Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

29 December

Home
2 Historical Event found for 29 December
1

29 دسمبر 1845

ٹیکساس کا امریکہ سے الحاق

 ٹیکساس کا امریکہ سے الحاق

29 دسمبر 1845 کو ٹیکساس باضابطہ طور پر امریکہ کی اٹھائیسویں ریاست بنا۔ یہ واقعہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ زمینی ملکیت اور رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ کا ایک غیر معمولی موڑ ثابت ہوا۔ اس ایک دن کے فیصلے کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ اٹھسٹھ ہزار یعنی 259000 مربع میل، یعنی لگ بھگ چھ لاکھ پچانوے ہزار مربع کلومیٹر رقبہ امریکی حکومت کے دائرہ اختیار میں آ گیا۔

ٹیکساس کی حیثیت اس لیے منفرد تھی کہ یہ خطہ پہلے ایک آزاد جمہوریہ رہ چکا تھا۔ یہاں زمینیں پہلے سے آباد تھیں۔ زراعت ہو رہی تھی۔ نجی اور اجتماعی ملکیت کے دعوے موجود تھے۔

چنانچہ جب ٹیکساس امریکہ میں شامل ہوا تو یہ تمام زمینیں ایک ہی دن میں امریکی آئینی اور قانونی نظام کے تحت آ گئیں۔ اس عمل نے زمین کی رجسٹریشن، لینڈ کلیمز، زرعی ملکیت اور مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کو امریکی کلچر کے زیر اثر ایک بالکل نئے فریم ورک میں منتقل کر دیا، جہاں ملکیت کے تصورات، قانونی دستاویزات، حد بندی کے اصول اور شہری توسیع کا انداز مقامی روایت کے بجائے وفاقی امریکی نظام کے مطابق ڈھلنے لگا۔

تاریخ میں اس الحاق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کسی خودمختار ریاست کے امریکہ میں شامل ہونے سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا زمینی رقبے کا اضافہ تھا۔ یہ رقبہ اس وقت کئی یورپی ممالک سے بڑا تھا اور اسی نے امریکی پراپرٹی مارکیٹ کو جنوبی اور مغربی سمت میں پھیلنے کا راستہ دیا۔ بعد کے برسوں میں یہی زمینیں بڑے زرعی اسٹیٹس، ریلوے منصوبوں، صنعتی مراکز اور نئے شہروں کی بنیاد بنیں۔

ٹیکساس کے الحاق کا سب سے بڑا فائدہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کو یہ بھی ہوا کہ اس کی طویل ساحلی پٹی نے امریکہ کو خلیجِ میکسیکو تک ایک مضبوط رسائی فراہم کی۔

اس جغرافیائی تبدیلی کا ایک اور فائدہ سمندر سے دور واقع لینڈ لاکڈ ریاستوں کی معاشی ترقی کی صورت میں سامنے آیا۔ ٹیکساس کی بندرگاہوں کے قیام اور ترقی سے اندرونی علاقوں کی زرعی اور صنعتی پیداوار کے لیے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا ایک نیا اور آسان راستہ کھل گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جب ریلوے کے وسیع جال اور دریاؤں کے مربوط نظام نے ان لینڈ لاکڈ ریاستوں کو ٹیکساس کے ساحلوں تک رسائی دی تو یہ اندرونی علاقے بھی عالمی تجارت کے دھارے میں شامل ہو گئے۔ یوں ٹیکساس کا الحاق امریکہ کی مجموعی معاشی خوشحالی کے لیے ایک تدریجی مگر نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

مستند حوالہ جات
▫️ ٹیکساس اسٹیٹ ہسٹوریکل ایسوسی ایشن
ہینڈ بک آف ٹیکساس
▫️ لائبریری آف کانگریس
ٹیکساس کے الحاق سے متعلق تاریخی ریکارڈ
Views
33
2

29 دسمبر 1885

معاہدہ نیو ایکوٹا جب ایک اقلیتی گروہ نے پوری قوم اور ملک کا سودا کر لیا۔

معاہدہ نیو ایکوٹا جب ایک اقلیتی گروہ نے پوری قوم اور ملک کا سودا کر لیا۔

29 دسمبر 1835 کو امریکہ کی ریاست جارجیا میں ایک قانونی معاہدہ طے پایا جسے تاریخ میں Treaty of New Echota کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ زمین کی ملکیت، ریاست کے اختیارات اور قبائلی حقوق کے حوالے سے امریکی تاریخ کا ایک متنازع اور سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب امریکہ میں جنوب مشرقی ریاستیں خصوصاً جارجیا، الاباما اور ٹینیسی زرعی معیشت کا مرکز بن چکی تھیں، کپاس کی کاشت (Cotton Economy) تیزی سے پھیل رہی تھی اور زرخیز زمینوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ ان علاقوں میں مقامی قبائل بالخصوص چیریکی (Cherokee) قوم کی ملکیت میں وسیع رقبہ موجود تھا، جو امریکی توسیعی پالیسی (Westward Expansion) کے راستے میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔

