From Real Estate History
On August 25, 1916, US President Woodrow Wilson signed legislation creating the National Park Service, establishing a unified federal system for managing some of the country’s most important natural landscapes, historic places and protected lands.
National parks already existed in the United States. Yellowstone, for example, had been established in 1872. However, there was no single federal agency responsible for managing the various parks and monuments under the Department of the Interior.
The 1916 law changed that. It created the National Park Service and gave the new agency a mission to conserve scenery, natural and historic objects and wildlife, while allowing the public to enjoy these places in a way that would leave them unimpaired for future generations.
From a real estate and land use perspective, the decision represented an important shift in thinking about the value of land. Valuable property did not necessarily have to be opened for construction, commercial exploitation or private development. Land could also carry environmental, historic, cultural and public value significant enough to justify long term protection.
Over the following decades, the system expanded far beyond spectacular natural landscapes. Historic buildings, battlefields, monuments, recreation areas and other culturally important properties became part of a much broader national preservation framework.
Today, the National Park Service manages 433 individual areas covering more than 85 million acres across the United States and its territories.
The events of August 25, 1916 therefore offer an enduring lesson for real estate and urban planning. Development is only one way of creating value from land. In some cases, restricting development and preserving a place for future generations can create an equally powerful form of economic, cultural and social value.
More than a century later, the balance between development, private property interests, public access and land conservation remains one of the central questions facing growing cities and real estate markets around the world.
▪️Syed Shayan
Real Estate Archive
▪ Reference(s):
25 اگست 1916 کو امریکی صدر ووڈرو ولسن نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کرکے نیشنل پارک سروس قائم کی، جس نے امریکا میں زمین کے استعمال، قدرتی علاقوں اور تاریخی مقامات کے تحفظ کو ایک منظم وفاقی نظام کے تحت لانے کی بنیاد رکھی۔
اس سے پہلے امریکا میں یلو سٹون سمیت متعدد قومی پارک اور محفوظ مقامات قائم ہوچکے تھے، لیکن ان کے انتظام کیلئے کوئی ایک مرکزی ادارہ موجود نہیں تھا۔ نئے قانون کے تحت نیشنل پارک سروس کو محکمہ داخلہ کے ماتحت قائم کیا گیا اور اسے قومی پارکوں، یادگاروں اور محفوظ زمینوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی۔
قانون کا بنیادی تصور یہ تھا کہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور جنگلی حیات کو محفوظ رکھا جائے، جبکہ عوام کو ان سے فائدہ اٹھانے اور انہیں دیکھنے کی سہولت بھی دی جائے، لیکن اس انداز میں کہ یہ اثاثے آنے والی نسلوں کیلئے نقصان کے بغیر برقرار رہیں۔
رئیل اسٹیٹ اور زمین کے استعمال کی تاریخ میں اس فیصلے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اس نے یہ تصور مضبوط کیا کہ قیمتی زمین کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس پر کتنی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں یا اسے کتنی قیمت میں فروخت کیا جاسکتا ہے۔ زمین کی تاریخی، ماحولیاتی، ثقافتی اور عوامی قدر بھی اس کے مستقبل کا تعین کرسکتی ہے۔
بعد کے عشروں میں اس نظام کا دائرہ قدرتی پارکوں سے بڑھ کر تاریخی عمارتوں، جنگی میدانوں، یادگاروں، تفریحی علاقوں اور ثقافتی ورثے تک پھیل گیا۔
آج نیشنل پارک سروس 433 مقامات پر 85 ملین ایکڑ سے زیادہ رقبے کا انتظام کرتی ہے۔
25 اگست کا یہ واقعہ شہری منصوبہ بندی اور رئیل اسٹیٹ کیلئے ایک اہم تاریخی سبق چھوڑتا ہے: ہر قیمتی زمین کا بہترین استعمال تعمیر نہیں، بعض اوقات اس کا سب سے بڑا مستقبل اسے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
August 27, 2018 marked an important development in Singapore’s urban planning and real estate history when the Housing and Development Board launched a major government land site at Pasir Ris Central for public tender.
The project was designed as more than a conventional residential development. It represented an integrated urban development concept that brought together housing, commercial activity, transport facilities and public services within a single connected location.
The proposed development included private residential units along with commercial space, a bus interchange, a polyclinic and a town plaza. According to official information, the site had the potential to accommodate approximately 600 private residential units.
