Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

19 August

Home

Select Date

1 Historical Event found for 19 August
1

19 اگست 2007

سنگاپور نے پنگول کو پانیوں کے کنارے جدید رہائشی شہر بنانے کا منصوبہ پیش کیا

 سنگاپور نے پنگول کو پانیوں کے کنارے جدید رہائشی شہر بنانے کا منصوبہ پیش کیا

19 اگست 2007 کو سنگاپور کی شہری اور رئیل اسٹیٹ تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا، جب اس وقت کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے اپنے قومی خطاب میں پنگول 21 پلس منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پنگول کو محض نئی رہائشی عمارتوں کے علاقے کے بجائے ایک ایسے جدید اور مکمل شہری قصبے میں تبدیل کرنا تھا جہاں گھر، پانی، سبزہ، آمدورفت، کاروبار اور تفریح ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔

پنگول سنگاپور کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس علاقے کو جدید رہائشی قصبے میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی اس سے پہلے بھی کی گئی تھی۔ 1990 کی دہائی میں پنگول 21 کے نام سے ایک بڑا منصوبہ سامنے آیا، لیکن 1997 کے ایشیائی مالی بحران کے بعد سنگاپور کی جائیداد اور رہائش کی مارکیٹ متاثر ہوئی، گھروں کی طلب میں کمی آئی اور پنگول کی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ گئی۔

تقریباً ایک دہائی بعد حکومت نے پنگول کو نئے انداز میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ پنگول 21 پلس اسی کوشش کا نیا اور زیادہ جامع مرحلہ تھا۔ اس بار توجہ صرف زیادہ گھر بنانے پر نہیں تھی بلکہ یہ سوچ سامنے رکھی گئی کہ ایک اچھے رہائشی علاقے میں گھر کے ساتھ بہتر ماحول اور روزمرہ زندگی کی ضروری سہولتیں بھی موجود ہونی چاہئیں۔

4.2 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ

اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت تقریباً 4.2 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ تھی۔ اس کا مقصد پنگول اور سیرانگون کے آبی علاقوں کو جوڑنے کے ساتھ پنگول کے اندر پانی کو شہری زندگی کا اہم حصہ بنانا تھا۔

اس آبی گزرگاہ کے دونوں جانب رہائشی منصوبوں کے ساتھ پارک، سبز مقامات، پیدل راستے، سائیکل ٹریک، تفریحی سہولتیں، دکانیں، کھانے پینے کے مقامات اور عوامی استعمال کی دوسری سہولتیں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

یہ سوچ اس وقت خاص اہمیت رکھتی تھی کیونکہ روایتی شہری ترقی میں پہلے عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں اور دوسری سہولتیں بعد میں شامل ہوتی تھیں۔ پنگول میں کوشش کی گئی کہ رہائش اور شہری ماحول کو ایک ہی منصوبے کا حصہ سمجھا جائے۔

منصوبے سے حقیقت تک

اعلان کے بعد منصوبہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہا۔ 2009 میں پنگول آبی گزرگاہ کی تعمیر شروع ہوئی اور 2011 میں اسے کھول دیا گیا۔

اس کے کنارے رہائشی منصوبوں نے بھی پنگول کی نئی شناخت بنانا شروع کردی۔ واٹر وے ٹیریسز جیسے سرکاری رہائشی منصوبوں میں پانی کے نظارے، سبز ماحول اور ماحول دوست تعمیراتی خصوصیات کو اہمیت دی گئی۔

وقت کے ساتھ پنگول میں سکولوں، دکانوں، ٹرانسپورٹ، تفریح اور دوسری شہری سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں ایک ایسا علاقہ جو کبھی نسبتاً دور اور کم ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا، نئی نسل کے خاندانوں کیلئے ایک جدید رہائشی مقام بنتا چلا گیا۔

آبادی میں نمایاں اضافہ

پنگول کی تبدیلی کا اندازہ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ سنگاپور کی نیشنل لائبریری میں درج اعداد و شمار کے مطابق 2007 میں پنگول کی آبادی تقریباً 52 ہزار 700 تھی، جو مارچ 2013 تک بڑھ کر تقریباً 83 ہزار 300 ہوگئی۔

