Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

23 December

Home
1 Historical Event found for 23 December
1

23 دسمبر 1925

The Florida Land Boom of the 1920s فلوریڈا لینڈ بوم جسے جدید رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا پہلا بڑا ببل قرار دیا جاتا ہے، جب پلاٹ خریدنے والا چند گھنٹوں میں پلاٹ کئی گنا مہنگی قیمت پر دوبارہ بیچ دیتا تھا۔

The Florida Land Boom of the 1920s فلوریڈا لینڈ بوم جسے جدید رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا پہلا بڑا ببل قرار دیا جاتا ہے، جب پلاٹ خریدنے والا چند گھنٹوں میں پلاٹ کئی گنا مہنگی قیمت پر دوبارہ بیچ دیتا تھا۔

اگر ہم ٹھیک ایک صدی پیچھے جائیں تو 23 دسمبر 1925 وہ دن تھا جب امریکہ کی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا مشہور ترین “فلوریڈا لینڈ بوم” اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ فلوریڈا، خصوصاً میامی اور پام بیچ میں لوگوں میں راتوں رات امیر بننے کے لیے زمین خریدنا ایک جنون کی صورت اختیار کر چکا تھا۔

اس وقت صورتحال یہ تھی کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں چھوٹے سے چھوٹے پلاٹ کی قیمت چند گھنٹوں میں دگنی ہو جاتی تھی۔ خریدار اکثر پلاٹ دیکھے بغیر ہی ایڈوانس ادا کر دیتے تھے، اور کئی لوگ تو زمین کی رجسٹری ہونے سے پہلے ہی اسے آگے بیچ کر منافع کما رہے تھے۔ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، انوسٹرز اور عام شہری سب اس دوڑ میں شامل تھے، اور ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ قیمتیں کبھی نہیں گریں گی۔

دسمبر 1925 کی اخباری رپورٹس، خصوصاً The Miami Herald کی 23 دسمبر کی اشاعت کے مطابق، صورتحال اس حد تک غیر معمولی ہو چکی تھی کہ کرسمس کی چھٹیوں کے باوجود ہزاروں افراد فلوریڈا میں پلاٹ خریدنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ ریلوے اسٹیشنوں، بندرگاہوں اور زمینوں کے دفاتر میں رش تھا، اور شہری نظام اس دباؤ کو سنبھالنے سے قاصر نظر آ رہے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ جدید دور کی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا پہلا بڑا ببل تھا، جس میں زمین کی قیمتوں کا تعین رہائشی ضروریات اور معاشی بنیادوں (economic fundamentals) کے بجائے قیاس آرائی، افواہوں اور فوری منافع کے لالچ کے تحت کیا گیا۔

تاہم یہ بوم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 1926 میں آنے والے شدید سمندری طوفان نے فلوریڈا کے کئی علاقوں کو تباہ کر دیا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے ٹوٹ گیا۔ اسی دوران معاشی مسائل نے جنم لیا، زمین کی قیمتیں اچانک تیزی سے نیچے گرتی چلی گئیں، اور یوں فلوریڈا کا لینڈ بوم، جو دنیا بھر میں پانچ چھ سال تک دولت اور مواقع کی علامت سمجھا جا رہا تھا، رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں تاریخی عبرت کا نشان بن گیا۔

فلوریڈا لینڈ بوم کی اصل کہانی کو اگر سادہ الفاظ میں سمجھا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔

article image

اس تصویر میں یہ بورڈ فلوریڈا لینڈ بوم کے دور کی انتہائی گمراہ کن اشتہاری مثال ہے جس میں دلدلی اور پانی میں ڈوبی زمینوں کو “reclaimed” (دوبارہ قابلِ استعمال بنائی گئی زمین) اور “دنیا کی سب سے زرخیز مٹی” قرار دے کر بیچا جا رہا تھا۔ اس زبان کا مقصد زمین کی اصل حالت بتانا نہیں بلکہ خریداروں میں یہ یقین پیدا کرنا تھا کہ ابھی خریدنے سے فوری منافع حاصل ہو گا۔ حقیقت میں ان میں سے بیشتر زمینیں نہ مکمل طور پر خشک تھیں، نہ رہائش یا کاشت کے قابل، مگر “ابھی خریدیں، قیمتیں ابتدائی سطح پر ہیں” جیسے جملوں کے ذریعے قیاس آرائی کو ہوا دی گئی۔ یہی فریب پر مبنی تشہیر فلوریڈا لینڈ بوم کے ببل کی بنیاد بنی، جس نے بعد میں ہزاروں لوگوں کو مالی نقصان سے دوچار کیا

