From Real Estate History
On 24 January 1965, the historic Sardar Mahal, located in Hyderabad, was placed under official municipal control following the failure to clear outstanding property tax dues. After the takeover, the premises were repurposed for municipal administrative use. The action was carried out by the Hyderabad Municipal Corporation, which was later reorganised as the Greater Hyderabad Municipal Corporation.
Sardar Mahal was commissioned in 1900 by Mir Mahbub Ali Khan, the sixth Nizam of the Hyderabad State, for his fourth consort, Sardar Begum. Situated near the Charminar in the old city, the palace was intended both as a royal residence and as a distinct symbol of the Begum’s personal status within the Nizam’s household. Contemporary historical records indicate that Sardar Begum did not occupy the palace as a permanent residence and continued to reside primarily within the principal royal complexes and other official residences.
Following the Partition of the subcontinent in 1947, the Hyderabad State entered a period of acute political and administrative transition. The idea of a Southern Pakistan had earlier been associated with the state, but in 1948 the Government of India formally integrated Hyderabad through military action. With the dissolution of the princely system, municipal and central administrative laws were applied to the city for the first time. As a consequence, properties belonging to the Nizam’s family were brought under urban taxation, statutory review, and administrative regulation. Over time, this shift resulted in the municipal assumption of control over Sardar Mahal due to unpaid property tax obligations.
Mir Mahbub Ali Khan Asaf Jah VI, the sixth Nizam of the Hyderabad State and a member of the Asaf Jahi dynasty. One image shows him with his fourth consort, Sardar Begum, while the other depicts the main facade and entrance of Sardar Mahal.
In the contemporary period, the Government of Telangana has undertaken a policy shift to redefine Sardar Mahal as an active public heritage site rather than a neglected historical structure. During 2024 and 2025, phased conservation and restoration programmes were initiated, including architectural documentation, structural stabilisation, and the revival of original design features. These efforts aim to safeguard the building in accordance with recognised conservation principles while retaining its architectural and historical identity from the Nizami period.
With its proposed conversion into a museum and cultural centre, Sardar Mahal is intended to serve not only as a former royal residence but also as a representative site of Hyderabad’s urban history. The building will interpret aspects of life during the Nizam’s rule and the administrative and social transformations that followed the integration of the Hyderabad State. The transition of Sardar Mahal from a private princely property to a public cultural institution thus establishes a sustained historical link between the city’s royal past and its civic present.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
24 جنوری 1965 کو حیدرآباد میں واقع تاریخی سردار محل کو جائیداد ٹیکس کے واجبات جمع نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے کر یہاں اپنے دفاتر قائم کر لیے۔ اس وقت یہ کارروائی حیدرآباد کی میونسپل کارپوریشن نے کی، جو بعد ازاں Greater Hyderabad Municipal Corporation کہلائی۔
