From Real Estate History
On November 15, 1910 the municipal government of Cape Town, South Africa created its first Public Housing Works Department to address deteriorating living conditions in overcrowded worker settlements. As industrial activity expanded around the Cape docks and railway yards, thousands of laborers lived in unhealthy informal quarters with no sanitation or structural regulation. The new department introduced properly built brick housing blocks, sanitation rules, public water points, and standardized street layouts. This marked the beginning of municipal-controlled housing reform in Cape Town and laid the foundation for early township planning. It also influenced later large-scale urban expansions, including the development of Langa township in the 1920s. The policy shifted worker housing from unregulated shacks to organized residential clusters, improving public health and shaping South Africa’s early urban real estate governance.
▪ Reference(s):
15 نومبر 1910 کو جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کی میونسپل حکومت نے مزدور بستیوں کی خراب ہوتی ہوئی رہائشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا پہلا پبلک ہاؤسنگ ورکس ڈپارٹمنٹ قائم کیا۔ صنعتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ ہزاروں مزدور غیر صحت مند اور بے ترتیب بستیوں میں رہتے تھے جن میں صفائی اور تعمیراتی قواعد کا کوئی نظام نہ تھا۔ نئے ڈپارٹمنٹ نے باقاعدہ اینٹوں کے مکانات، صفائی کے اصول، عوامی پانی کے پوائنٹس اور منظم گلیوں کے نقشے متعارف کروائے۔ یہ کیپ ٹاؤن میں میونسپل سطح پر ہاؤسنگ ریفارم کی ابتدا تھی جس نے بعد میں لانگا ٹاؤن شپ جیسے منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ اس پالیسی نے مزدوروں کو غیر رسمی جھگیوں سے نکال کر منظم رہائشی کلسٹرز میں منتقل کیا اور جنوبی افریقہ کی ابتدائی شہری رئیل اسٹیٹ پالیسیوں کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
On November 15, 1986 the Gujrat Development Authority launched the Model Town Gujrat Housing Scheme to address rising population pressure and the need for organized residential expansion. During the 1980s Gujrat was transitioning from a semi-rural district center to a rapidly urbanizing city influenced by overseas remittances and growing domestic industries. The new scheme introduced planned residential sectors, paved roads, a drainage layout, green belts, and designated commercial pockets. It provided urban families with properly sized plots and modernized housing standards, reducing the spread of unregulated neighborhoods across the city. The project also encouraged small and mid-level real estate investment by offering transparent plot allotment rather than informal land subdivision. Urban planners later viewed Model Town as one of Gujrat’s earliest structured housing developments, influencing subsequent schemes such as Gulberg Colony and Service Colony extensions.
▪ Reference(s):
15 نومبر 1986 کو گجرات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بڑھتی ہوئی آبادی اور منظم رہائشی توسیع کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماڈل ٹاؤن گجرات ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ 1980 کی دہائی میں بیرون ملک ترسیلات اور مقامی صنعتوں کی ترقی کے باعث گجرات تیزی سے شہری مرکز بنتا جا رہا تھا۔ اس نئی اسکیم میں منصوبہ بند رہائشی سیکٹر، پختہ سڑکیں، نکاسیِ آب کا نظام، سبزہ زار اور مخصوص کمرشل زون شامل کیے گئے۔ اس نے شہری خاندانوں کو معیاری اور منظم رہائشی سہولیات فراہم کیں اور شہر میں بے ترتیب آبادکاری کے پھیلاؤ کو کم کیا۔ شفاف پلاٹ الاٹمنٹ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا کیے۔ ماہرین کے مطابق ماڈل ٹاؤن گجرات شہر کی ابتدائی منصوبہ بند رہائشی اسکیموں میں سے ایک تھی جس نے بعد کی اسکیموں جیسے گلبرگ کالونی اور سروس کالونی کی توسیعات کو متاثر کیا۔
30 اکتوبر 1980 کو پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنی پہلی جامع ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا، جس نے قومی رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے نقطہ نظر میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کی۔ اس پالیسی نے سستی رہائ�...
مزید پڑھیں
▫️27 نومبر 1962 کا فیصلہ بعد میں ایل ڈی اے کی تشکیل کی بنیاد ثابت ہوا 27 نومبر 1962 کو لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ (LIT) نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ دریائے راوی کے مغربی کنارے پر باقاعدہ شہری توسیع...
مزید پڑھیں
پاکستان بھر میں 31 دسمبر کو ریونیو نظام کا سالانہ Close قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت بورڈ آف ریونیو کے ماتحت زمین اور جائیداد سے متعلق تمام ریکارڈ سال کے حساب سے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں پٹوار ...
مزید پڑھیں
23 جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے پنجاب اراضی تصرفات تحفظِ شاملات آرڈیننس 1959 (Punjab Land Dispositions Saving of Shamilat Ordinance 1959) جاری کیا۔ اس آرڈیننس کے ذریعے دیہات کی مشترکہ ...
مزید پڑھیں31 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد کے معروف بلیو ایریا میں کامرشل پراپرٹی کی قیمتوں نے نئی بلندیوں کو چھوا، جو دارالحکومت کے بطور کاروباری مرکز اُبھرنے کی علامت تھی۔ قیمتوں میں 45 فیصد سالانہ اضافہ کارپو...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!