From Real Estate History
In the history of France, a draft resolution addressing the legally enforceable right to housing for ordinary citizens was formally presented to the cabinet on 17 January 2007. The French government designated this initiative as the Right to Housing, known as DALO (Droit au logement opposable).
The purpose of this measure was to establish housing as a basic legal right, one that individuals could assert through judicial mechanisms. It provided that if the state or local authorities failed to supply housing to an eligible person, the affected individual would have the right to initiate legal proceedings against the state.
Following parliamentary debate and the completion of legislative procedures, the law was formally adopted on 5 March 2007 and entered into force on the same date.
The defining feature of this legislation was that it transformed housing from a constitutional principle or social policy objective into a justiciable right, meaning a right enforceable through judicial review. Citizens were entitled to pursue this right before administrative courts, within whose jurisdiction the state and local authorities could be held directly accountable, including oversight by the Conseil d’État, France’s highest administrative court.
This development marked a significant shift in housing governance. Housing was no longer treated solely as a policy commitment but was incorporated into a legal framework of state responsibility tied to judicial enforcement. The implications of this shift extended well beyond France, influencing broader debates on welfare obligations and state accountability.
Under the law, the state was placed under a binding legal duty to provide shelter to its citizens. Individuals who were homeless or living in conditions of severe hardship gained the right to seek judicial remedy and, in cases of governmental failure, to bring legal action against the state.
With this step, France became the second country in the world, after Scotland, to recognize housing as a right that could be enforced through the courts. This development reshaped housing policy discourse across Europe and compelled governments to design accountable systems for low-income and vulnerable populations.
Following the law’s implementation, substantial reforms were introduced in land-use planning and construction regulations under the framework of social housing, with the objective of ensuring the availability of affordable and accessible housing for low-income groups.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
فرانس کی تاریخ میں عام آدمی کو رہائش کے لازمی حق سے متعلق قراداد کا مسودہ ، جسے فرانسیسی حکومت نے حقِ رہائش یعنی DALO (Droit au logement opposable) کا نام دیا باضابطہ طور پر 17 جنوری 2007 کو کابینہ میں پیش کیا۔
اس اقدام کا مقصد ہر انسان کے لیے رہائش کو بنیادی قانونی حق بنانا تھا جس کا مطالبہ شہری عدالت کے ذریعے کر سکیں، اور اگر ریاست یا مقامی انتظامیہ کسی اہل فرد کو رہائش فراہم کرنے میں ناکام رہے تو متاثرہ شہری ریاست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکے۔
پارلیمانی بحث اور قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد یہ قانون 5 مارچ 2007 کو باضابطہ طور پر منظور ہوا اور اسی تاریخ سے نافذ العمل قرار پایا۔
اس قانون کی امتیازی حیثیت یہ تھی کہ اس نے رہائش کو محض ایک آئینی اصول یا سماجی پالیسی کے بجائے ایک ایسا justiciable right یعنی عدالتی طور پر قابلِ نفاذ قانونی حق بنا دیا، جس کا مطالبہ شہری انتظامی عدالتوں کے ذریعے کر سکتے تھے، اور جس کے تحت ریاست اور مقامی انتظامیہ کو Conseil d’Éta (فرانس کی اعلیٰ انتظامی عدالت) کے دائرۂ اختیار میں براہِ راست جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا تھا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی ہاؤسنگ پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی آئی، جہاں رہائش پہلی مرتبہ ریاستی ذمہ داری کے ایک ایسے قانونی تصور میں ڈھلی جو محض پالیسی وعدہ نہیں بلکہ عدالتی نفاذ کے ساتھ وابستہ تھا، اور جس کے اثرات فلاحی ریاست کے تصور پر دور رس ثابت ہوئے۔
پارلیمانی بحث اور قانونی مراحل کی تکمیل کے بعد یہ قانون 5 مارچ 2007 کو باضابطہ طور پر منظور ہوا اور اسی تاریخ سے نافذ العمل قرار پایا، جس کے نتیجے میں عالمی ہاؤسنگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رہائش کو عملی طور پر بنیادی حق کی حیثیت ملی، اور ریاستی ذمہ داری کے تصور پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔
اس قانون کے تحت ریاست پر قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ اپنے شہریوں کو چھت فراہم کرے۔ اگر کوئی شخص بے گھر ہو یا انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہ رہا ہو تو اسے یہ حق حاصل ہوا کہ وہ عدالت سے رجوع کرے، اور حکومتی ناکامی کی صورت میں ریاست کے خلاف مقدمہ دائر کر سکے۔
اس اقدام کے ساتھ فرانس دنیا کا وہ دوسرا ملک بنا، اسکاٹ لینڈ کے بعد، جہاں رہائش کو ایسا حق تسلیم کیا گیا جس کا مطالبہ عدالت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے پورے یورپ میں ہاؤسنگ پالیسیوں کی سمت بدل دی اور ریاستوں کو کم آمدنی والے طبقات کے لیے قابلِ احتساب نظام وضع کرنے پر مجبور کیا۔
قانون کے نفاذ کے بعد انسانی رہائش کی ضروریات کے لیے Social Housing کے تصور کے تحت زمین کے استعمال اور تعمیراتی قواعد و ضوابط میں نمایاں اصلاحات کی گئیں، تاکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے سستے اور قابلِ رسائی گھروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
18 نومبر 1967 کو تہران نے پہلی ہائی رائز ریگولیشن پالیسی متعارف کرائی تاکہ شہر کی توسیع اور عمودی نمو کو منظم کیا جا سکے۔ 1960 کی دہائی میں تہران کم منزلہ شہر سے ایک بڑے میٹروپولیٹن مرکز میں تبدیل ہو �...
مزید پڑھیں
5 دسمبر 1957 کو نیویارک شہر نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے خلاف قانون سازی کر کے امریکہ کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دن نیویارک سٹی کونسل نے Fair Housing Practices Law کی م...
مزید پڑھیں
9 نومبر 1996 کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے شاہدرہ لو اِنکم ہاؤسنگ منصوبے کا آغاز کیا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر منصوبہ بند بستیوں کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ دریائے راوی کے شمالی کنارے �...
مزید پڑھیں13 نومبر 1872 کو برطانوی پارلیمنٹ نے لندن میں رہائش کے ناقص حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت گنجان اور غیر صحت مند بستیوں کو منصوبہ بند رہائشی عمارتوں سے ...
مزید پڑھیں
30 دسمبر 1973 پاکستان کی صنعتی اور شہری تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے، جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کے مشرق میں شہر سے باہر بن قاسم، اسٹیل ٹاؤن میں پاکستان اسٹیل ملز کا باضابطہ سنگ...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!