Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

1 January

Home
3 Historical Event found for 1 January
1

1 جنوری 1863

ہوم اسٹیڈ ایکٹ کے تحت امریکی زمین پر حقِ ملکیت حاصل کرنے کا آغاز

ہوم اسٹیڈ ایکٹ کے تحت امریکی زمین پر حقِ ملکیت حاصل کرنے کا آغاز

یکم جنوری 1863 کو امریکہ میں ایک اہم قانون نافذ ہوا جسے ہوم اسٹیڈ ایکٹ (Homestead Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے پہلی مرتبہ عام شہریوں کو یہ حق دیا کہ وہ حکومت کی خالی پڑی زمین پر قانونی دعویٰ (Land Claim) دائر کر سکیں اور اسے آباد کرنے کے بعد اس کے مالک بن سکیں۔

اس قانون کے تحت کسی بھی شہری کو اجازت دی گئی کہ وہ مخصوص سرکاری زمین پر دعویٰ کرے، وہاں رہائش اختیار کرے، زمین کو قابلِ استعمال بنائے اور کم از کم پانچ سال تک اسے آباد رکھے۔ مقررہ مدت پوری ہونے پر حکومت اس زمین کی مستقل ملکیت (Permanent Ownership) اس شخص کے نام منتقل کر دیتی تھی۔

قانون کے نفاذ کے فوراً بعد نیبراسکا (Nebraska) میں زمین پر پہلا عوامی قانونی دعویٰ دائر کیا گیا۔ اس دعوے کے ذریعے زمین پر آبادکاری کا عمل شروع ہوا، تاہم اس مرحلے پر زمین کی ملکیت فوری طور پر منتقل نہیں ہوئی بلکہ آبادکاری کی شرائط پوری کرنا لازمی تھا۔

یہ واقعہ اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اسی سے امریکہ میں مغربی علاقوں کی آبادکاری (Westward Expansion) کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ لوگ مشرقی ریاستوں سے نکل کر نئی زمینوں پر بسنے لگے، کھیت وجود میں آئے، بستیاں آباد ہوئیں اور رفتہ رفتہ قصبے اور شہر قائم ہوئے۔

ہوم اسٹیڈ ایکٹ کے نتیجے میں لاکھوں افراد زمین کے دعوے دار بنے اور بعد ازاں مستقل مالکان قرار پائے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا اور وہ علاقے جو پہلے غیر آباد تھے، آہستہ آہستہ منظم آبادیوں میں تبدیل ہو گئے۔ بعد کے برسوں میں انہی آبادیوں کے گرد بازار، سڑکیں، ریلوے لائنیں اور شہری مراکز قائم ہوئے۔

ماہرین کے مطابق ہوم اسٹیڈ ایکٹ امریکی رئیل اسٹیٹ نظام (American Real Estate System) کی بنیادوں میں شامل ہے، کیونکہ اسی قانون کے ذریعے زمین کو ریاستی تحویل سے نکال کر عوامی ملکیت میں منتقل کرنے کا منظم طریقہ متعارف کروایا گیا۔

یہ قانون اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک حکومتی پالیسی زمین کی ملکیت، آبادکاری اور رئیل اسٹیٹ کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنس:
کتاب The Homestead Act of 1862
مصنف: Paul W. Gates
پبلشر: University of Wisconsin Press
Views
1
2

1 جنوری 1898

نیویارک شہر کی تخلیق

نیویارک شہر کی تخلیق

یکم جنوری 1898 کو نیویارک شہر کی موجودہ شکل وجود میں آئی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔ اسی دن مین ہٹن، برونکس، بروکلین، کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ کو ایک واحد شہری اکائی میں ضم کیا گیا۔ اس سے قبل بروکلین ایک خود مختار شہر تھا اور آبادی کے لحاظ سے امریکا کا چوتھا بڑا شہر شمار ہوتا تھا جبکہ کوئینز اور اسٹیٹن آئی لینڈ زیادہ تر زرعی، نیم دیہی اور آزاد انتظامی حیثیت رکھتے تھے۔ برونکس بھی الگ کاؤنٹی اسٹرکچر کے تحت تھا اور مین ہٹن محدود جغرافیے میں شدید آبادی دباؤ کا شکار تھا۔