اس پس منظر میں 1830 میں امریکی کانگریس نے Indian Removal Act منظور کیا، جس کے تحت مقامی قبائل کو دریائے مسیسیپی کے مشرق سے مغرب کی جانب منتقل کرنے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی۔ نیو ایکوٹا کا معاہدہ اسی پالیسی کا عملی نتیجہ تھا۔

29 دسمبر 1835 کو یہ معاہدہ چیریکی قوم کے اس وقت کے دارالحکومت New Echota میں طے پایا۔ معاہدے کے مطابق چیریکی قوم نے مسیسیپی کے مشرق میں واقع اپنی تمام زمینیں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً سات ملین ایکڑ (Seven Million Acres) بنتا تھا، امریکی حکومت کے حوالے کر دیں۔ اس کے بدلے حکومت نے پانچ ملین ڈالر (Five Million Dollars) بطور معاوضہ ادا کرنے اور مغرب میں متبادل زمین فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ رقبہ موجودہ ریاست اوکلاہوما کے علاقے میں واقع تھا، جسے اس دور میں Indian Territory کہا جاتا تھا۔

قانونی اعتبار سے اس معاہدے کا سب سے اہم اور متنازع پہلو نمائندگی (Representation) کا مسئلہ تھا۔ اس معاہدے پر چیریکی قوم کی منتخب قیادت یا قومی کونسل نے دستخط نہیں کیے۔ چیریکی فریق کی جانب سے دستخط کرنے والے افراد ایک محدود سیاسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جن میں Major Ridge، John Ridge، Elias Boudinot اور Stand Watie شامل تھے۔ بعد ازاں اس گروہ کو Ridge Party کے نام سے جانا گیا۔ چیریکی قوم کے منتخب سربراہ John Ross اور اکثریتی کونسل نے اس معاہدے کو غیر قانونی (Invalid) اور قوم کی اجتماعی مرضی کے خلاف قرار دیا۔

امریکی حکومت کی نمائندگی John F. Schermerhorn نے کی، جو وفاقی کمشنر (Federal Commissioner) تھے۔ اس کے باوجود کہ چیریکی اکثریت نے معاہدہ مسترد کر دیا تھا، امریکی سینیٹ نے اسے محض ایک ووٹ کی برتری سے منظور کر لیا۔ اس منظوری نے معاہدے کو وفاقی قانون (Federal Law) کا درجہ دے دیا اور ریاستی طاقت کے استعمال کی راہ ہموار ہو گئی۔

اس معاہدے کو نہ مانتے ہوئے چیریکی قوم کی ایک بڑی تعداد نے اپنی زمینیں چھوڑنے سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں امریکی فوج نے جبری بے دخلی (Forced Removal) کا عمل شروع کیا۔ 1838 اور 1839 کے دوران ہزاروں چیریکی افراد کو حراستی کیمپوں میں جمع کیا گیا اور پھر مغرب کی طرف منتقل کیا گیا۔ یہ عمل تاریخ میں Trail of Tears (آنسوؤں کا راستہ) کے نام سے درج ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً سولہ ہزار چیریکی باشندوں کو جبری طور پر ان کی آبائی زمینوں سے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ اس سفر کا فاصلہ اوسطاً بارہ سو میل (Twelve Hundred Miles) تھا، جو پیدل، کشتیوں اور محدود سواری کے ذریعے طے کیا گیا۔ سرد موسم، ناکافی خوراک، بیماریوں اور ناقص انتظامات کے باعث اندازاً چار ہزار افراد اس دوران ہلاک ہوئے۔ چیریکی زبان میں اس سفر کو Nu na da ut sun y کہا جاتا ہے، جس کا مفہوم ہے وہ راستہ جہاں رونا پڑا۔

مغرب میں پہنچنے کے بعد چیریکی قوم نے اوکلاہوما میں دوبارہ اپنی سیاسی اور سماجی ساخت قائم کی۔ انہوں نے Tahlequah کو اپنا نیا دارالحکومت بنایا، آئینی حکومت، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور اخبارات دوبارہ منظم کیے۔ تاہم قانونی طور پر ان کی سابقہ زمینوں پر ملکیتی حقوق ختم تصور کیے گئے۔

