Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

برطانوی ہند اور نوآبادیاتی نظامِ اراضی

3 Historical Event found

بیک بے ریکلیمیشن منصوبہ سمندر سے حاصل ہونے والی زمین کی لاگت اور قیمت پر بمبئی اسمبلی میں بحث

بمبئی میں آج سے ٹھیک ایک سو سال پہلے، اس وقت کے بمبئی کے اہم انگریزی اخبارات The Times of India، Bombay Chronicle اور The Bombay میں یہ خبر 16 جنوری 1926 کو شائع ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ برطانوی ہند کے ایک اہم سرکاری اجلاس میں Back Bay Reclamation Scheme سے متعلق انکوائری رپورٹ پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔ (بیک بے ریکلیمیشن اُس عمل کو کہتے ہیں جس کے تحت سمندر کے ایک حصے کو سائنسی بنیادوں پر نئی قابلِ استعمال زمین میں تبدیل کیا جاتا ہے، تاکہ اسے رہائشی، تجارتی یا عوامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔) یہ اجلاس بمبئی لیجسلیٹو کونسل میں منعقد ہوا، جہاں منصوبے کے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے اور سمندر سے حاصل کی جانے والی زمین کی قیمتوں کے تعین پر سخت سوالات اٹھائے گئے، جیسا کہ: کیا سمندر سے زمین واپس لینا مالی طور پر درست ہے؟ کیا ایسی زمین کی کوئی حقیقی قیمت ہو سکتی ہے؟ اور کیا ریاست کو اس پر سرمایہ لگانا چاہیے؟ اُس وقت کے کئی ارکان نے اسے فضول خرچی اور پیسے کا زیاں قرار دیا۔ کونسل کے اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ریکلیمیشن کے ذریعے حاصل ہونے والی زمین آیا اپنی لاگت پوری کر سکے گی یا نہیں۔ بحث کے دوران انکوائری رپورٹ کے نکات پیش کیے گئے، جن میں منصوبے کی مالی منصوبہ بندی، انجینئرنگ اخراجات، اور مستقبل میں زمین کی فروخت یا استعمال سے ممکنہ آمدن کا جائزہ شامل تھا۔ متعدد اراکین نے اسے برطانوی ہند کا سب سے متنازع اور مہنگا شہری ترقیاتی منصوبہ قرار دیا۔ 1920 کی دہائی میں بمبئی میں کی جانے والی سمندری ریکلیمیشن اگرچہ آج کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نہیں تھی، مگر اپنے زمانے کی سب سے آزمودہ انجینئرنگ سمجھی جاتی تھی۔ اس دور میں ساحل کے ساتھ مضبوط سی وال اور پتھریلے حفاظتی بند تعمیر کیے گئے تاکہ لہروں اور مد و جزر کے دباؤ کو روکا جا سکے۔ سمندر کے اندر سے ریت اور مٹی نکال کر ہائیڈرولک فلنگ کے ذریعے بھرائی کی گئی، اور زمین کو برسوں تک قدرتی طور پر بیٹھنے دیا گیا تاکہ اس میں موجود پانی خارج ہو جائے اور مٹی مستحکم ہو سکے۔ جہاں تعمیر مقصود تھی وہاں لکڑی اور ابتدائی کنکریٹ کے گہرے پائلز استعمال کیے گئے جو نرم تہوں کو عبور کر کے نیچے مضبوط سطح تک پہنچتے تھے۔ اگرچہ اس زمانے میں کمپیوٹر یا جدید ماڈلنگ دستیاب نہیں تھی، مگر برطانوی انجینئر مد و جزر اور ساحلی بہاؤ کے طویل مشاہدات اور دستی حسابات کے ذریعے ڈیزائن تیار کرتے تھے۔ انہی طریقوں کے باعث بمبئی کی یہ زمینیں ابتدائی خدشات کے باوجود رفتہ رفتہ مستحکم ہوئیں اور بعد کی دہائیوں میں دنیا کی قیمتی ترین شہری رئیل اسٹیٹ میں شمار ہونے لگیں۔ اس زمانے میں سمندر سے زمین نکال کر اسے شہر اور کاروبار کے لیے استعمال کرنا ایک نیا اور غیر معمولی خیال تھا۔ زیادہ تر لوگ اسے مہنگا، خطرناک اور انتظامی طور پر مشکل منصوبہ سمجھتے تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہی منصوبہ بمبئی کے شہر کی شکل بدلنے، زمین کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور اسے عالمی سطح پر ایک اہم ریئل اسٹیٹ شہر بنانے کا سبب بنا۔ [img:Images/otd-16-jan-2nd.jpeg | desc:جو زمین محض سو سال پہلے برطانوی انتظامیہ کے لیے بوجھ سمجھی جا رہی تھی، وقت کے ساتھ شہر کی سب سے بڑی دولت بن گئی۔ سمندر سے حاصل کی گئی یہ زمین آج ممبئی شہر کی معاشی شناخت بن چکی ہے۔] اگرچہ اس وقت یہ خبر ایک انتظامی اور مالیاتی مسئلے کے طور پر دیکھی گئی، مگر بعد کی دہائیوں میں یہی زمینیں بمبئی کی سب سے قیمتی شہری جائیدادوں میں شمار ہوئیں اور شہر کی عالمی معاشی شناخت کی بنیاد بنیں۔ آج ممبئی میں نریمن پوائنٹ (Nariman Point)، میرین ڈرائیو (Marine Drive)، کف پریڈ (Cuffe Parade)، کولابا (Colaba) اور چرچ گیٹ (Churchgate) جیسے علاقے اسی سمندر سے حاصل کی گئی زمینوں پر قائم ہیں، جہاں عالمی مالیاتی ادارے، کارپوریٹ ہیڈ کوارٹرز، بلند رہائشی عمارتیں اور مہنگی ترین شہری جائیدادیں موجود ہیں، اور یہی علاقے ممبئی کو ایشیا کی نمایاں ترین ریئل اسٹیٹ اور معاشی مراکز میں شامل کرنے کا جواز مہیا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