پہلی جنگِ عظیم کے بعد امریکہ میں دولت بڑھی، کاریں عام ہوئیں، ریل اور اشتہارات نے فاصلے ختم کر دیے، اور فلوریڈا ایک خواب کے طور پر پیش کیا جانے لگا جہاں دھوپ، سمندر اور تیزی سے بڑھتے شہر ہر کسی کو امیر بنا سکتے تھے۔ خاص طور پر میامی اور پام بیچ میں زمین صرف رہنے کے لیے نہیں بلکہ فوری منافع کے لیے خریدی جا رہی تھی۔

لوگ زمین دیکھے بغیر، نقشہ تک پڑھے بغیر، صرف افواہوں اور قیمت بڑھنے کی امید پر خرید و فروخت کر رہے تھے۔ ایک پلاٹ صبح خریدا جاتا اور شام تک کئی ہاتھ بدل کر مہنگا ہو جاتا۔ اس مرحلے پر زمین اثاثہ نہیں بلکہ دولت کمانے کا ایک سرٹیفیکیٹ بن چکی تھی، جس پر سب کو یقین تھا کہ قیمت کبھی نیچے نہیں آئے گی۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ زیادہ تر خریدار وہاں گھر بنانے یا آباد ہونے نہیں جا رہے تھے۔ وہ صرف اگلے خریدار کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی نئے خریداروں کی رفتار کم ہوئی، پورا نظام ہلنا شروع ہو گیا۔ 1925 کے آخر تک ریل کا نظام جام ہو گیا، کیونکہ سیمنٹ، لکڑی اور روزمرہ اشیا کی جگہ صرف زمین کی دستاویزات ہی سفر کر رہی تھیں۔ بینکوں نے قرض دینا سست کر دیا، خریدار غائب ہونے لگے، اور پہلی بار قیمتیں رکیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ببل پھٹنے کے آثار ظاہر ہوئے۔

1926 میں دو فیصلہ کن واقعات نے اس عمل کو ناقابلِ واپسی بنا دیا۔ پہلے، میامی میں ایک شدید سمندری طوفان آیا جس نے ہزاروں تعمیرات تباہ کر دیں، بندرگاہیں مفلوج ہو گئیں، اور یہ واضح ہو گیا کہ شہر جس رفتار سے بیچا جا رہا تھا، اس رفتار سے محفوظ یا تیار ہی نہیں تھا۔ دوسرے، بینکوں اور ڈویلپرز کا اعتماد ٹوٹ گیا۔ جیسے ہی ادائیگیاں رکیں، قسطیں ڈیفالٹ ہوئیں، اور زمین کی وہی فائلیں جنہیں لوگ دولت سمجھ رہے تھے، بوجھ بن گئیں۔ بہت سے افراد جنہوں نے قرض لے کر زمین خریدی تھی، سب کچھ کھو بیٹھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ فلوریڈا کی زمینوں کی قیمتیں بعض علاقوں میں پچاس سے ستر فیصد تک گر گئیں۔ ہزاروں منصوبے ادھورے رہ گئے، بینک بند ہوئے، اور فلوریڈا کی معیشت کئی برس پیچھے چلی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ سب 1929 کے گریٹ ڈپریشن سے تین سال پہلے ہو چکا تھا۔ اسی لیے ماہرین اسے جدید رئیل اسٹیٹ تاریخ کا پہلا بڑا قیاس آرائی پر مبنی ببل مانتے ہیں، کیونکہ یہاں وہ تمام عناصر واضح تھے جو بعد میں دنیا بھر میں دہرائے گئے، یعنی افواہوں پر خرید، حقیقی طلب کی عدم موجودگی، آسان منافع کا یقین، اور نظامی اعتماد کا اچانک خاتمہ۔

فلوریڈا لینڈ بوم سے حقیقی سبق یہ ملتا ہے کہ چند منافع خوروں نے زمین کو رہائش اور اثاثے کے بجائے ایک تیز رفتار سٹے کی چیز بنا دیا تھا۔ جب خریدار صرف اگلے خریدار پر یقین کرنے لگے اور اصل استعمال پس منظر میں چلا جائے، تو قیمتیں اوپر تو جا سکتی ہیں مگر وہاں ٹھہر نہیں سکتیں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے آج امریکہ اور دیگر ممالک کی جامعات میں اسے رئیل اسٹیٹ، معاشیات، اربن پلاننگ اور فنانس کے مضامین میں بطور کیس اسٹڈی (case study) پڑھایا جاتا ہے۔ اس مثال کے ذریعے طلبہ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کس طرح قیاس آرائی، مارکیٹ نفسیات اور حقیقی معاشی بنیادوں سے ہٹ کر قیمتوں میں تیزی ببل (bubble) کو جنم دیتی ہے، اور پھر یہی عوامل اچانک زوال کا سبب بنتے ہیں۔