رئیل اسٹیٹ کے زاویے سے الحاق کا یہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 1898 کے بعد مین ہٹن، جو پہلے ہی مہنگا تھا، اس کی زمین نے فنانشل ڈسٹرکٹ اور مڈ ٹاؤن کی صورت میں عمودی ترقی اختیار کی، جبکہ بروکلین اور کوئینز پہلی بار بڑے پیمانے پر رہائشی زونز کے طور پر ابھرے۔ اسٹیٹن آئی لینڈ بندرگاہی اور لاجسٹک سرگرمیوں سے جڑا جبکہ برونکس صنعتی اور بعد ازاں مڈل کلاس رہائش کا مرکز بنا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے نیویارک میں زوننگ کے جدید تصورات نے جنم لیا اور بعد ازاں شہروں میں زمین کے استعمال کو رہائش، تجارت اور صنعت میں واضح طور پر تقسیم کیا جانے لگا۔

شہروں میں اربن ٹرانسپورٹ کا جدید تصور بھی یہیں سے ابھرا جب 1904 میں New York City میں سب وے کا آغاز ہوا۔ ایک منظم انڈرگراؤنڈ ریلوے نیٹ ورک کی بدولت کوئینز، بروکلین اور برونکس میں بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ ممکن ہوئی۔ آج نیویارک کی رئیل اسٹیٹ ویلیوز میں جو جغرافیائی تسلسل اور پھیلاؤ نظر آتا ہے، اس کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔

تاریخی طور پر اس الحاق کا رئیل اسٹیٹ پر اثر غیر معمولی تھا کیونکہ پہلی مرتبہ ایک ایسا میگا سٹی تشکیل پایا جس میں بندرگاہ، صنعت، مالیاتی مرکز، رہائش اور ٹرانسپورٹ ایک مربوط شہری نظام میں یکجا ہو گئے۔ زمین کی قیمتوں میں طویل المدتی اضافہ اسی فیصلے کی پیداوار بنا، جبکہ شہری زوننگ، سب وے نیٹ ورک اور کمرشل اسکیل کی منظم ترقی یکم جنوری 1898 کے بعد ہی ممکن ہوئی، اور یوں نیویارک دنیا کی سب سے مہنگی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ رکھنے والے شہروں کی صف میں شامل ہو گیا۔

یکم جنوری 1898 کو نیو یارک کا دوسرے علاقوں، جنہیں تاریخی اصطلاح میں بورو (Boroughs) کہا جاتا ہے، سے الحاق دنیا کے پہلے جدید میگا سٹی ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں لندن، پیرس، ٹوکیو اور دیگر عالمی شہروں نے اسی ماڈل کو اپنے اپنے انداز میں اپنایا۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نیو یارک کا نام یکم جنوری 1898 کے الحاق کے بعد نہیں بلکہ اس سے تقریباً دو سو سال پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ موجودہ نیو یارک سٹی کو 1664 میں اس وقت نیو یارک کہا گیا جب برطانوی سلطنت نے ڈچ آبادکاری نیو ایمسٹرڈیم پر قبضہ کیا اور اسے ڈیوک آف یارک کے نام پر New York کا نام دیا۔ 1898 میں ہونے والی تبدیلی نام کی نہیں بلکہ شہر کی ساخت کی تھی جسے تاریخی طور پر Greater New York کہا جاتا ہے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
▫️ گریٹر نیو یارک چارٹر 1898
▫️ نیو یارک سٹی میونسپل آرکائیوز
▫️ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، نیو یارک سٹی کی تاریخی دستاویزات
Views
55
3