یعنی صرف چند برسوں میں یہاں رہنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت تھا کہ نئی رہائش کے ساتھ بہتر شہری ماحول اور سہولتیں لوگوں کو علاقے کی طرف متوجہ کر رہی تھیں۔

رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں پنگول کی اصل اہمیت صرف ہزاروں نئے گھر تعمیر کرنے میں نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کے ایک مختلف تصور میں ہے۔

پنگول نے دکھایا کہ کسی علاقے کی کشش صرف عمارتوں، پلاٹوں یا گھروں کی تعداد سے نہیں بنتی۔ اگر رہائش کے ساتھ پانی، سبزہ، پارک، پیدل اور سائیکلنگ کے راستے، پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیاں اور تفریحی سہولتیں منظم انداز میں فراہم کی جائیں تو پورے علاقے کی شہری شناخت بدل سکتی ہے۔

اس ماڈل میں پانی کو شہر سے الگ رکھنے کے بجائے شہری زندگی کا حصہ بنایا گیا۔ گھروں کو آبی گزرگاہ، پارکوں اور عوامی مقامات کے قریب رکھا گیا تاکہ رہائشیوں کو بہتر ماحول کے ساتھ روزمرہ سہولتیں بھی دستیاب ہوں۔

ایک اعلان جس نے علاقے کی شناخت بدل دی

19 اگست 2007 کا پنگول 21 پلس اعلان اس لیے رئیل اسٹیٹ تاریخ کا قابل ذکر واقعہ ہے کہ اس نے ایک نسبتاً سست رفتار رہائشی منصوبے کو دوبارہ زندہ کرکے ایک وسیع شہری تصور میں تبدیل کردیا۔

پنگول کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ کامیاب رئیل اسٹیٹ ترقی صرف مکان بنانے کا نام نہیں؛ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب مکان کے ساتھ رہنے کے قابل پورا شہر بنایا جائے۔

آج پنگول سنگاپور کی اسی منصوبہ بندی کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں پانی، سبزہ، رہائش اور شہری سہولتوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک نئی شہری شناخت پیدا کی گئی۔ 19 اگست 2007 کا اعلان دراصل اس بڑی تبدیلی کا نقطۂ آغاز تھا۔

Views
0

مزید خبریں "On This Date" سے

news
اولمپکس کی میزبانی ملنے سے بیجنگ میں تاریخی شہری اور رئیل اسٹیٹ تبدیلی کا آغاز

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ماسکو میں منعقدہ اپنے 112ویں اجلاس کے دوران چین کے دارالحکومت بیجنگ کو 2008 کے موسم گرما کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کیلئے منتخب ک...

مزید پڑھیں
news
امریکا میں نیشنل ہاؤسنگ ایکٹ پر صدر روزویلٹ نے دستخط کئے

امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے نیشنل ہاؤسنگ ایکٹ پر دستخط کیے، جو رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ فنانس کی تاریخ کا ایک اہم قانون سمجھا جاتا ہے۔ گریٹ ڈپریشن کے دوران مت...

مزید پڑھیں
news
ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیان پہلی بار بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی حصول کی منظوری دی

گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پی...

مزید پڑھیں
news
دنیا کو اہم رئیل اسٹیٹ سنٹر ہانگ کانگ باضابطہ طور پر چین کا خصوصی انتظامی علاقہ بن گیا

یکم جولائی 1997 کو ہانگ کانگ باضابطہ طور پر چین کی خودمختاری میں واپس آیا اور “ایک ملک، دو نظام” کے فریم ورک کے تحت ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ قرار پایا۔ یہ ...

مزید پڑھیں
news
عظیم مالی بحران کے بعد رئیل اسٹیٹ میں بحالی کے ابتدائی آثار

2010: عالمی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے 2008 کے سب بڑے مارگیج بحران کے بعد کئی سالہ جمود سے نکلنے کے ابتدائی اور محتاط اشارے دینا شروع کیے۔ یہ عرصہ پراپرٹی سیکٹر کے ل...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں