائش کا افتتاح کرنا تھا۔ نمائش کا مقصد شہریوں کو یہ دکھانا تھا کہ صرف پانچ برس کے دوران سنگاپور نے گنجان آبادی، جھونپڑیوں، غیر محفوظ عمارتوں اور ناقص رہائشی حالات سے نمٹنے کے لیے کس تیزی سے جدید فلیٹس تعمیر کیے۔ اس روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگلے پانچ سالہ منصوبے میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کے لیے مزید رہائش فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ منصوبے کی لاگت تقریباً 150 ملین ڈالر بتائی گئی، جبکہ نئی آبادیوں میں 16 پرائمری اور آٹھ سیکنڈری سکول قائم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔ ایچ ڈی بی کا 51 ہزارواں مکان اگلے ماہ مکمل ہونے کی توقع تھی۔ 1964 کے اختتام تک تقریباً چار لاکھ افراد کو ایچ ڈی بی کے تعمیر کردہ فلیٹس میں منتقل کیا جا چکا تھا، جو اس وقت سنگاپور کی مجموعی آبادی کا تقریباً 23 فیصد بنتے تھے۔ اسی دور میں توا پایوہ کی تعمیر بھی شروع ہوئی۔ یہ ایچ ڈی بی کا پہلا مکمل منصوبہ بند شہر تھا، جہاں رہائش کے ساتھ سڑکیں، سکول، بازار، کھیل کے میدان، پارک اور سماجی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ 21 جولائی کی یہ نمائش صرف تعمیراتی کامیابی کا جشن نہیں تھی۔ اس نے سنگاپور کی اس قومی سوچ کو نمایاں کیا کہ مناسب رہائش سماجی استحکام، شہری بہبود اور معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ بعد میں یہی منصوبہ بند آبادیاں، سستے فلیٹس اور گھر کی ملکیت کی پالیسیاں سنگاپور کے عالمی شہرت یافتہ عوامی ہاؤسنگ ماڈل کی بنیاد بنیں۔
مزید پڑھیں