برطانوی ہندوستان میں نئی دہلی کے لئے زمین کا باضابطہ حصول اور نوٹیفیکیشن

21 دسمبر 1911 ء کو برطانوی راج کے دور میں نیو دہلی کے لئے زمین کے حصول کا باضابطہ نوٹس Punjab Gazette میں شائع کیا گیا۔ یہ نوٹیفیکیشن اس اعلان کے صرف نو دن بعد جاری ہوا تھا جس میں 12 دسمبر 1911 ء کو برطانوی راج کے بادشاہ King George V نے کلکتہ کی جگہ دہلی کو برطانوی ہندوستان کی نئی راجدھانی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس نوٹیفیکیشن کے ذریعے موجودہ دہلی کے جنوب مغرب میں واقع ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں کے حصول کا باقاعدہ آغاز ہوا جن پر بعد ازاں Rashtrapati Bhavan جو اس وقت وائسرائے ہاؤس کہلاتا تھا، Parliament House جسے ابتدا میں کونسل ہاؤس کہا گیا، North Block اور South Block پر مشتمل مرکزی سیکریٹریٹ، اعلیٰ انتظامی و دفاعی دفاتر اور ریاستی طاقت کی علامت سرکاری عمارتیں تعمیر کی گئیں، جبکہ ان عمارتوں کو آپس میں جوڑنے کے لئے Rajpath جیسی شاہراہ اور یادگاری مقاصد کے لئے India Gate قائم کی گئی۔ اسی منصوبہ بندی کے تحت Connaught Place کو نیو دہلی کا مرکزی تجارتی علاقہ قرار دیا گیا جہاں بینک، انشورنس دفاتر اور ریٹیل کمرشل سرگرمیاں مرکوز ہوئیں، جبکہ رہائشی اعتبار سے Lutyens’ Bungalow Zone، Civil Lines اور Karol Bagh جیسے علاقے وائسرائے، اعلیٰ نوآبادیاتی افسران، سول سروس اور متوسط طبقے کے لئے منظم رہائشی بستیوں کے طور پر ابھرے۔ یہ تمام عمل Land Acquisition Act 1894 کے تحت انجام دیا گیا تاکہ زمینوں کو عوامی اور سرکاری مقصد کے لئے قانونی طور پر حاصل کر کے برطانوی ہندوستان کے نئے دارالحکومت کی منظم شہری اور رئیل اسٹیٹ بنیاد رکھی جا سکے۔ برطانوی انتظامیہ نے اس اعلان کے بعد جلد از جلد زمین کے حصول کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے 21 دسمبر 1911 ء کو پنجاب گزٹ میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس سے زمین کی مالیت اسی دن کے مطابق طے ہو گئی تاکہ زرعی زمین مالکان کو اجارہ داری سے پہلے ہی قیمت دی جا سکے۔ اس کے نتیجے میں Malcha, Raisina اور دیگر قریبی دیہات کی زمینیں حاصل کی گئیں جہاں آج پارلیمنٹ ہاؤس، صدر مقام اور دیگر اہم سرکاری حکومتی عمارتیں موجود ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں اہم اس لئے ہے کہ برصغیر میں برطانوی دور کا سب سے بڑا زمین حصول اور نئی دارالحکومت کی تعمیر کا عمل اسی دن باقاعدہ طور پر قانونی شکل اختیار کر گیا، جس نے نہ صرف شہری منصوبہ بندی اور جائیداد کی قیمتوں کو تبدیل کیا بلکہ آنے والی دہائیوں میں شہروں میں زمین کے استعمال اور حیثیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔

مزید پڑھیں

برٹش سرکار نے کولکتہ کی بجائے دہلی کو دارالحکومت بنانے کے لیے نئی دہلی کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے حصول کی منظوری دے دی

29 نومبر 1912 کو گورنمنٹ آف انڈیا گزٹ پارٹ ون میں وہ فیصلہ کن نوٹیفکیشن شائع کیا گیا جس نے برطانوی ہند کے نئے دارالحکومت نئی دہلی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے بڑے پیمانے پر حصول کی قانونی بنیاد فراہم کی۔ یہ نوٹیفکیشن 1911 کے دہلی دربار کے بعد سامنے آیا، جب بادشاہ جارج پنجم نے دارالحکومت کو کولکتہ سے دہلی منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا اور برطانوی حکومت کو اس نئے شہر کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب اور فوری اراضی کی فراہمی درکار تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق Land Acquisition Act 1894 کی دفعہ تین اور چھ کے تحت دہلی کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو لازمی حصول کی حدود میں شامل کیا گیا، جن میں Raisina Hill، Malcha، Revenue District Mehrauli، اور دریائے جمنا کے مغربی کنارے تک کے وسیع رقبے شامل تھے۔ حاصل کی جانے والی زمین میں وہ تمام علاقے شامل تھے جنہیں وائسرائے ہاؤس، مرکزی سیکریٹریٹ، سول لائنز، مرکزی ایونیو اور نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن میں برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ نئی دہلی صرف ایک سیاسی شہر نہیں ہوگا بلکہ جدید منصوبہ بندی سے بنایا گیا مرکزی شہری مرکز ہوگا جہاں سرکاری ادارے، شاہراہیں، رہائشی بستیاں اور تجارتی مراکز ہوں گے۔ گورنمنٹ ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی زیادہ تر زرعی، جنگلاتی اور چھوٹے دیہاتی استعمال کی حامل تھی، جسے برطانوی حکومت نے ایک مربوط شہری منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے Town Planning Committee 1912 کی سفارشات پر شامل کیا۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے کلکٹر دہلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر زمین کا سروے، حد بندی، نقشہ سازی، تخمینہ کاری، مقامی ریکارڈ کی تصدیق اور حصول کی کارروائی مکمل کرے، تاکہ ڈی لوٹیئنز دہلی بروقت تعمیر کیا جا سکے۔ ڈی لوٹیئنز (Lutyens Delhi) نئی دہلی کا وہ علاقہ ہے جسے برطانوی آرکیٹیکٹ سر ایڈون لوٹیئنز نے پلان کیا تھا۔ اس حصے میں وائسرائے ہاؤس (موجودہ راشٹرپتی بھون)، پارلیمنٹ ہاؤس، نارتھ بلاک، ساوتھ بلاک اور مرکزی سیکریٹریٹ جیسی اہم سرکاری عمارتیں بنائی گئیں۔ چوڑی سڑکوں اور منظم اربن پلان کی وجہ سے یہ علاقہ آج نئی دہلی کی اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 29 نومبر 1912 کا یہ گزٹ نوٹیفکیشن برصغیر کی اراضی کے حصول، شہری منصوبہ بندی، نوآبادیاتی طرزِ تعمیر اور زمین کے ریاستی کنٹرول کی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانوی حکومت کے یہ سرکاری ریکارڈ آج نیشنل آرکائیوز آف انڈیا اور برٹش لائبریری کے India Office Records میں محفوظ ہیں، جہاں 29 نومبر 1912 کی اسی کارروائی کو نئی دہلی کے قیام کی اصل بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com