یہ معاملہ جدید دور میں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ 2020 میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے McGirt v. Oklahoma نے یہ تسلیم کیا کہ اوکلاہوما کا ایک بڑا حصہ قانونی طور پر اب بھی قبائلی ریزرویشن کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ پرانے معاہدوں کو کبھی باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے زمین، دائرہ اختیار (Jurisdiction) اور پراپرٹی قانون پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

نیو ایکوٹا کے معاہدے (Treaty of New Echota) اور اس کے بعد ہونے والی چیریکی قوم کی جبری منتقلی پر متعدد سنجیدہ دستاویزی فلمیں اور ڈاکیو ڈراماز موجود ہیں جو تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر اس سانحے کو محفوظ کرتی ہیں۔ ان میں Trail of Tears: Cherokee Legacy اور PBS کی سیریز We Shall Remain نمایاں ہیں، جو Indian Removal Act اور Treaty of New Echota کے قانونی اور سیاسی اثرات کو بیان کرتی ہیں کہ کس طرح Treaties (معاہدات) اور Federal Policy (وفاقی پالیسی) کے ذریعے زمین کی ملکیت اور آبادی کی جغرافیائی ترتیب کو تبدیل کیا گیا۔

نیو ایکوٹا کا معاہدہ سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیوز میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ یہ جبری معاہدہ یاد دلاتا رہے کہ کس طرح ریاستی پالیسی، قانونی معاہدے اور معاشی مفادات مل کر عام انسان کی زمین کی ملکیت کو غصب کر سکتے ہیں۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

حوالہ جات
▫️ نیشنل آرکائیوز (USA)
یہ معاہدہ Record Group 11 کے تحت محفوظ ہے۔ اس کا پورا نام
“Treaty between the United States and the Cherokee Nation of Indians” ہے۔
▫️ Statutes at Large
امریکی وفاقی قوانین کی کتاب (7 Stat. 478)۔ اس میں اس معاہدے کا مکمل متن اور اس پر دستخط کرنے والوں کے نام موجود ہیں
Views
40

مزید خبریں "On This Date" سے

اسلام آباد کے پہلے سمارٹ سٹی پروجیکٹ کا آغاز
اسلام آباد کے پہلے سمارٹ سٹی پروجیکٹ کا آغاز

27 اکتوبر 2020 کو، پاکستان نے اسلام آباد میں اپنا پہلا جامع سمارٹ سٹی پروجیکٹ لانچ کیا، جو شہری ترقی اور رئیل اسٹیٹ انوویشن میں ایک بڑی پیشرفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ پراجیکٹ نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، س...

مزید پڑھیں
نیو یارک کے سینٹرل پارک کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کا انتخاب  جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی بنیاد
نیو یارک کے سینٹرل پارک کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کا انتخاب جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی بنیاد

7 نومبر 1857 کو ریاست نیویارک کی حکومت نے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کے تیار کردہ سینٹرل پارک کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دی — یہ جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل تھا۔ 19...

مزید پڑھیں
 براعظموں کے اپنی جگہ سے سرکنے کا نظریہ پیش کیا گیا
براعظموں کے اپنی جگہ سے سرکنے کا نظریہ پیش کیا گیا

6 جنوری 1912 کو جرمن ماہرِ ارضی طبیعیات اور موسمیات الفریڈ ویگنر (Alfred Wegener) نے فرینکفرٹ میں واقع Senckenberg Museum میں جرمن جیالوجیکل ایسوسی ایشن کے اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ براعظموں کے سرکنے (Continental Drift) ...

مزید پڑھیں
پاکستان نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور اپگریڈ کرنے کی پالیسی کی منظوری دی
پاکستان نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور اپگریڈ کرنے کی پالیسی کی منظوری دی

5 نومبر 1987 کو پاکستان کی حکومت نے کراچی کی کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے اور بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی رہائشی پالیسی منظور کی۔ اس پروگرام کے تحت ہزاروں کم آمدنی والے خاندانوں کو زمین کے حقو...

مزید پڑھیں
صدر جانسن نے اچانک صدارتی تبدیلی کے بعد اقوام متحدہ سے خطاب کیا
صدر جانسن نے اچانک صدارتی تبدیلی کے بعد اقوام متحدہ سے خطاب کیا

24 نومبر 1963 کو نئے امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے صدر کینیڈی کے قتل کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ سے خطاب کیا۔ دنیا بھر کی توجہ اس خطاب پر مرکوز تھی جس میں جانسن نے عالمی تعاون، جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date