Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

پراپرٹی نیشنلائیزیشن اور اسٹیٹ اونر شپ

1 Historical Event found

جب ایک ہی دن میں پورے ملک کے شہریوں کی نجی ملکیت ختم کر دی گئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ۔

یکم جنوری 1959 کو کیوبا میں کیوبن انقلاب کامیاب ہوا اور فیدل کاسترو اقتدار میں آئے۔ یہ وہ دن ہے جس نے جدید تاریخ میں رئیل اسٹیٹ اور نجی ملکیت کے تصور کو سب سے زیادہ شدت سے نقصان پہنچایا۔ اس انقلاب کے فوراً بعد کیوبا میں بڑے پیمانے پر زمین، رہائشی مکانات، کمرشل عمارتیں، ہوٹلز اور صنعتی املاک ریاست کی ملکیت میں لے لی گئیں۔ نجی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ عملاً ختم کر دی گئی، بیرونی سرمایہ کاری ضبط ہوئی، ہزاروں مالکان ایک ہی دن میں اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے اور پورے ملک کا اربن لینڈ اسٹرکچر ریاستی کنٹرول میں چلا گیا۔ رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ میں یہ واقعہ اس لیے منفرد اور سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں ایک دن میں پورے ملک کی نجی ملکیت (Ownership) کے خاتمے کی واحد مثال ہے۔ اس نے شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ، کرایہ داری اور زمین کی ملکیت کے تصورات کو الٹ دیا۔ اور یہ فیصلہ آج بھی کیوبا کی معیشت، شہروں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اثر انداز ہے۔ کاسترو کے انقلاب کے بعد جو تبدیلیاں آئیں، ان میں سب سے اہم اربن ریفارم لا (Urban Reform Law) تھا۔ انقلاب کے فوراً بعد 1960 میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت “ایک خاندان، ایک گھر” کی پالیسی اپنائی گئی۔ جن لوگوں کے پاس ایک سے زائد مکانات تھے، ریاست نے وہ ضبط کر لیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرایہ داروں کو موقع دیا گیا کہ وہ جو کرایہ ادا کر رہے ہیں، وہ دراصل گھر کی قیمت کی قسط تصور ہوگا اور کچھ عرصہ بعد وہ گھر کے مالک بن جائیں گے۔ فیدل کاسترو کے لائے گئے اس انقلاب سے پہلے ہوانا (Havana) دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، جہاں امریکی اشرافیہ کی مہنگی ترین جائیدادیں موجود تھیں۔ انقلاب کے بعد جب مالکان ملک چھوڑ کر چلے گئے تو ان عالیشان محلات کو یا تو سرکاری دفاتر بنا دیا گیا یا غریب خاندانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آج بھی ہوانا کی گلیوں میں وہ قدیم اور خستہ حال عمارتیں اس دور کی یاد دلاتی ہیں، اور عالمی سطح پر انہیں ہوانا کے بھوت بنگلے (Ghost Mansions) کہا جاتا ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 1959 سے لے کر 2011 تک، تقریباً 52 سال، کیوبا میں گھروں کی خرید و فروخت قانونی طور پر ممنوع تھی اور لوگ صرف اپنی جائیداد کا صرف تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، یعنی ایک گھر کے بدلے دوسرا گھر لینا۔ باقاعدہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا وجود ہی ختم کر دیا گیا تھا۔ کاسترو دور میں ہزاروں ایسے خاندان، جو امریکہ ہجرت کر گئے تھے، اپنی ان جائیدادوں کے قانونی کاغذات سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جو 1959 میں ان سے چھین لی گئی تھیں۔ اور اب ان کلیمز کی مالیت اربوں ڈالر میں جا پہنچی ہے اس وقت یہ معاملہ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر رئیل اسٹیٹ میں لوکیشن کی وجہ سے زمین کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن کیوبا میں دہائیوں تک زمین کی کوئی تجارتی قیمت نہیں رہی کیونکہ ریاست ہی واحد مالک تھی۔ جس کے نتیجے میں شہروں کی قدرتی ترقی (Natural Development) آگے بڑھنے کی بجائے ختم ہوتی چلی گئی جس نے سرمایہ کاری کے رسک (Sovereign Risk) کو جنم دیا۔ اور دنیا کو سوشلسٹ ہاؤسنگ ماڈل کا ایک ایسا تجربہ دکھایا جو آج بھی بحث کا موضوع ہے۔ فیدل کاسترو 2006 میں شدید بیماری کے بعد عملی سیاست سے الگ ہو گئے اور 2008 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے حوالے کر دیا تھا۔ 2011 میں راؤل کاسترو نے کیوبا کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کیے، انہوں نے محسوس کیا کہ ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے نجی ملکیت کی طرف واپسی ناگزیر ہے۔ چنانچہ نومبر 2011 میں، پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد، کیوبا کے شہریوں کو پہلی بار جائیداد خریدنے اور بیچنے کی قانونی اجازت دی گئی۔ اس سے پہلے لوگ صرف گھر کا تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، جس میں اکثر کالے دھن کا استعمال ہوتا تھا۔ اس فیصلے نے کیوبا میں ایک سوئی ہوئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ تاہم آج بھی کیوبا میں ایک گھر کی شرط برقرار ہے۔ آج بھی ایک کیوبن شہری کو صرف دو گھر رکھنے کی اجازت ہے، ایک وہ جہاں وہ مستقل رہائش رکھتا ہو، اور دوسرا وہ جو کسی تفریحی مقام یعنی ویکیشن ہوم پر ہو۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ بڑے سرمایہ دار یا مافیا مارکیٹ پر قبضہ کر کے قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ کر دیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک عام غیر ملکی آج بھی کیوبا میں براہ راست زمین یا گھر نہیں خرید سکتا۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی شراکت داری کے ذریعے بڑے ہوٹلز یا لگژری ریزورٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ عام گھروں کی خرید و فروخت صرف کیوبن شہریوں یا وہاں کی مستقل رہائش رکھنے والے غیر ملکیوں تک محدود ہے۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کھلنے کا سب سے بڑا فائدہ سیاحت کو ہوا۔ کیوبا کے لوگوں نے اپنے گھروں کے کمرے Airbnb کے ذریعے سیاحوں کو کرائے پر دینا شروع کر دیے۔ آج ہوانا کی قدیم عمارتوں میں موجود Casas Particulares یعنی نجی گیسٹ ہاؤسز پوری دنیا میں مشہور ہیں اور کیوبن عوام کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ میں کیوبا اور اس سے ملحقہ ممالک بہاماس، ہیٹی، جمیکا اور خصوصاً ڈومینیکن ریپبلک کی رئیل اسٹیٹ کا جب بھی مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان ممالک کے تقابل میں کیوبا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں پاکستان کی طرح قیمتوں کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ ہوانا کے پوش علاقوں میں ایک پرانا اپارٹمنٹ پچاس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک فروخت ہو سکتا ہے، جبکہ ایک عام کیوبن کی اوسط سرکاری تنخواہ اصلاحات کے باوجود ماہانہ تقریباً چار ہزار تا پانچ ہزار کیوبن پیسو ہے، جو ڈالر میں بدلنے پر لگ بھگ پینتیس تا پینتالیس امریکی ڈالر بنتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک عام سرکاری ملازم کی سالانہ نقد آمدنی عموماً چار سو سے پانچ سو پچاس امریکی ڈالر سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس کے برعکس کیوبا کی فی کس آمدنی نو ہزار سے دس ہزار امریکی ڈالر سالانہ ظاہر کی جاتی ہے، لیکن یہ دراصل فی کس جی ڈی پی پر مبنی ایک اعدادی اوسط ہے، جو نہ تو عام شہری کی حقیقی نقد آمدنی کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی اس کی روزمرہ معاشی حقیقت کو درست طور پر بیان کرتی ہے۔ اس تضاد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کیوبا کی پراپرٹی مارکیٹ مقامی آمدنی پر نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے ڈالرز پر چل رہی ہے، یعنی عملی طور پر یہ مارکیٹ ریمیٹینس اکانومی کے رحم و کرم پر ہے۔ وہ خاندان جن کے رشتہ دار بیرون ملک، خصوصاً امریکہ میں رہتے ہیں اور ڈالر بھیجتے ہیں، وہی دراصل کیوبا میں جائیداد کے خریدار بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com