From Real Estate History
On the 12th of January 1831, a pivotal moment in the annals of global real estate transpired, heralding a transformation in the ownership of land and dwellings from the preserve of the elite to a domain accessible to the broader populace. It was on this date that the inaugural Building and Loan Association, designated as the Oxford Provident, was instituted in the city of Philadelphia, within the United States of America.
This institution was predicated upon the ethos of mutual collaboration, whereby individuals of modest means amalgamated their savings to furnish loans amongst themselves for the erection of domestic habitations. Such a cooperative paradigm subsequently constituted the bedrock of contemporary housing finance mechanisms, encompassing mortgage arrangements and residential lending structures.
This seminal advancement represented the inaugural formal empowerment of the middling classes to acquire private residences. Land, which for epochs had epitomised the authority and societal pre-eminence of monarchs, aristocracy, and substantial proprietors, progressively assumed the character of an achievable economic commodity for the common citizenry.
Through this apparatus, the systematic augmentation of urban settlements was facilitated, and the domain of real estate matured into a regulated economic sector.
The occurrence of 12 January 1831 is universally acknowledged as the conceptual cornerstone of modern metropolises, residential developments, financial banking practices, and urban orchestration. The prevailing housing finance apparatuses operative across the globe, inclusive of those in Pakistan, derive their foundational principles from this epochal juncture.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
12 جنوری 1831 کو عالمی ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے زمین اور مکان کو اشرافیہ کی ملکیت سے نکال کر عام آدمی کی دسترس میں لا کھڑا کیا۔ اسی روز امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں دنیا کی پہلی Building and Loan Association یعنی آکسفورڈ پروویڈنٹ کا قیام عمل میں آیا۔
یہ ادارہ باہمی تعاون کے اصول پر قائم کیا گیا، جہاں عام شہری اپنی محدود بچتیں جمع کرتے اور انہی مشترکہ وسائل سے ایک دوسرے کو مکان تعمیر کرنے کے لیے قرض فراہم کیا جاتا۔ یہی ماڈل آگے چل کر جدید ہاؤسنگ فنانس، مورگیج اور ہوم لون نظام کی بنیاد بنا۔
اس تاریخی اقدام نے پہلی مرتبہ متوسط طبقے کو یہ حق دیا کہ وہ اپنی ذاتی رہائش کا مالک بن سکے۔ زمین، جو صدیوں تک بادشاہوں، نوابوں اور بڑے زمینداروں کی طاقت اور سماجی برتری کی علامت سمجھی جاتی تھی، رفتہ رفتہ ایک عام شہری کے لیے قابلِ حصول اثاثہ بننے لگی۔ اسی نظام کے تحت شہری آبادیوں کی منصوبہ بند توسیع ممکن ہوئی اور ریئل اسٹیٹ ایک باقاعدہ معاشی صنعت کی صورت میں سامنے آئی۔
12 جنوری 1831 کو ہونے والا یہ واقعہ آج کے جدید شہروں، رہائشی اسکیموں، بینک فنانسنگ اور شہری منصوبہ بندی کی فکری بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں جو ہاؤسنگ فنانس نظام رائج ہے، اس کی فکری جڑیں اسی تاریخی دن سے جا ملتی ہیں۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
25 اکتوبر 1992 کو حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس پالیسی متعارف کرائی جس کا مقصد عوام کے لیے گھر کی ملکیت کو آسان بنانا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا تھا۔ اس پالیسی سے بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنان�...
مزید پڑھیں
5 نومبر 1987 کو پاکستان کی حکومت نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی رہائشی پالیسی منظور کی۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں کم آمدنی والے خاندانوں کو زمین کے حقو...
مزید پڑھیں
15 نومبر 1986 کو گجرات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بڑھتی ہوئی آبادی اور منظم رہائشی توسیع کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماڈل ٹاؤن گجرات ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ 1980 کی دہائی میں بیرون ملک ترسیلات اور مقامی...
مزید پڑھیں
اکتوبر 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ کے بادل برصغیر پر چھا گئے، لاہور برطانوی پنجاب کا نہ صرف انتظامی مرکز تھا بلکہ فوجی و تجارتی سرگرمیوں کا بھی اہم گڑھ تھا۔ انہی دنوں پنجاب حکومت نے لاہور کو “War-Ti...
مزید پڑھیں
آج کے دن، 8 اکتوبر 2005 کو، 7.6 شدت کا خوفناک زلزلہ شمالی پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے پہاڑی علاقوں سے ٹکرایا — یہ پاکستان کی تاریخ کے مہلک ترین قدرتی سانحات میں سے ایک تھا۔ صرف چند منٹوں میں �...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!