1 جنوری 1959

جب ایک ہی دن میں پورے ملک کے شہریوں کی نجی ملکیت ختم کر دی گئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ۔

جب ایک ہی دن میں پورے ملک کے شہریوں کی نجی ملکیت ختم کر دی گئی تھی۔ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ۔

یکم جنوری 1959 کو کیوبا میں کیوبن انقلاب کامیاب ہوا اور فیدل کاسترو اقتدار میں آئے۔ یہ وہ دن ہے جس نے جدید تاریخ میں رئیل اسٹیٹ اور نجی ملکیت کے تصور کو سب سے زیادہ شدت سے نقصان پہنچایا۔

اس انقلاب کے فوراً بعد کیوبا میں بڑے پیمانے پر زمین، رہائشی مکانات، کمرشل عمارتیں، ہوٹلز اور صنعتی املاک ریاست کی ملکیت میں لے لی گئیں۔ نجی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ عملاً ختم کر دی گئی، بیرونی سرمایہ کاری ضبط ہوئی، ہزاروں مالکان ایک ہی دن میں اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے اور پورے ملک کا اربن لینڈ اسٹرکچر ریاستی کنٹرول میں چلا گیا۔

رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ میں یہ واقعہ اس لیے منفرد اور سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے کہ

یہ دنیا میں ایک دن میں پورے ملک کی نجی ملکیت (Ownership) کے خاتمے کی واحد مثال ہے۔

اس نے شہری منصوبہ بندی، ہاؤسنگ، کرایہ داری اور زمین کی ملکیت کے تصورات کو الٹ دیا۔

اور یہ فیصلہ آج بھی کیوبا کی معیشت، شہروں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اثر انداز ہے۔

کاسترو کے انقلاب کے بعد جو تبدیلیاں آئیں، ان میں سب سے اہم اربن ریفارم لا (Urban Reform Law) تھا۔ انقلاب کے فوراً بعد 1960 میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت “ایک خاندان، ایک گھر” کی پالیسی اپنائی گئی۔ جن لوگوں کے پاس ایک سے زائد مکانات تھے، ریاست نے وہ ضبط کر لیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرایہ داروں کو موقع دیا گیا کہ وہ جو کرایہ ادا کر رہے ہیں، وہ دراصل گھر کی قیمت کی قسط تصور ہوگا اور کچھ عرصہ بعد وہ گھر کے مالک بن جائیں گے۔

فیدل کاسترو کے لائے گئے اس انقلاب سے پہلے ہوانا (Havana) دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، جہاں امریکی اشرافیہ کی مہنگی ترین جائیدادیں موجود تھیں۔ انقلاب کے بعد جب مالکان ملک چھوڑ کر چلے گئے تو ان عالیشان محلات کو یا تو سرکاری دفاتر بنا دیا گیا یا غریب خاندانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آج بھی ہوانا کی گلیوں میں وہ قدیم اور خستہ حال عمارتیں اس دور کی یاد دلاتی ہیں، اور عالمی سطح پر انہیں ہوانا کے بھوت بنگلے (Ghost Mansions) کہا جاتا ہے۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 1959 سے لے کر 2011 تک، تقریباً 52 سال، کیوبا میں گھروں کی خرید و فروخت قانونی طور پر ممنوع تھی اور لوگ صرف اپنی جائیداد کا صرف تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، یعنی ایک گھر کے بدلے دوسرا گھر لینا۔ باقاعدہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا وجود ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

