Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

29 November

Home
2 Historical Event found for 29 November
1

29 نومبر 1912

برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے بڑے پیمانے پر حصول کی قانونی بنیاد فراہم کی۔

یہ نوٹیفکیشن 1911 کے دہلی دربار کے بعد سامنے آیا، جب بادشاہ جارج پنجم نے دارالحکومت کو کولکتہ سے دہلی منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا اور برطانوی حکومت کو اس نئے شہر کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب اور فوری اراضی کی فراہمی درکار تھی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق Land Acquisition Act 1894 کی دفعہ تین اور چھ کے تحت دہلی کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو لازمی حصول کی حدود میں شامل کیا گیا، جن میں Raisina Hill، Malcha، Revenue District Mehrauli، اور دریائے جمنا کے مغربی کنارے تک کے وسیع رقبے شامل تھے۔

حاصل کی جانے والی زمین میں وہ تمام علاقے شامل تھے جنہیں وائسرائے ہاؤس، مرکزی سیکریٹریٹ، سول لائنز، مرکزی ایونیو اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن میں برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ نئی دہلی صرف ایک سیاسی شہر نہیں ہوگا بلکہ جدید منصوبہ بندی سے بنایا گیا مرکزی شہری مرکز ہوگا جہاں سرکاری ادارے، شاہراہیں، رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز ہوں گے۔

گورنمنٹ ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی زیادہ تر زرعی، جنگلاتی اور چھوٹے دیہاتی استعمال کی حامل تھی، جسے برطانوی حکومت نے ایک مربوط شہری منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے Town Planning Committee 1912 کی سفارشات پر شامل کیا۔

اس نوٹیفکیشن کے ذریعے کلکٹر دہلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر زمین کا سروے، حد بندی، نقشہ سازی، تخمینہ کاری، مقامی ریکارڈ کی تصدیق اور حصول کی کارروائی مکمل کرے، تاکہ ڈی لوٹیئنز دہلی بروقت تعمیر کیا جا سکے۔

ڈی لوٹیئنز (Lutyens Delhi) نئی دہلی کا وہ علاقہ ہے جسے برطانوی آرکیٹیکٹ سر ایڈون لوٹیئنز نے پلان کیا تھا۔ اس حصے میں وائسرائے ہاؤس (موجودہ راشٹرپتی بھون)، پارلیمنٹ ہاؤس، نارتھ بلاک، ساوتھ بلاک اور مرکزی سیکریٹریٹ جیسی اہم سرکاری عمارتیں بنائی گئیں۔ چوڑی سڑکوں اور منظم اربن پلان کی وجہ سے یہ علاقہ آج نئی دہلی کی اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

29 نومبر 1912 کا یہ گزٹ نوٹیفکیشن برصغیر کی اراضی کے حصول، شہری منصوبہ بندی، نوآبادیاتی طرزِ تعمیر اور زمین کے ریاستی کنٹرول کی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

برطانوی حکومت کے یہ سرکاری ریکارڈ آج نیشنل آرکائیوز آف انڈیا اور برٹش لائبریری کے India Office Records میں محفوظ ہیں، جہاں 29 نومبر 1912 کی اسی کارروائی کو نئی دہلی کے قیام کی اصل بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

Views
4
2

29 نومبر 1947

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے برطانوی فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے برطانوی فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا

▫رئیل اسٹیٹ، زمین، شہروں کی تقسیم، زرعی اراضی، صنعتی خطے، ساحلی پٹی، نقل و حمل کے راستوں کے لیے boundaries اور عالمی جغرافیے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی تاریخی خبر۔

▫اس قرارداد کو نہ ماننے کا خمیازہ آج تک فلسطین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے دوسرے سیشن میں قرارداد 181 منظور کی جسے عالمی تاریخ میں United Nations Partition Plan for Palestine کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے جنرل اسمبلی نے برطانوی زیرِ انتظام فلسطین کو دو الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی: ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست۔ اس کے ساتھ ساتھ یروشلم اور بیت اللحم کے علاقے کو ایک International Trusteeship کے تحت رکھنے کی تجویز دی گئی، تاکہ مذہبی اہمیت اور انتظامی حساسیت کے باعث اسے عالمی نگرانی میں چلایا جا سکے۔

اس قرارداد کے حق میں 33 اور مخالفت میں 13 ووٹ آئے جبکہ 10 ممالک نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔

یہ تاریخی منصوبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے خصوصی کمیٹی برائے فلسطین

United Nations Special Committee on Palestine (UNSCOP)

نے پیش کیا، جو مئی 1947 میں جنرل اسمبلی کی بنائی گئی ایک خصوصی کمیٹی تھی۔

اس کمیٹی میں گیارہ غیر جانب دار ممالک شامل تھے اور ان کا مقصد برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے کے بعد فلسطین کے مستقبل کے سیاسی انتظام پر بین الاقوامی حل تجویز کرنا تھا۔ UNSCOP نے کئی ماہ تک فلسطین میں زمینی مشاہدہ، سماعتیں اور انکوائریاں کیں اور آخرکار اپنی حتمی رپورٹ پیش کی جس میں قرارداد کے نقشے، سرحدی لائنیں، ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش، زرعی اراضی، صنعتی خطے، ساحلی پٹی اور نقل و حمل کے راستوں تک کے لیے تفصیلی boundaries مقرر کی گئیں۔ یہ منصوبہ دنیا کے سب سے زیادہ documented land division plans میں شمار ہوتا ہے، جس میں پہلی مرتبہ کسی خطے کی مستقبل کی ریاستی شکل کو بین الاقوامی ووٹ کے ذریعے تعین کیا گیا۔

