From Real Estate History
On November 8, 1977, Sheikh Rashid bin Saeed Al Maktoum officially launched the Dubai Creek Expansion Project a defining moment in the city’s urban history that laid the foundation for Dubai’s modern real estate model. The project aimed to deepen and extend the natural creek to allow large cargo ships to enter, transforming Dubai from a small trading town into a regional commercial hub. Funded by oil revenues and international loans, the project introduced large-scale land reclamation, dredging, and port infrastructure, creating new commercial and residential plots along the expanded creek. This initiative represented the first modern integration of public infrastructure with private land development in the UAE. The reclaimed zones quickly became home to warehouses, offices, and housing, attracting both local and foreign investors. Sheikh Rashid’s urban vision emphasized diversification beyond oil turning real estate into a driver of economic growth. The success of the Creek project inspired later megadevelopments such as Jebel Ali Port (1979) and Dubai Marina (1998). In retrospect, it marked the birth of Dubai’s real estate-driven urban identity, combining strategic state planning, global investment, and architectural ambition. The project’s long-term impact reshaped Dubai’s economy, positioning land and property as central instruments of national development and global branding.
▪ Reference(s):
8 نومبر 1977 کو شیخ راشد بن سعید المکتوم نے دبئی کریک توسیعی منصوبے کا باضابطہ آغاز کیا — یہ شہر کی شہری تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے دبئی کے جدید رئیل اسٹیٹ ماڈل کی بنیاد رکھی۔ اس منصوبے کا مقصد کریک کو گہرا اور طویل کر کے بڑی کارگو جہازوں کی آمدورفت ممکن بنانا تھا تاکہ دبئی ایک چھوٹے تجارتی قصبے سے علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل ہو سکے۔ تیل کی آمدنی اور بین الاقوامی قرضوں سے مالی اعانت یافتہ، اس منصوبے میں زمین کی بازیابی، ڈریجنگ، اور بندرگاہی انفراسٹرکچر شامل تھا، جس کے نتیجے میں توسیع شدہ کریک کے کنارے تجارتی و رہائشی پلاٹس بنائے گئے۔ یہ اقدام متحدہ عرب امارات میں عوامی انفراسٹرکچر اور نجی زمین کی ترقی کا پہلا منظم امتزاج تھا۔ نئے علاقوں میں گودام، دفاتر اور رہائش گاہیں تیزی سے تعمیر ہوئیں، جنہوں نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا۔ شیخ راشد کا وژن تیل سے آگے معاشی تنوع پر مبنی تھا — جس میں رئیل اسٹیٹ کو ترقی کا محرک سمجھا گیا۔ کریک منصوبے کی کامیابی نے بعد کے میگا پراجیکٹس جیسے جبل علی پورٹ (1979) اور دبئی مرینا (1998) کو جنم دیا۔ یہ منصوبہ دبئی کی اقتصادی شناخت کے آغاز کی علامت تھا، جس نے زمین، منصوبہ بندی، اور سرمایہ کاری کو قومی ترقی اور عالمی پہچان کا ستون بنا دیا۔
In 1994, the Azad Jammu and Kashmir government initiated the Muzaffarabad Urban Housing Expansion Program the region’s first comprehensive plan to manage population growth and prevent unregulated sprawl. The initiative sought to formalize land use around the Jhelum and Neelum river basins, introduce zoning laws, and develop affordable housing sectors equipped with drainage systems, paved roads, and water supply. NESPAK and the AJK Development Authority jointly drafted the master layout, ensuring construction was adapted to the valley’s complex topography and rainfall. The project represented a paradigm shift from reactive, post-disaster rebuilding toward preventive urban management. For the first time, state planners emphasized seismic resilience, community accessibility, and the preservation of green belts. Although limited in scope due to financial constraints, it established planning standards that would later guide reconstruction after the 2005 earthquake. The Muzaffarabad expansion became a reference model for smaller towns like Bagh and Rawalakot, influencing the region’s housing policy for over a decade.
▪ Reference(s):
1994 میں آزاد جموں و کشمیر حکومت نے مظفرآباد شہری ہاؤسنگ توسیعی منصوبہ شروع کیا — جو اس خطے میں آبادی کے دباؤ اور غیر منصوبہ بند بستوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پہلا جامع منصوبہ تھا۔ اس کا مقصد نیلم اور جہلم دریا کے کناروں پر زمین کے استعمال کو باقاعدہ بنانا، زوننگ قوانین نافذ کرنا، اور نکاسی آب، پختہ سڑکوں اور پانی کی فراہمی کے ساتھ کم لاگت رہائشی سیکٹر قائم کرنا تھا۔ نِسپاک اور آزاد کشمیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر ماسٹر پلان تیار کیا، جو وادی کی دشوار گزار زمین اور بارش کے نظام کے مطابق ڈھالا گیا۔ یہ منصوبہ محض تعمیرِ نو نہیں بلکہ پیشگی شہری نظم کا مظہر تھا۔ پہلی بار منصوبہ سازوں نے زلزلہ مزاحم تعمیر، عوامی رسائی، اور سبز پٹیوں کے تحفظ پر زور دیا۔ اگرچہ مالی وسائل کی کمی کے باعث اس کی وسعت محدود رہی، تاہم اس نے وہ اصول وضع کیے جنہوں نے 2005 کے زلزلے کے بعد کی تعمیر نو کی رہنمائی کی۔ مظفرآباد کا یہ ماڈل بعد میں باغ اور راولا کوٹ جیسے چھوٹے شہروں کے لیے بھی ایک رہنما مثال بن گیا۔
یہ 22 اکتوبر 1929 کی بات ہے جب ملک کا پہلا جامع رئیل اسٹیٹ بورڈ قائم ہوا، جس نے جائیداد کے لین دین کے لیے پیشہ ورانہ معیار، اخلاقی اصول اور ضابطہ اخلاق متعین کیے، ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر معی...
مزید پڑھیں
2019 میں پاکستان نے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری ایکٹ (RERA) کو مکمل طور پر نافذ کیا، جو ملک کی جائیداد مارکیٹ کی جدیدیت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس جامع قانون سازی نے ایک قومی سطح کا ریگولیٹری فریم ورک قائ...
مزید پڑھیں
گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظور�...
مزید پڑھیں
24 جنوری 1965 کو حیدرآباد میں واقع تاریخی سردار محل کو جائیداد ٹیکس کے واجبات جمع نہ ہونے کے باعث بلدیاتی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے کر یہاں اپنے دفاتر قائم کر لیے۔ اس وقت یہ کارروائی حیدرآباد ک...
مزید پڑھیں
24 دسمبر 1968 کو اپالو 8 خلائی جہاز چاند کے مدار میں گردش کر رہا تھا۔ جیسے ہی جہاز چاند کے پچھلے حصے سے نکل کر سامنے آیا، تو خلا بازوں کی آنکھوں کے سامنے ایک غیر متوقع منظر آیا۔ انہیں چاند کے ویران او�...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!