Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

مذہبی جائیداد اور زمینی ملکیت

1 Historical Event found

ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو ہجوم نے شہید کر دیا۔

6 دسمبر 1992 کو بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع تاریخی بابری مسجد کو ایک ہجوم کے ہاتھوں شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ برصغیر کی جدید تاریخ میں مسلمانوں کے لیے ایک شدید مذہبی صدمہ ثابت ہوا اور ساتھ ہی زمین اور جائیداد کے قانون کے تناظر میں ایک طویل المدت اور پیچیدہ عدالتی تنازع کی علامت بھی بن گیا، جس کے اثرات آج تک جنوبی ایشیا کے قانونی اور سماجی شعور میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد ایودھیا سے متعلق زمین اور ملکیت کا قانونی تنازع درحقیقت اس واقعے سے کئی دہائیاں قبل شروع ہو چکا تھا۔ اس زمین کے حوالے سے پہلا باقاعدہ قانونی مقدمہ 1950 میں فیض آباد کی سول عدالت میں بطور ٹائٹل سوٹ دائر کیا گیا، کیونکہ اس وقت ایودھیا انتظامی طور پر ضلع فیض آباد کا حصہ تھا۔ اس مقدمے میں ہندو فریق نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بابری مسجد کی تعمیر سے قبل اس مقام پر ایک ہندو مندر موجود تھا اور مسجد اسی مبینہ مندر کی جگہ پر قائم کی گئی تھی۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتی مراحل سے گزرتا ہوا دہائیوں تک زیرِ سماعت رہا، اور اسی دوران 6 دسمبر 1992 کا سانحہ پیش آیا۔ بعد ازاں یہ تنازع الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچا، جہاں 30 ستمبر 2010 کو عدالت نے متنازع 2.77 ایکڑ زمین کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا، جن میں ایک حصہ رام للا وراجمان، دوسرا نرموہی اکھاڑا اور تیسرا حصہ سنی وقف بورڈ کے لیے مختص کیا گیا۔ اس فیصلے کو تمام بڑے فریقین نے بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس کے بعد مقدمہ حتمی سماعت کے لیے وہاں منتقل ہو گیا۔ بالآخر 9 نومبر 2019 کو بھارت کی سپریم کورٹ نے تقریباً 69 برس تک جاری رہنے والے اس مقدمے کا حتمی فیصلہ سنایا، جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے تقسیم کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متنازع زمین کا قانونی ٹائٹل ایک ایسے ٹرسٹ کے حق میں دینے کا حکم دیا جو ہندو فریق کی نمائندگی کرتا تھا، جبکہ مسلمانوں کے ازالے کے طور پر ریاست کو ہدایت کی گئی کہ ایودھیا ہی میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ متبادل زمین فراہم کی جائے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کا انہدام ایک غیر قانونی فعل اور آئینی و قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ مقدمہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کے طویل ترین اور حساس ترین زمین و جائیداد کے مقدمات میں شمار ہوتا ہے، اور قانونی طور پر یہ تنازع اس بنیادی سوال کے گرد گھومتا رہا کہ متنازع زمین کا اصل قانونی ٹائٹل کس کے پاس ہے، اور آیا عبادت کے تاریخی استعمال کو ملکیتی حق کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ریئل اسٹیٹ اور زمین کے قانون کے زاویے سے یہ مقدمہ اس اصول کی مثال کے طور پر محفوظ ہو چکا ہے کہ مذہبی مقامات بھی قانونی اعتبار سے زمین ہی شمار ہوتے ہیں، اور ان سے متعلق تنازعات کا فیصلہ طاقت یا جذبات کے بجائے ٹائٹل، شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ بابری مسجد ایودھیا کا مقدمہ آج جنوبی ایشیا میں زمین کے حقوق کی ایک مستقل اور حساس آرکائیول مثال کے طور پر درج ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com