کاسترو دور میں ہزاروں ایسے خاندان، جو امریکہ ہجرت کر گئے تھے، اپنی ان جائیدادوں کے قانونی کاغذات سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جو 1959 میں ان سے چھین لی گئی تھیں۔ اور اب ان کلیمز کی مالیت اربوں ڈالر میں جا پہنچی ہے اس وقت یہ معاملہ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر رئیل اسٹیٹ میں لوکیشن کی وجہ سے زمین کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن کیوبا میں دہائیوں تک زمین کی کوئی تجارتی قیمت نہیں رہی کیونکہ ریاست ہی واحد مالک تھی۔ جس کے نتیجے میں شہروں کی قدرتی ترقی (Natural Development) آگے بڑھنے کی بجائے ختم ہوتی چلی گئی جس نے سرمایہ کاری کے رسک (Sovereign Risk) کو جنم دیا۔ اور دنیا کو سوشلسٹ ہاؤسنگ ماڈل کا ایک ایسا تجربہ دکھایا جو آج بھی بحث کا موضوع ہے۔

فیدل کاسترو 2006 میں شدید بیماری کے بعد عملی سیاست سے الگ ہو گئے اور 2008 میں انہوں نے باقاعدہ طور پر اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے حوالے کر دیا تھا۔ 2011 میں راؤل کاسترو نے کیوبا کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کیے، انہوں نے محسوس کیا کہ ملک کی معیشت کو بچانے کے لیے نجی ملکیت کی طرف واپسی ناگزیر ہے۔ چنانچہ نومبر 2011 میں، پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد، کیوبا کے شہریوں کو پہلی بار جائیداد خریدنے اور بیچنے کی قانونی اجازت دی گئی۔ اس سے پہلے لوگ صرف گھر کا تبادلہ (Permuta) کر سکتے تھے، جس میں اکثر کالے دھن کا استعمال ہوتا تھا۔ اس فیصلے نے کیوبا میں ایک سوئی ہوئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

تاہم آج بھی کیوبا میں ایک گھر کی شرط برقرار ہے۔ آج بھی ایک کیوبن شہری کو صرف دو گھر رکھنے کی اجازت ہے، ایک وہ جہاں وہ مستقل رہائش رکھتا ہو، اور دوسرا وہ جو کسی تفریحی مقام یعنی ویکیشن ہوم پر ہو۔ یہ شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ بڑے سرمایہ دار یا مافیا مارکیٹ پر قبضہ کر کے قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ کر دیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک عام غیر ملکی آج بھی کیوبا میں براہ راست زمین یا گھر نہیں خرید سکتا۔ تاہم غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی شراکت داری کے ذریعے بڑے ہوٹلز یا لگژری ریزورٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ عام گھروں کی خرید و فروخت صرف کیوبن شہریوں یا وہاں کی مستقل رہائش رکھنے والے غیر ملکیوں تک محدود ہے۔

رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کھلنے کا سب سے بڑا فائدہ سیاحت کو ہوا۔ کیوبا کے لوگوں نے اپنے گھروں کے کمرے Airbnb کے ذریعے سیاحوں کو کرائے پر دینا شروع کر دیے۔

آج ہوانا کی قدیم عمارتوں میں موجود Casas Particulares یعنی نجی گیسٹ ہاؤسز پوری دنیا میں مشہور ہیں اور کیوبن عوام کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔

میں کیوبا اور اس سے ملحقہ ممالک بہاماس، ہیٹی، جمیکا اور خصوصاً ڈومینیکن ریپبلک کی رئیل اسٹیٹ کا جب بھی مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان ممالک کے تقابل میں کیوبا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں پاکستان کی طرح قیمتوں کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ ہوانا کے پوش علاقوں میں ایک پرانا اپارٹمنٹ پچاس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک فروخت ہو سکتا ہے، جبکہ ایک عام کیوبن کی اوسط سرکاری تنخواہ اصلاحات کے باوجود ماہانہ تقریباً چار ہزار تا پانچ ہزار کیوبن پیسو ہے، جو ڈالر میں بدلنے پر لگ بھگ پینتیس تا پینتالیس امریکی ڈالر بنتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک عام سرکاری ملازم کی سالانہ نقد آمدنی عموماً چار سو سے پانچ سو پچاس امریکی ڈالر سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس کے برعکس کیوبا کی فی کس آمدنی نو ہزار سے دس ہزار امریکی ڈالر سالانہ ظاہر کی جاتی ہے، لیکن یہ دراصل فی کس جی ڈی پی پر مبنی ایک اعدادی اوسط ہے، جو نہ تو عام شہری کی حقیقی نقد آمدنی کی عکاسی کرتی ہے اور نہ ہی اس کی روزمرہ معاشی حقیقت کو درست طور پر بیان کرتی ہے۔