مگر یہ منصوبہ کبھی نافذ نہ ہو سکا۔ عرب ریاستوں اور فلسطینی قیادت نے اسے ناانصافی قرار دے کر مسترد کیا، اور 1948 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قرارداد میں دی گئی حد بندیوں سے کہیں زیادہ علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

بعد ازاں 1949 کی گرین لائن، 1967 کی جنگ، فوجی قبضوں، سیاسی مذاکرات اور اوسلو معاہدوں کے نتیجے میں موجودہ اسرائیلی اور فلسطینی حدود قائم ہوئیں، جو قرارداد 181 کے نقشے کی پیروی نہیں کرتیں۔

فلسطین کو قرارداد 181 کے نہ ماننے پر بعد اپنی مجوزہ ریاست سے محرومی کا سامنا ہوا اور 1948 اور 1967 کی جنگوں نے اس نقصان کو مزید بڑھا دیا۔ عرب ریاست کے لیے مختص علاقہ عملی طور پر اسرائیلی قبضوں میں چلا گیا، 1949 کی گرین لائن نے فلسطینی سرزمین کو محدود کر دیا اور 1967 کے بعد کے کنٹرول نے غزہ، ویسٹ بینک اور یروشلم کو الگ الگ انتظامات میں تقسیم کر دیا۔ یوں ایک مکمل اور خود مختار فلسطینی ریاست کا تصور کاغذی نقشوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

آج کی صورت حال یہ ہے کہ تاریخ کی موجودہ طویل ترین اور تباہ کن جنگ (2023-2025) کے بعد فلسطین اور اسرائیل دونوں بربادی کی کیفیت میں کھڑے ہیں، خاص طور پر غزہ کی ساحلی پٹی مکمل طور پر اجڑ چکی ہے۔ اور اسی تباہ شدہ خطے کے بارے میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات کر رہے ہیں کہ جنگ کے بعد یہاں ایک Riviera بنایا جا سکتا ہے۔

(قوام متحدہ کی آفیشل دستاویزات، جنرل اسمبلی کے ریکارڈ، Encyclopaedia Britannica، BBC Archives اور Al Jazeera Timeline سب اس واقعے کو 29 نومبر 1947 کی تاریخ پر کنفرم کرتے ہیں۔)

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیو: سیکشن انٹرنیشل پالیٹکس
Views
7

مزید خبریں "On This Date" سے

کینیا نے ابھرتی ہوئی شہری بستیوں کے انتظام کے لیے ابتدائی ٹاؤن شپ ہاؤسنگ قوانین متعارف کرائے
کینیا نے ابھرتی ہوئی شہری بستیوں کے انتظام کے لیے ابتدائی ٹاؤن شپ ہاؤسنگ قوانین متعارف کرائے

16 نومبر 1911 کو برٹش ایسٹ افریقہ پروٹیکٹوریٹ (موجودہ کینیا) نے ریلوے تجارت کے راستوں کے ساتھ بنتی ہوئی بے ترتیب بستیوں کو منظم کرنے کے لیے ابتدائی ٹاؤن شپ ہاؤسنگ قوانین جاری کیے۔ ان قوانین میں پلا�...

مزید پڑھیں
ہندوستان میں زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کے قانون (LARR) کا نفاذ
ہندوستان میں زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کے قانون (LARR) کا نفاذ

اکتوبر 2013 میں ہندوستان نے زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کا قانون 2013 (LARR) نافذ کرنا شروع کیا، جو جنوبی ایشیا میں زمین کی گورننس سے متعلق سب سے بڑی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون ستمبر ...

مزید پڑھیں
The Establishment of the Formal Housing Finance System
The Establishment of the Formal Housing Finance System

12 جنوری 1831 کو عالمی ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے زمین اور مکان کو اشرافیہ کی ملکیت سے نکال کر عام آدمی کی دسترس میں لا کھڑا کیا۔ اسی روز امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں دنیا...

مزید پڑھیں
ماستریخت معاہدے نے متحدہ یورپی پراپرٹی مارکیٹ تشکیل دی
ماستریخت معاہدے نے متحدہ یورپی پراپرٹی مارکیٹ تشکیل دی

3 نومبر 1993 کو ماستریخت معاہدے کے نفاذ نے یورپی رئیل اسٹیٹ مارکیٹوں میں انقلاب برپا کر دیا، جس نے متحدہ پراپرٹی سرمایہ کاری زون کے لیے فریم ورک قائم کیا۔ معاہدے میں سرمائے اور افراد کی آزادانہ نق�...

مزید پڑھیں
ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو ہجوم نے شہید کر دیا۔
ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو ہجوم نے شہید کر دیا۔

6 دسمبر 1992 کو بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو ایک ہجوم کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ برصغیر کی جدید تاریخ میں مسلمانوں کے لیے ایک شدید مذہبی صدمہ ثابت ہوا اور ساتھ ہی زمی...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date