The Pasir Ris Central project formed part of Singapore’s wider urban development strategy, which focuses on creating integrated and self sufficient communities rather than separating residential, commercial and public facilities into different areas.
The development concept was designed to provide residents with greater access to transport, shopping, healthcare and other everyday services within the same urban centre. By combining multiple functions within one development, the project reflected Singapore’s approach to efficient land use and long term city planning.
From a real estate perspective, the project provides an important example of the growing importance of mixed use developments in modern Asian cities. Integrating residential property, commercial activity and public infrastructure can improve the use of valuable urban land while potentially increasing the attractiveness of a location for residents, businesses and investors.
The launch of the Pasir Ris Central site on August 27, 2018 therefore represents a significant moment in Singapore’s real estate and urban development history, demonstrating how government land planning can shape the future growth, accessibility and investment potential of an entire urban district.
▪️Syed Shayan
Real Estate Archive
▪ Reference(s):
27 اگست 2018 کو سنگاپور کی شہری اور رئیل اسٹیٹ ترقی کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوئی، جب ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نے پسیر رس سینٹر میں واقع ایک اہم سرکاری زمین کو ترقیاتی منصوبے کے لیے عوامی ٹینڈر پر پیش کردیا۔
یہ منصوبہ روایتی رہائشی تعمیرات سے مختلف تھا، کیونکہ اس میں رہائش، تجارت، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولتوں کو ایک ہی مربوط شہری منصوبے کے تحت یکجا کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت اس مقام کو ایک جدید مخلوط استعمال کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کی تجویز دی گئی۔
مجوزہ ترقیاتی منصوبے میں نجی رہائشی یونٹس کے ساتھ تجارتی جگہیں، بس انٹرچینج، پولی کلینک اور ٹاؤن پلازا سمیت مختلف عوامی سہولتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا تصور شامل تھا۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس مقام پر تقریباً 600 نجی رہائشی یونٹس تعمیر کیے جانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔
پسیر رس سینٹر کا یہ منصوبہ سنگاپور کے شہری ترقیاتی وژن کا حصہ تھا، جس کا مقصد رہائشی علاقوں کو صرف گھروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مکمل اور مربوط شہری مراکز میں تبدیل کرنا تھا۔ اس تصور کے تحت رہائشی علاقے کو سفر، خریداری، صحت اور دیگر روزمرہ سہولتیں ایک ہی علاقے میں فراہم کرنے پر توجہ دی گئی۔
رئیل اسٹیٹ کے نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید شہری ترقی میں زمین کے استعمال کا تصور کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ مخلوط استعمال کے منصوبوں میں رہائشی، تجارتی اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو یکجا کرکے نہ صرف زمین کا بہتر استعمال ممکن بنایا جاتا ہے بلکہ کسی علاقے کی جائیداد اور سرمایہ کاری کی کشش میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
آج پسیر رس سینٹر کا یہ منصوبہ ایشیا میں مربوط شہری منصوبہ بندی اور جدید رئیل اسٹیٹ ترقی کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
19 اکتوبر 1923 کو تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قانون منظور کیا گیا، جس نے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس قانون ن...
مزید پڑھیں
10 اکتوبر 1885 کو میلبورن نے اپنی شہری تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا جب شہر کے جنوبی حصے، دریائے یارا کے پار، تیزی سے ترقی کرتے مضافات میں پہلی بڑی عو...
مزید پڑھیں
اگرچہ 1879 میں ایڈیسن نے بجلی کا بلب تیار کر لیا تھا اور 1882 میں انہوں نے نیویارک میں Pearl Street Power Station کے ذریعے کمرشل سطح پر عوامی مقامات کو روشن بھ...
مزید پڑھیں
امریکا کی بڑی ریل کمپنی پین سینٹرل نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا۔ کمپنی کے پاس ریل نیٹ ورک کے علاوہ وسیع اراضی، ٹرمینلز، ہوٹلوں اور ریلوے سے منسلک تجارتی جائیداد...
مزید پڑھیں
1919: 3 جون 1919 کو لندن میں ہیلیکل بار اینڈ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ کمپنی ابتدا میں تعمیراتی صنعت کے لیے مضبوطی فراہم کرنے والا سٹیل تیار ا...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!