From Real Estate History
On September 7, 1925, the foundation stone of Jamia Mosque was laid in the heart of Nairobi, Kenya. The event marked the beginning of the construction of a landmark that would eventually become one of the most prominent religious and architectural symbols of East Africa. Today, the mosque stands in Nairobi’s Central Business District and remains an important part of the city’s historic identity.
The story of Jamia Mosque, however, goes back to 1902, when Maulana Sayed Abdullah Shah sought land to establish a mosque in Nairobi. According to historical accounts, he was given a map of the city and selected a largely undeveloped, swampy site near its center. He reportedly believed that the location would one day become the center of a great city. His vision proved remarkably accurate, as the mosque now stands at the heart of Nairobi’s busy central district.
Formal construction began in 1925, with the mosque designed by Scottish architect William Landels. The design drew heavily from Mughal architecture, particularly the great mosques associated with the Mughal period in the Indian subcontinent. Its architectural inspiration included the Jama Masjid in Delhi and the Badshahi Mosque in Lahore, giving the building a distinctive character within Nairobi’s urban landscape.
The construction itself was an extraordinary community effort. Building stones were transported from India to the port of Mombasa and then carried by railway to Nairobi. Indian railway workers reportedly carried the heavy stone blocks from the railway station to the construction site on their shoulders. Funds were raised through a broad appeal across East Africa, with contributions coming from members of different communities.
After approximately eight years of work, the mosque was completed in 1933. At the time, it was regarded as the tallest building in Nairobi and one of the largest mosques in East Africa. Its distinctive domes and minarets have remained an important feature of Nairobi’s historic skyline.
The story of September 7, 1925 demonstrates how a construction project can evolve far beyond its original purpose. Over a century later, Jamia Mosque stands not merely as a placey of worship, but as a symbol of architectural heritage, community effort and Nairobi’s urban history.
▪️Syed Shayan
Real Estate Archive
▪ Reference(s):
7 ستمبر 1925 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قلب میں واقع تاریخی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ یہ دن ایک ایسی عمارت کی تعمیر کا آغاز تھا جو آنے والی دہائیوں میں نہ صرف کینیا بلکہ پورے مشرقی افریقہ کی نمایاں مذہبی اور تعمیراتی علامت بن گئی۔ آج جامع مسجد نیروبی کے مرکزی کاروباری ضلع کے عین وسط میں موجود ہے اور شہر کی تاریخی شناخت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
اس مسجد کی کہانی دراصل 1902 سے شروع ہوتی ہے، جب مولانا سید عبداللہ شاہ نے نیروبی میں مسجد کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوشش کی۔ روایت کے مطابق انہیں شہر کا نقشہ دکھایا گیا تو انہوں نے تقریباً شہر کے وسط میں موجود ایک دلدلی اور غیر آباد مقام کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دن یہی جگہ ایک بڑے شہر کا مرکز بنے گی۔ کئی دہائیوں بعد ان کی یہ پیش گوئی حقیقت ثابت ہوئی اور آج یہی مقام نیروبی کے مصروف ترین مرکزی علاقے میں واقع ہے۔
جامع مسجد کا باقاعدہ تعمیراتی منصوبہ 1925 میں شروع ہوا۔ اس کا نقشہ سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہر تعمیرات ولیم لینڈلز نے تیار کیا، جس میں سولہویں اور سترہویں صدی کے مغلیہ طرزِ تعمیر سے خاصا اثر لیا گیا تھا۔ اس ڈیزائن میں دہلی کی جامع مسجد اور لاہور کی بادشاہی مسجد کے تعمیراتی انداز کی جھلک نمایاں تھی۔
مسجد کی تعمیر اپنے وقت میں ایک غیر معمولی اجتماعی کوشش تھی۔ تعمیر کے لیے پتھر بھارت سے ممباسا کی بندرگاہ تک لائے گئے، پھر ریل کے ذریعے نیروبی پہنچائے گئے۔ وہاں سے بھارتی ریلوے کے مزدور بھاری پتھروں کو اپنے کندھوں پر تعمیراتی مقام تک لے جاتے تھے۔ مالی وسائل کے لیے مشرقی افریقہ بھر میں چندہ جمع کیا گیا اور مختلف برادریوں نے اس منصوبے میں حصہ لیا۔
تقریباً آٹھ سال کی محنت کے بعد مسجد 1933 میں مکمل ہوئی۔ اس وقت یہ نیروبی کی بلند ترین عمارت اور مشرقی افریقہ کی سب سے بڑی مساجد میں شمار ہوتی تھی۔ اس کے تین نمایاں گنبد اور مینار آج بھی شہر کے تاریخی منظرنامے کا اہم حصہ ہیں۔
7 ستمبر 1925 کا یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک تعمیراتی منصوبہ کس طرح وقت گزرنے کے ساتھ صرف ایک عمارت نہیں رہتا بلکہ شہر کی شناخت، تاریخ اور اجتماعی ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔
مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر...
مزید پڑھیں
2021 میں فیڈرل ریزرو نے امریکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اقدامات متعارف کرائے، تاکہ بڑھتی ہوئی رہائشی قیمتوں اور مالی عدم استحکام ک...
مزید پڑھیں
22 اگست 1959 کو موجودہ کروشیا کے دارالحکومت زغرب میں ایلیکا سکائی سکریپر کو باضابطہ طور پر کھولا گیا، جس نے شہر کی کمرشل رئیل اسٹیٹ اور جدید طرز تعمیر میں ایک ن...
مزید پڑھیں
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے آج پاکستان کے نئے منصوبہ بند دارالحکومت اسلام آباد کے پہلے سرکاری سیکٹر باؤنڈری میپ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایف (F)، ج...
مزید پڑھیں
مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اعلان کیا کہ نہر سویز چلانے والی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا انتظام مصر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکندریہ میں ایک بڑے عوامی ج...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!