سردار محل 1900 میں ریاستِ حیدرآباد دکن کے چھٹے نظام میر محبوب علی خان نے اپنی چوتھی اہلیہ سردار بیگم کے لیے تعمیر کروایا۔ یہ محل پرانے شہر حیدرآباد کے علاقے چارمینار کے قریب واقع تھا اور اس کا مقصد شاہی رہائش کے ساتھ ساتھ بیگم کی ذاتی شناخت اور وقار کو دوسری بیگمات سے نمایاں کرنا تھا۔ تاہم تاریخی شواہد کے مطابق سردار بیگم نے اس محل میں کبھی مستقل سکونت اختیار نہیں کی اور زیادہ تر وقت شاہی محل یا دیگر رہائش گاہوں میں گزارا۔
برصغیر کی تقسیم 1947 کے بعد ریاستِ حیدرآباد کو ایک غیر معمولی سیاسی اور انتظامی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی پاکستان یا Southern Pakistan کا تصور دراصل اسی ریاست سے جڑا ہوا تھا، اسی لیے پاکستان کے قیام کے بعد بھارتی حکومت نے فوجی طاقت کے ذریعے 1948 میں ریاستِ حیدرآباد کا انضمام کیا۔ اس انضمام کے ساتھ ہی شاہی نظامِ حکومت کا خاتمہ ہوا اور شہرِ حیدرآباد میں پہلی مرتبہ بلدیاتی اور مرکزی حکومت کے قوانین نافذ کیے گئے، جن کے نتیجے میں نظام خاندان کی نجی املاک بھی شہری ٹیکس، قانونی جانچ اور انتظامی کنٹرول کے دائرے میں آ گئیں، جس کا نتیجہ بالآخر پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر جائیداد کی سرکاری ضبطی کی صورت میں نکلا۔

نظام میر محبوب علی خان آصف جاہ ششم، ریاستِ حیدرآباد دکن کے چھٹے نظام تھے اور آصف جاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک تصویر میں اپنی چوتھی بیوی سردار بیگم کے ہمراہ ہیں اور دوسری تصویر میں ‘سردار محل’ کا مرکزی رُخ اور داخلی دروازہ دیکھا جا سکتا ہے۔
موجودہ دور میں حکومتِ تلنگانہ نے سردار محل کو محض ایک متروک تاریخی عمارت کے بجائے ایک فعال عوامی ورثہ بنانے کا باقاعدہ فیصلہ کیا۔ اسی پالیسی کے تحت 2024 اور 2025 میں اس عمارت کے لیے مرحلہ وار بحالی اور تحفظ کے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں عمارت کی دستاویزی مرمت، اصل طرزِ تعمیر کی بحالی، اور تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد عمارت کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ بناتے ہوئے اس کے نوابی دور کے کردار کو برقرار رکھنا ہے۔
میوزیم اور ثقافتی مرکز میں تبدیلی کے بعد یہ عمارت صرف ایک شاہی ورثہ نہیں رہے گی بلکہ حیدرآباد کی شہری تاریخ، نظامی دور کے طرزِ زندگی، اور ریاست کے انضمام کے بعد آنے والی سماجی اور انتظامی تبدیلیوں کی نمائندہ علامت بنے گی۔ اس طرح سردار محل کو شاہی نجی ملکیت سے نکال کر ایک عوامی ثقافتی اثاثے میں تبدیل کرنے کا عمل ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ تاریخی ربط قائم کرتا ہے۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
17 نومبر 1994 کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA) نے اندرون شہر کے شدید دباؤ کو کم کرنے کے لیے پہلی رنگ روڈ ہاؤسنگ توسیع اسکیم کا آغاز کیا۔ 1990 کی دہائی کے وسط تک حیات آباد، گل بہار اور صدر کے اندرونی علاقے ...
مزید پڑھیں
2 نومبر 2021 کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے ورلڈ بینک اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تعاون سے 'ریچارج پاکستان' منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کا مقصد زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بحال کرنا، دلدلی علاقوں کو محف�...
مزید پڑھیں23 اکتوبر 1892 کو جامع فائر ریزسٹنٹ بلڈنگ کوڈ معیارات نافذ کیے گئے، جس نے شہری عمارتوں میں فائر پروف تعمیراتی مواد اور حفاظتی خصوصیات کے لیے لازمی تقاضے قائم کیے۔ یہ ضوابط تباہ کن شہری آگ کے بعد سا�...
مزید پڑھیں
لندن: 21 جنوری 1878 کو قدیم مصر سے تعلق رکھنے والا مشہور پتھریلا ستون Cleopatra’s Needle باضابطہ طور پر لندن کے شہری اور عوامی علاقے کی زینت بن گیا۔ اس دن یہ ستون دریائے ٹیمز کے کنارے واقع Victoria Embankment پر مک�...
مزید پڑھیں
6 جنوری 1912 کو جرمن ماہرِ ارضی طبیعیات اور موسمیات الفریڈ ویگنر (Alfred Wegener) نے فرینکفرٹ میں واقع Senckenberg Museum میں جرمن جیالوجیکل ایسوسی ایشن کے اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ براعظموں کے سرکنے (Continental Drift) ...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!