From Real Estate History
6 Historical Event found
امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے ہاؤسنگ ایکٹ 1949 پر دستخط کیے، جس نے امریکا کی رہائشی پالیسی، شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ کی ترقی میں وفاقی حکومت کے کردار کو نمایاں طور پر وسعت دے دی۔ اس تاریخی قانون نے ہر امریکی خاندان کے لیے ایک مناسب گھر اور موزوں رہائشی ماحول کی فراہمی کو قومی مقصد قرار دیا۔ اس سے قبل رہائش کو بڑی حد تک نجی مارکیٹ اور مقامی حکومتوں کا معاملہ تصور کیا جاتا تھا، مگر اس قانون نے مناسب رہائش کو قومی فلاح، معاشی استحکام اور شہری ترقی سے جوڑ دیا۔ قانون کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے چھ سال کے دوران مزید 8 لاکھ 10 ہزار پبلک ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر میں وفاقی مالی معاونت کی اجازت دی گئی۔ اس کے ساتھ شہروں کو خستہ حال آبادیوں کی صفائی، زمین کے حصول، شہری علاقوں کی ازسرنو تعمیر اور رہائشی منصوبوں کی ترقی کے لیے قرضوں اور گرانٹس کی سہولت فراہم کی گئی۔ ہاؤسنگ ایکٹ نے دیہی علاقوں میں رہائش کے لیے مالی معاونت، رہائشی تعمیرات پر تحقیق، تعمیراتی لاگت کم کرنے اور گھروں کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی متعارف کرائے۔ اس قانون کے بعد امریکی شہروں میں بڑے پیمانے پر شہری تجدید کے منصوبے شروع ہوئے۔ پرانی اور خستہ عمارتوں کو گرا کر نئی رہائشی عمارتیں، تجارتی مراکز، شاہراہیں اور شہری سہولتیں تعمیر کی گئیں۔ اس عمل نے کئی شہروں کے رئیل اسٹیٹ منظرنامے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ تاہم شہری تجدید کا یہ دور متنازع بھی ثابت ہوا۔ متعدد منصوبوں کے دوران پرانے محلوں، کم آمدنی والی آبادیوں اور تاریخی شہری عمارتوں کو ختم کیا گیا، جس سے بڑی تعداد میں خاندان بے دخل ہوئے اور کئی شہروں کا تاریخی و سماجی تشخص متاثر ہوا۔ اس کے باوجود ہاؤسنگ ایکٹ 1949 جدید ہاؤسنگ پالیسی کی تاریخ کا ایک بنیادی سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس نے یہ اصول قائم کیا کہ مناسب رہائش صرف ایک تجارتی شے نہیں بلکہ شہری وقار، سماجی استحکام اور قومی ترقی کا لازمی حصہ ہے۔
مزید پڑھیں
نیویارک کی ففتھ ایونیو پر واقع راک فیلر سینٹر کے بین الاقوامی تعمیراتی مجموعے کے ایک اہم حصے پالازو ڈی اٹالیا کی بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ پیش رفت بیسویں صدی کے انتہائی بااثر نجی کمرشل رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں شامل راک فیلر سینٹر کی توسیع کا اہم مرحلہ تھی۔ پالازو ڈی اٹالیا کو اطالوی تجارتی، ثقافتی، سیاحتی اور کاروباری سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر منصوبہ بند کیا گیا تھا۔ اس منصوبے نے راک فیلر سینٹر کے اس وسیع تصور کی نمائندگی کی جس کے تحت دفاتر، دکانوں، عوامی مقامات، فن پاروں اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کو ایک منظم شہری مجموعے میں یکجا کیا گیا۔ بعدازاں ابتدائی نقشوں میں تبدیلی کی گئی اور پالازو ڈی اٹالیا کو انٹرنیشنل بلڈنگ کے دو نسبتاً چھوٹے حصوں میں شامل کر دیا گیا۔ آرٹ ڈیکو طرز کی 41 منزلہ انٹرنیشنل بلڈنگ 1935 میں کھولی گئی، جبکہ اس کا بنیادی تعمیراتی ڈھانچہ صرف 136 کام کے دنوں میں مکمل کیا گیا تھا۔ اس منصوبے نے ثابت کیا کہ بڑے پیمانے کی رئیل اسٹیٹ ترقی کو محض ایک عمارت تک محدود رکھنے کے بجائے مکمل کاروباری اور شہری ضلع تشکیل دینے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے میں دفاتر، تجارتی مراکز، چھتوں پر باغات، پیدل چلنے والوں کیلئے کھلی جگہوں اور عوامی فن پاروں کو یکجا کیا گیا۔ راک فیلر سینٹر کو بعد میں نیویارک شہر کی تاریخی عمارت اور امریکا کے قومی تاریخی اثاثے کا درجہ دیا گیا۔ اس کا تعمیراتی اور شہری منصوبہ بندی کا نمونہ آج بھی دنیا بھر کے مخلوط استعمال کے منصوبوں، کاروباری اضلاع اور شہری بحالی کی سکیموں کو متاثر کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
