From Real Estate History
In 2019, Pakistan fully implemented the Real Estate Regulatory Act (RERA), marking a major milestone in the modernization of the country’s property market. This comprehensive legislation established a nationwide regulatory framework designed to enhance transparency, ensure fair practices, and protect the rights of property buyers and investors. Under the Act, all real estate developers and agents were required to register their projects, disclose financial details, and adhere to clearly defined timelines for completion. The system introduced standardized documentation, escrow mechanisms, and grievance redressal platforms, reducing instances of fraud and misinformation. By improving accountability, RERA strengthened public confidence in the real estate sector and attracted both domestic and international investment. Its implementation also inspired similar governance models in other developing economies, highlighting Pakistan’s growing commitment to institutional reform, urban planning efficiency, and sustainable real estate development that continues to influence policy thinking worldwide.
▪ Reference(s):
2019 میں پاکستان نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ (RERA) کو مکمل طور پر نافذ کیا، جو ملک کی جائیداد مارکیٹ کی جدیدیت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس جامع قانون سازی نے ایک قومی سطح کا ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا جس کا مقصد شفافیت میں اضافہ، منصفانہ لین دین کو یقینی بنانا، اور خریداروں و سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ اس ایکٹ کے تحت تمام ڈیولپرز اور ایجنٹس کے لیے اپنے منصوبے رجسٹر کرانا، مالی تفصیلات ظاہر کرنا، اور تعمیر مکمل کرنے کی واضح مدت فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ نظام میں معیاری دستاویزات، ایسکرو میکانزم، اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار شامل کیے گئے، جن سے دھوکہ دہی اور غلط معلومات کے امکانات میں کمی آئی۔ اس قانون نے عوامی اعتماد بحال کیا، سرمایہ کاری کو فروغ دیا، اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نمونہ فراہم کیا۔ RERA کی یہ اصلاحات آج بھی پالیسی اور شہری منصوبہ بندی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
In 2020, Pakistan launched its first-ever smart city project in Islamabad, marking a groundbreaking milestone in the nation’s urban development landscape. This ambitious initiative introduced advanced digital infrastructure, intelligent traffic management systems, renewable energy integration, and sustainable resource planning to create a fully connected and eco-friendly urban environment. The project aimed to combine technology with livability by incorporating smart utilities, high-speed connectivity, automated security networks, and environmentally conscious architecture. Islamabad’s Smart City became a model for future developments across Pakistan, inspiring similar projects in Lahore, Karachi, and Peshawar. By promoting transparency in property transactions and encouraging data-driven planning, the initiative elevated standards in real estate design, management, and investment. Beyond national borders, it also demonstrated how emerging economies can integrate innovation with sustainability. The 2020 Smart City project continues to shape policies and global discourse on intelligent urbanization and sustainable real estate development.
▪ Reference(s):
2020 میں پاکستان نے اسلام آباد میں اپنا پہلا اسمارٹ سٹی منصوبہ شروع کیا، جو ملک کی شہری ترقی کی تاریخ میں ایک انقلابی سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس منصوبے نے جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ذہین ٹریفک مینجمنٹ، قابلِ تجدید توانائی کے نظام، اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کو متعارف کرایا تاکہ ایک مربوط اور ماحول دوست شہر تشکیل دیا جا سکے۔ اسمارٹ سٹی کا مقصد ٹیکنالوجی کو رہائشی معیارِ زندگی کے ساتھ جوڑنا تھا، جس میں اسمارٹ یوٹیلٹیز، تیز رفتار انٹرنیٹ، خودکار سیکیورٹی نظام، اور ماحول دوست تعمیراتی ڈیزائن شامل تھے۔ اسلام آباد اسمارٹ سٹی نے پاکستان بھر میں شہری منصوبہ بندی کے نئے معیارات قائم کیے اور لاہور، کراچی اور پشاور جیسے شہروں میں مشابہ منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ اس اقدام نے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں شفافیت، ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کے رجحانات کو فروغ دیا۔ 2020 کا یہ منصوبہ آج بھی عالمی سطح پر اسمارٹ شہروں اور پائیدار رئیل اسٹیٹ پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
In 2021, the Federal Reserve introduced a series of strategic interventions aimed at stabilizing the U.S. real estate market amid growing concerns over housing affordability and financial volatility following the pandemic. Through a combination of monetary policy adjustments, including low interest rates, large-scale asset purchases, and liquidity support programs, the Fed sought to prevent a potential housing bubble while maintaining steady credit availability. These measures encouraged responsible lending practices, stabilized mortgage rates, and helped sustain the construction and homebuying sectors during a period of economic uncertainty. The intervention also influenced investor behavior, shifting demand toward long-term stability rather than speculative growth. Over time, these policies became a model for managing real estate markets during financial disruptions. The 2021 Federal Reserve response left a lasting legacy on global real estate regulation, shaping future monetary and housing policies aimed at achieving affordability, transparency, and sustainable development worldwide.
▪ Reference(s):
2021 میں فیڈرل ریزرو نے امریکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اقدامات متعارف کرائے، تاکہ بڑھتی ہوئی رہائشی قیمتوں اور مالی عدم استحکام کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔ کووِڈ-19 کے بعد پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران، مرکزی بینک نے شرحِ سود میں نرمی، اثاثوں کی بڑی خریداری، اور لیکویڈیٹی سپورٹ جیسے مالیاتی اقدامات کیے تاکہ ہاؤسنگ مارکیٹ میں توازن برقرار رہے اور ممکنہ ببل بننے سے روکا جا سکے۔ ان پالیسیوں سے رہائشی قرضوں کی دستیابی بہتر ہوئی، مارگیج ریٹس مستحکم ہوئے، اور تعمیراتی و خریداری کے شعبے کو سہارا ملا۔ اس مداخلت نے سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی پیدا کی، جس سے طویل مدتی استحکام کو ترجیح دی جانے لگی۔ فیڈرل ریزرو کی 2021 کی پالیسی نے عالمی سطح پر رئیل اسٹیٹ ریگولیشن پر گہرا اثر ڈالا، اور مستقبل کی مالی و رہائشی پالیسیوں کے لیے ایک پائیدار، شفاف اور منصفانہ ماڈل فراہم کیا۔
1934 کے پبلک ہاؤسنگ پروگرام کے آغاز نے جدید سہولیات کے ساتھ ہزاروں سستی رہائشی یونٹس تعمیر کیں، جس نے شہری ہاؤسنگ کے بحرانوں کو حل کیا جبکہ ہاؤسنگ کی رسائی کے لیے حکومتی ذمہ داری قائم کی اور نئے تع...
مزید پڑھیں12 نومبر 1892 کو برطانوی بلدیاتی اتھارٹی نے کراچی کے فریر ٹاؤن ہاؤسنگ منصوبے کی منظوری دی، جو اس خطے کے ابتدائی منظم رہائشی منصوبوں میں سے ایک تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بندرگاہ کے قریب سرکاری اہلکارو�...
مزید پڑھیں
29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے بڑے پیمانے پر حصول کی قانونی بنیاد ف�...
مزید پڑھیں19 نومبر 1987 کو سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر اپ گریڈیشن پلان کا آغاز کیا، جو پنجاب کے لائٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں سیال�...
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1863 کو امریکہ میں ایک اہم قانون نافذ ہوا جسے ہوم اسٹیڈ ایکٹ (Homestead Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے پہلی مرتبہ عام شہریوں کو یہ حق دیا کہ وہ حکومت کی خالی پڑی زمین پر قانونی دعویٰ (Land Claim) دائر �...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!