فلوریڈا لینڈ بوم کے مالی نقصان کے بارے میں تاریخ میں اندازے بہت دہرائے گئے ہیں، مگر ایک واحد، قطعی اور سرکاری عدد کہیں بھی موجود نہیں۔ اس کے باوجود، تاریخ دانوں اور معاشی محققین نے ایک متفقہ حد (consensus range) طے کی ہے جو معتبر سمجھی جاتی ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق، 1920 کی دہائی میں فلوریڈا لینڈ بوم کے دوران زمین کی قیاس آرائی پر مبنی خرید و فروخت کی مجموعی مالیت تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر (1920s dollars) تک جا پہنچی تھی۔ جب 1925 اور 1926 میں یہ ببل ٹوٹا تو براہِ راست اور بالواسطہ مالی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 2 ارب ڈالر (1920s dollars) لگایا گیا۔ یہ عدد امریکی اقتصادی تاریخ میں بار بار درج ہوا ہے اور اسے confirmed historical estimate مانا جاتا ہے۔

اگر ہم اس رقم کو آج کی قدر میں سمجھیں تو افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نقصان تقریباً 30 سے 35 ارب امریکی ڈالر (current value) کے برابر بنتا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ نقصان صرف زمین کی قیمت گرنے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں شامل تھے:

⁃ بینکوں کی ناکامیاں

⁃ تعمیراتی منصوبوں کی منسوخی

⁃ قرضوں کی نادہندگی

⁃ فلوریڈا کی ریاستی معیشت کا مفلوج رہنا

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

حوالہ جات
▫️ The Miami Herald (1925 Archives)
دسمبر 1925 کی اشاعتیں، فلوریڈا لینڈ بوم کے عروج، زمین کی قیمتوں میں تیزی اور عوامی جنون سے متعلق براہِ راست اخباری رپورٹس۔
▫️ U.S. National Archives and Records Administration (NARA)
1920 کی دہائی میں فلوریڈا کی زمین، ریل کی توسیع، شہری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری سے متعلق سرکاری ریکارڈز اور معاشی رپورٹس۔
▫️ Gregg M. Turner
The Florida Land Boom of the 1920s
مستند تاریخی کتاب، جس میں فلوریڈا لینڈ بوم کے اسباب، پھیلاؤ، قیاس آرائی اور زوال کا تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔
Views
46

مزید خبریں "On This Date" سے

گوادر فری زون کا افتتاح صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے کیا گیا
گوادر فری زون کا افتتاح صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے کیا گیا

1 نومبر 2016 کو پاکستان نے سی پیک کے تحت گوادر فری زون کا افتتاح کیا، جو صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ اس منصوبے کا مقصد گوادر کو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان ایک عالمی لاج�...

مزید پڑھیں
The Establishment of the Formal Housing Finance System
The Establishment of the Formal Housing Finance System

12 جنوری 1831 کو عالمی ریئل اسٹیٹ کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے زمین اور مکان کو اشرافیہ کی ملکیت سے نکال کر عام آدمی کی دسترس میں لا کھڑا کیا۔ اسی روز امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں دنیا...

مزید پڑھیں
پہلی سٹیل فریم اسکائسکریپر تعمیراتی انقلاب
پہلی سٹیل فریم اسکائسکریپر تعمیراتی انقلاب

19 اکتوبر 1895 کو تعمیراتی صنعت نے ایک انقلابی دور میں قدم رکھا جب آسمان چھوتی عمارتوں کے لیے اسٹیل فریم ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا۔ اس جدت نے تعمیرات اور انجینئرنگ کے روایتی طریقوں کو م...

مزید پڑھیں
تقسیم کے بعد جائیدادوں کی باقاعدہ منتقلی کا تاریخی آغاز
تقسیم کے بعد جائیدادوں کی باقاعدہ منتقلی کا تاریخی آغاز

تقسیم ہند کے بعد لاکھوں افراد کی ہجرت کے نتیجے میں چھوڑی گئی جائیدادوں کے انتظام کا سنگین بحران پیدا ہوا تھا۔ مغربی پنجاب میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 26 نومبر 1947 کو ایوکیوئی پراپرٹی کے پہلے بڑے س...

مزید پڑھیں
یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کا قیام
یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کا قیام

9 اکتوبر 1874 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں بائیس ممالک کے نمائندے جمع ہوئے تاکہ یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) قائم کی جا سکے۔ ایک تاریخی عالمی فریم ورک جس نے بین الاقوامی ڈاک کے تبادلے کو منظم اور معیار�...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date