اس تضاد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کیوبا کی پراپرٹی مارکیٹ مقامی آمدنی پر نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے ڈالرز پر چل رہی ہے، یعنی عملی طور پر یہ مارکیٹ ریمیٹینس اکانومی کے رحم و کرم پر ہے۔ وہ خاندان جن کے رشتہ دار بیرون ملک، خصوصاً امریکہ میں رہتے ہیں اور ڈالر بھیجتے ہیں، وہی دراصل کیوبا میں جائیداد کے خریدار بنتے ہیں۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
▫️ فارن کلیمز سیٹلمنٹ کمیشن آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس، کیوبا نیشنلائزیشن کلیمز پروگرام
▫️ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، کیوبا: 1959 کے انقلاب کے بعد جائیدادوں کی قومی تحویل
Views
103

مزید خبریں "On This Date" سے

پاکستان میں پہلی بڑی لینڈ ریفارمز کا اعلان
پاکستان میں پہلی بڑی لینڈ ریفارمز کا اعلان

پاکستان کی زرعی تاریخ میں 8 جنوری 1959 ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے، جب محمد ایوب خان کی فوجی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی جامع لینڈ ریفارمز کا اعلان کیا۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد جاگیرداری �...

مزید پڑھیں
پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے پہلی رسمی ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا
پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے پہلی رسمی ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا

30 اکتوبر 1980 کو پاکستان نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اپنی پہلی جامع ہاؤسنگ پالیسی کا اعلان کیا، جس نے قومی رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے نقطہ نظر میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کی۔ اس پالیسی نے سستی رہائ�...

مزید پڑھیں
لوئیزیانا پرچیز: عالمی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا سب سے بڑا زمینی سودا، جس کا آج باضابطہ قبضہ منتقل ہوا۔
لوئیزیانا پرچیز: عالمی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا سب سے بڑا زمینی سودا، جس کا آج باضابطہ قبضہ منتقل ہوا۔

20 دسمبر 1803 رئیل اسٹیٹ اور زمینی معاہدوں کی عالمی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جس نے نہ صرف زمین کی خرید و فروخت کے تصور کو بدل دیا بلکہ ریاستی توسیع، جغرافیائی سیاست اور رئیل اسٹیٹ کی اسٹریٹجک اہمیت کو ب...

مزید پڑھیں
کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پہلا منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ - شمالی ناظم آباد کا آغاز کیا
کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پہلا منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ - شمالی ناظم آباد کا آغاز کیا

14 نومبر 1955 کو کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شمالی ناظم آباد کے نام سے کراچی کے پہلے منصوبہ بند رہائشی ٹاؤن شپ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس منصوبے میں چوڑی سڑکیں، مناسب نکاسی آب کے نظام، تجارتی زون اور عو�...

مزید پڑھیں
لندن میں صنعتی مزدوروں کے رہائشی مکانات کے لیے ہاؤسنگ ایکٹ منظور کیا گیا
لندن میں صنعتی مزدوروں کے رہائشی مکانات کے لیے ہاؤسنگ ایکٹ منظور کیا گیا

13 نومبر 1872 کو برطانوی پارلیمنٹ نے لندن میں رہائش کے ناقص حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ منظور کیا۔ اس قانون کے تحت گنجان اور غیر صحت مند بستیوں کو منصوبہ بند رہائشی عمارتوں سے ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date