Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

امریکن لینڈ اور رئیل اسٹیٹ سسٹم

2 Historical Event found

3 مارچ 1845 کو فلوریڈا امریکہ کی 27ویں ریاست بنا۔

فلوریڈا سے قبل امریکہ میں 26 ریاستیں موجود تھیں۔ 3 مارچ 1845 کو اسے بھی امریکی ریاست بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اُس وقت امریکہ میں غلامی کے حامی اور مخالف ریاستوں کے درمیان سیاسی توازن قائم رکھنا ضروری تھا۔ فلوریڈا جنوبی ریاست تھا اور غلامی کی اجازت دیتا تھا، اس لیے اسے ریاست بنانے کے ساتھ ہی ایک غلامی مخالف ریاست کو بھی شامل کیا گیا تاکہ سینیٹ میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔ فلوریڈا کا کل رقبہ تقریباً 170,312 مربع کلومیٹر یعنی لگ بھگ 42 ملین ایکڑ ہے، جس کی وجہ سے یہ ریاست اپنے زمینی رقبے اور ساحلی پٹی دونوں اعتبار سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ابتدائی زمانے میں فلوریڈا اپنی زرخیز زمینوں، خصوصاً سٹرس کے باغات اور بڑے بڑے زرعی فارموں کی وجہ سے معروف تھا۔ بعد ازاں بیسویں صدی میں اس کے سمندر کے کنارے لوگوں کی اکثریت نے رہائشی اور تفریحی جائیدادیں بنانا شروع کر دیں اور پھر آگے چل کر یہی رجحان اس ریاست کی اصل شناخت بن گیا۔ میامی بیچ اور پام بیچ جیسے ساحلی علاقوں کی ترقی نے Beachfront جائیداد کو باقاعدہ ایک باوقار سرمایہ کاری کے شعبے کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا، جہاں زمین کی قیمت اس کے رقبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ سمندر کے نظاروں، خوشگوار موسم، ساحل تک براہِ راست رسائی اور وہاں کے لگژری طرزِ زندگی کے مطابق طے ہونے لگی۔ ساحلوں پر ہوٹلوں، ریزورٹس، تفریحی مراکز اور پُرتعیش رہائشی منصوبوں کی تعمیرات نے سمندر کنارے جائیداد کو ایک اسٹیٹس سمبل بنا دیا۔ فلوریڈا کا نام ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسے واقعے کی وجہ سے کافی مشہور ہے جسے 1920 کی دہائی کا Florida Land Boom کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں زمینوں کی خرید و فروخت میں ایسی تیزی آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساحلی علاقوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیے جاتے تھے، لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ آج خریدیں گے تو کل امیر ہو جائیں گے، اور زیرِ تعمیر منصوبوں میں بھی پیشگی بکنگ شروع ہو گئی تھی۔ زمین کو صرف رہنے اور اپنے ذاتی مقاصد کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے کا تصور اسی واقعے سے نمایاں ہوا۔ یہی انداز بعد میں دنیا کے دوسرے ساحلی شہروں نے بھی اختیار کیا، اور یوں فلوریڈا کا یہ تجربہ جدید ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ آج بھی فلوریڈا اپنے رہائشی منصوبوں، پُرتعیش ساحلی جائیداد، ریٹائرمنٹ کمیونٹیز اور سیاحت سے وابستہ کمرشل پراپرٹی کے لیے مشہور ہے۔ دنیا کے بے شمار ارب پتی افراد یہاں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ Mar a Lago بھی اسی ریاست میں واقع ہے۔

مزید پڑھیں

3 مارچ 1845 کو فلوریڈا امریکہ کی 27ویں ریاست بنا۔

فلوریڈا سے قبل امریکہ میں 26 ریاستیں موجود تھیں۔ 3 مارچ 1845 کو اسے بھی امریکی ریاست بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اُس وقت امریکہ میں غلامی کے حامی اور مخالف ریاستوں کے درمیان سیاسی توازن قائم رکھنا ضروری تھا۔ فلوریڈا جنوبی ریاست تھا اور غلامی کی اجازت دیتا تھا، اس لیے اسے ریاست بنانے کے ساتھ ہی ایک غلامی مخالف ریاست کو بھی شامل کیا گیا تاکہ سینیٹ میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔ فلوریڈا کا کل رقبہ تقریباً 170,312 مربع کلومیٹر یعنی لگ بھگ 42 ملین ایکڑ ہے، جس کی وجہ سے یہ ریاست اپنے زمینی رقبے اور ساحلی پٹی دونوں اعتبار سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ابتدائی زمانے میں فلوریڈا اپنی زرخیز زمینوں، خصوصاً سٹرس کے باغات اور بڑے بڑے زرعی فارموں کی وجہ سے معروف تھا۔ بعد ازاں بیسویں صدی میں اس کے سمندر کے کنارے لوگوں کی اکثریت نے رہائشی اور تفریحی جائیدادیں بنانا شروع کر دیں اور پھر آگے چل کر یہی رجحان اس ریاست کی اصل شناخت بن گیا۔ میامی بیچ اور پام بیچ جیسے ساحلی علاقوں کی ترقی نے Beachfront جائیداد کو باقاعدہ ایک باوقار سرمایہ کاری کے شعبے کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا، جہاں زمین کی قیمت اس کے رقبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ سمندر کے نظاروں، خوشگوار موسم، ساحل تک براہِ راست رسائی اور وہاں کے لگژری طرزِ زندگی کے مطابق طے ہونے لگی۔ ساحلوں پر ہوٹلوں، ریزورٹس، تفریحی مراکز اور پُرتعیش رہائشی منصوبوں کی تعمیرات نے سمندر کنارے جائیداد کو ایک اسٹیٹس سمبل بنا دیا۔ فلوریڈا کا نام ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسے واقعے کی وجہ سے کافی مشہور ہے جسے 1920 کی دہائی کا Florida Land Boom کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں زمینوں کی خرید و فروخت میں ایسی تیزی آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساحلی علاقوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیے جاتے تھے، لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ آج خریدیں گے تو کل امیر ہو جائیں گے، اور زیرِ تعمیر منصوبوں میں بھی پیشگی بکنگ شروع ہو گئی تھی۔ زمین کو صرف رہنے اور اپنے ذاتی مقاصد کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے کا تصور اسی واقعے سے نمایاں ہوا۔ یہی انداز بعد میں دنیا کے دوسرے ساحلی شہروں نے بھی اختیار کیا، اور یوں فلوریڈا کا یہ تجربہ جدید ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ آج بھی فلوریڈا اپنے رہائشی منصوبوں، پُرتعیش ساحلی جائیداد، ریٹائرمنٹ کمیونٹیز اور سیاحت سے وابستہ کمرشل پراپرٹی کے لیے مشہور ہے۔ دنیا کے بے شمار ارب پتی افراد یہاں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ Mar a Lago بھی اسی ریاست میں واقع ہے۔

مزید پڑھیں