From Real Estate History
On November 17, 1982, the Chinese government initiated the Shenzhen Special Housing Corridor, one of the earliest urban housing reforms designed to manage the massive influx of workers entering the new Special Economic Zone (SEZ). Shenzhen, which had transformed from a fishing town into an industrial magnet in just two years, lacked proper housing for factory labor. The new corridor project introduced multi-story dormitory blocks, standardized apartment units, dedicated utility pipelines, and a grid-style urban layout. It became China’s first experiment where housing and industrial growth were planned together. The project helped stabilize Shenzhen’s workforce by providing affordable accommodation within walking distance of manufacturing hubs. It also influenced China’s national housing policy, encouraging the development of worker housing towns across Guangzhou, Shanghai, and Tianjin. Urban historians regard the 1982 Shenzhen corridor as the foundation of China’s modern megacity planning model, where economic zones and residential zones grow systematically and simultaneously.
▪ Reference(s):
17 نومبر 1982 کو چینی حکومت نے شینزین اسپیشل ہاؤسنگ کوریڈور کا آغاز کیا، جو تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتی افرادی قوت کے لیے متعارف کروائی گئی ابتدائی شہری ہاؤسنگ اصلاحات میں سے ایک تھا۔ شینزین، جو محض دو سال میں مچھلیوں کے گاؤں سے ایک صنعتی مرکز میں بدل چکا تھا، فیکٹری مزدوروں کے لیے مناسب رہائش سے محروم تھا۔ اس ہاؤسنگ کوریڈور میں کئی منزلہ ڈارمیٹری بلاکس، معیاری اپارٹمنٹس، بجلی و پانی کی خصوصی لائنیں، اور گرڈ طرز کا شہری نقشہ شامل تھا۔ یہ چین کا پہلا تجربہ تھا جس میں رہائش اور صنعت کو ساتھ ساتھ منصوبہ بند کیا گیا۔ اس منصوبے نے مزدوروں کو سستی رہائش فراہم کر کے صنعتی پیداواری عمل کو مستحکم کیا، اور بعد میں گوانگژو، شنگھائی اور تیانجن میں ورکر ہاؤسنگ ٹاؤنز کے قیام پر بھی اثر ڈالا۔ شہری ماہرین کے مطابق 1982 کا یہ منصوبہ چین کے جدید میگا سٹی ماڈل کی بنیاد ثابت ہوا جس میں معاشی زون اور رہائشی علاقے بیک وقت اور منظم انداز میں بڑھتے ہیں۔
On November 17, 1994, the Peshawar Development Authority (PDA) began its first Ring Road Housing Expansion Scheme to reduce congestion inside the historical core of Peshawar. By the mid-1990s, Hayatabad, Gulbahar and inner Saddar were experiencing severe residential pressure due to migration from tribal districts and rising commercial activity. The new Ring Road expansion introduced structured residential zones, planned 30–40 ft streets, electrification corridors, storm-water drains, and reserved land for parks and schools. This marked one of the first attempts to decentralize Peshawar’s population and push housing growth outward rather than inward. The plan attracted middle-income families and small real estate developers, resulting in early settlements around Palosi, Pishtakhara, and Kohat Road junctions. Urban experts see the 1994 expansion as a defining shift that redirected Peshawar’s urban footprint and laid the groundwork for later developments such as Regi Model Town and Ring Road Phase-II. The initiative helped formalize land-use rules, reduced traffic burden in the walled city, and signaled Peshawar’s transformation from a compact historic town into a structured metropolitan region.
▪ Reference(s):
17 نومبر 1994 کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) نے اندرون شہر کے شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے پہلی رنگ روڈ ہاؤسنگ توسیع اسکیم کا آغاز کیا۔ 1990 کی دہائی کے وسط تک حیات آباد، گل بہار اور صدر کے اندرونی علاقے مسلسل ہجرت، قبائلی اضلاع سے آمد اور بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کے باعث شدید رہائشی دباؤ کا شکار تھے۔ رنگ روڈ کی اس توسیع میں باقاعدہ رہائشی زون، 30 تا 40 فٹ کی منصوبہ بند سڑکیں، بجلی کی لائنیں، نکاسی آب کا نظام، اور پارکس و اسکولوں کے لیے مختص زمین شامل تھی۔ یہ پشاور کی آبادی کو مرکز سے اطراف کی طرف منتقل کرنے کی پہلی منظم کوششوں میں سے ایک تھی۔ اس منصوبے نے متوسط طبقے اور چھوٹے رئیل اسٹیٹ ڈیویلپرز کو راغب کیا، جس کے نتیجے میں پلوسی، پشتاخارہ اور کوہاٹ روڈ انٹرچینج کے قریب ابتدائی بستیاں وجود میں آئیں۔ ماہرین کے مطابق 1994 کی یہ توسیع پشاور کے شہری نقشے کی سمت بدلنے کا سنگ میل ثابت ہوئی اور ریگی ماڈل ٹاؤن اور رنگ روڈ فیز II جیسے منصوبوں کی بنیاد بنی۔ اس اقدام نے لینڈ یوز کے اصولوں کو مضبوط کیا، اندرون شہر کی ٹریفک میں کمی کی، اور پشاور کو ایک منظم میٹروپولیٹن خطے کی طرف منتقل کیا۔
برلا بھون لٹینز زون دہلی کے اندر واقع ہے، جو ہندوستان کا سب سے پوش، محفوظ اور مہنگا ترین رہائشی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں غیر ملکی سفیروں کی رہائش گاہیں، مرکزی وزراء کی کوٹھیاں اور ...
مزید پڑھیں
اگر ہم ٹھیک ایک صدی پیچھے جائیں تو 23 دسمبر 1925 وہ دن تھا جب امریکہ کی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا مشہور ترین “فلوریڈا لینڈ بوم” اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ فلوریڈا، خصوصاً میامی اور پام بیچ میں لوگوں میں �...
مزید پڑھیں
29 دسمبر 1835 کو امریکہ کی ریاست جارجیا میں ایک قانونی معاہدہ طے پایا جسے تاریخ میں Treaty of New Echota کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ زمین کی ملکیت، ریاست کے اختیارات اور قبائلی حقوق کے حوالے سے امریکی تاریخ کا ا...
مزید پڑھیں27 اکتوبر 2022 کو، پاکستان نے پراپرٹی رجسٹریشن کی ڈیجیٹلائزیشن میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا، جس نے پروسیسنگ کے اوقات کو نمایاں طور پر کم کیا اور لین دین کی شفافیت کو بہتر بنایا۔ جامع ڈیجیٹل تبدیلی �...
مزید پڑھیں
19 اکتوبر 1895 کو تعمیراتی صنعت نے ایک انقلابی دور میں قدم رکھا جب آسمان چھوتی عمارتوں کے لیے اسٹیل فریم ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا۔ اس جدت نے تعمیرات اور انجینئرنگ کے روایتی طریقوں کو م...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!