1918 کو یونائیٹڈ سٹیٹ ہاؤسنگ کارپوریشن قانونی طور پر قائم ہوئی، جو امریکہ میں پبلک ہاؤسنگ، منصوبہ بند رہائشی ترقی اور جدید شہری پالیسی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔ یہ ادارہ جنگِ عظیم اول کے دوران اس وقت قائم کیا گیا جب امریکہ کی دفاعی صنعتیں، اسلحہ خانے، شپ یارڈز اور جنگی پیداوار سے وابستہ فیکٹریاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ ہزاروں مزدور صنعتی شہروں اور دفاعی پیداواری مراکز کی طرف منتقل ہو رہے تھے، جس کے باعث کام کی جگہوں کے قریب محفوظ، منظم اور قابلِ برداشت رہائش کی فوری ضرورت پیدا ہو گئی تھی۔ اس دور سے پہلے کئی صنعتی علاقوں میں مزدوروں کی رہائش اکثر گنجان، غیر منظم اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتی تھی۔یونائیٹڈ سٹیٹ ہاؤسنگ کارپوریشن کا قیام اس سوچ کی علامت تھا کہ رہائش صرف نجی معاملہ نہیں بلکہ قومی پیداوار، عوامی فلاح، شہری منصوبہ بندی اور معاشی استحکام کا بھی بنیادی حصہ ہے۔ اس ادارے نے صنعتی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے منصوبہ بند رہائشی آبادیوں پر کام کیا۔ یہ منصوبے صرف گھروں کی تعمیر تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں گلیوں کی منصوبہ بندی، صفائی، کام کی جگہوں تک رسائی، کمیونٹی سہولتیں اور بہتر رہائشی ماحول جیسے پہلو بھی شامل تھے۔ اسی وجہ سے اس پروگرام نے بعد کے پبلک ہاؤسنگ، ٹاؤن پلاننگ اور حکومتی سطح پر رہائشی ترقی کے تصورات کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اگرچہ یہ ادارہ جنگی ضروریات کے تحت قائم کیا گیا تھا، مگر اس کے اثرات جنگِ عظیم اول کے بعد بھی برقرار رہے۔ یہ اس بات کی ابتدائی مثال تھا کہ حکومت کسی قومی ضرورت یا بحران کے دوران ہاؤسنگ مارکیٹ میں کردار ادا کر سکتی ہے اور منصوبہ بندی، زمین کے بہتر استعمال اور عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے رہائشی قلت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ تاریخ کے تناظر میں 9 جولائی اس لیے اہم ہے کہ یہ دن رہائش، محنت، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹ ہاؤسنگ کارپوریشن نے ثابت کیا کہ بہتر منصوبہ بند رہائش مزدوروں کی زندگی بہتر بنا سکتی ہے، شہروں کو مضبوط کر سکتی ہے اور ریاستی پالیسی کا ایک مؤثر معاشی و سماجی ذریعہ بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
17 جون 1968 کو امریکی سپریم کورٹ نے Jones v. Alfred H. Mayer Co. کیس میں ایک اہم فیصلہ سنایا، جس سے امریکہ میں فیئر ہاؤسنگ حقوق کو مزید تقویت ملی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کی خرید و فروخت یا کرایہ داری میں نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک غیر قانونی ہے، چاہے یہ امتیاز نجی پراپرٹی مالکان کی جانب سے ہی کیوں نہ کیا جائے۔ اس فیصلے نے Civil Rights Act of 1866 کو مزید مؤثر بنایا اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مساوی رہائشی مواقع اور نسلی تعصب کے خلاف تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں
16 جون 1933 کو امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے نیشنل انڈسٹریل ریکوری ایکٹ پر دستخط کیے، جو نیو ڈیل دور کے اہم قوانین میں شامل تھا۔ یہ قانون عظیم معاشی بحران کے دوران معیشت کی بحالی، روزگار کے فروغ اور بڑے پیمانے پر عوامی تعمیراتی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ میں یہ قانون خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے پبلک ورکس ایڈمنسٹریشن کے قیام کی راہ ہموار کی۔ اس ادارے نے شاہراہوں، سرکاری عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کی معاونت کی۔ پبلک ورکس ایڈمنسٹریشن کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں کے ذریعے بے روزگاری میں کمی اور عوامی قوتِ خرید میں اضافہ تھا۔ اس قانون نے عوامی رہائش کے ابتدائی منصوبوں کے لیے بھی بنیاد فراہم کی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس پروگرام کے تحت کم لاگت رہائش اور کچی آبادیوں کے خاتمے سے متعلق منصوبے بھی شامل تھے، جس نے حکومتی سرپرستی میں رہائشی پالیسی اور شہری تجدید کے تصور کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں 16 جون 1933 کو اس دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب رہائش، تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کو صرف پراپرٹی سیکٹر کے معاملات نہیں سمجھا گیا بلکہ انہیں معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور شہری ترقی کے اہم ذرائع کے طور پر دیکھا گیا۔ یہی سوچ بعد میں دنیا کے مختلف ممالک میں عوامی رہائش اور شہری منصوبہ بندی کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوئی۔
مزید پڑھیں
فلوریڈا سے قبل امریکہ میں 26 ریاستیں موجود تھیں۔ 3 مارچ 1845 کو اسے بھی امریکی ریاست بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اُس وقت امریکہ میں غلامی کے حامی اور مخالف ریاستوں کے درمیان سیاسی توازن قائم رکھنا ضروری تھا۔ فلوریڈا جنوبی ریاست تھا اور غلامی کی اجازت دیتا تھا، اس لیے اسے ریاست بنانے کے ساتھ ہی ایک غلامی مخالف ریاست کو بھی شامل کیا گیا تاکہ سینیٹ میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔ فلوریڈا کا کل رقبہ تقریباً 170,312 مربع کلومیٹر یعنی لگ بھگ 42 ملین ایکڑ ہے، جس کی وجہ سے یہ ریاست اپنے زمینی رقبے اور ساحلی پٹی دونوں اعتبار سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ابتدائی زمانے میں فلوریڈا اپنی زرخیز زمینوں، خصوصاً سٹرس کے باغات اور بڑے بڑے زرعی فارموں کی وجہ سے معروف تھا۔ بعد ازاں بیسویں صدی میں اس کے سمندر کے کنارے لوگوں کی اکثریت نے رہائشی اور تفریحی جائیدادیں بنانا شروع کر دیں اور پھر آگے چل کر یہی رجحان اس ریاست کی اصل شناخت بن گیا۔ میامی بیچ اور پام بیچ جیسے ساحلی علاقوں کی ترقی نے Beachfront جائیداد کو باقاعدہ ایک باوقار سرمایہ کاری کے شعبے کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا، جہاں زمین کی قیمت اس کے رقبے کی بنیاد پر نہیں بلکہ سمندر کے نظاروں، خوشگوار موسم، ساحل تک براہِ راست رسائی اور وہاں کے لگژری طرزِ زندگی کے مطابق طے ہونے لگی۔ ساحلوں پر ہوٹلوں، ریزورٹس، تفریحی مراکز اور پُرتعیش رہائشی منصوبوں کی تعمیرات نے سمندر کنارے جائیداد کو ایک اسٹیٹس سمبل بنا دیا۔ فلوریڈا کا نام ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسے واقعے کی وجہ سے کافی مشہور ہے جسے 1920 کی دہائی کا Florida Land Boom کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں زمینوں کی خرید و فروخت میں ایسی تیزی آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساحلی علاقوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیے جاتے تھے، لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ آج خریدیں گے تو کل امیر ہو جائیں گے، اور زیرِ تعمیر منصوبوں میں بھی پیشگی بکنگ شروع ہو گئی تھی۔ زمین کو صرف رہنے اور اپنے ذاتی مقاصد کے بجائے سرمایہ کاری کے طور پر خریدنے کا تصور اسی واقعے سے نمایاں ہوا۔ یہی انداز بعد میں دنیا کے دوسرے ساحلی شہروں نے بھی اختیار کیا، اور یوں فلوریڈا کا یہ تجربہ جدید ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ آج بھی فلوریڈا اپنے رہائشی منصوبوں، پُرتعیش ساحلی جائیداد، ریٹائرمنٹ کمیونٹیز اور سیاحت سے وابستہ کمرشل پراپرٹی کے لیے مشہور ہے۔ دنیا کے بے شمار ارب پتی افراد یہاں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ Mar a Lago بھی اسی ریاست میں واقع ہے۔
مزید پڑھیں