Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

انٹرنیشنل پالیٹکس اینڈ رئیل اسٹیٹ

1 Historical Event found

آج پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا، جس کے بعد دنیا کے موجودہ نقشے کی بنیاد رکھی گئی۔

آج ہم دنیا کا جو نقشہ (world map) اور گلوب دیکھتے ہیں، ان کی بنیادی ساخت انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے جو 18 جنوری 1919 کو شروع ہونے والی پیرس امن کانفرنس کے بعد کیے گئے۔ اس کانفرنس سے پہلے دنیا کا بڑا حصہ چند بڑی سلطنتوں یعنی ایمپائرز میں تقسیم تھا، جن میں سلطنتِ عثمانیہ شامل تھی جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی، روسی سلطنت جو مشرقی یورپ سے وسطی ایشیا تک وسیع علاقے پر قابض تھی، جرمن سلطنت جو یورپ کی ایک بڑی عسکری طاقت تھی، اور آسٹریا ہنگری سلطنت جو وسطی یورپ کے متعدد قومیتی خطوں پر مشتمل تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں ان سلطنتوں کا خاتمہ ہوا، اور پیرس امن کانفرنس کے بعد عثمانی، آسٹریا ہنگری، جرمن اور روسی سلطنتوں کی جگہ تقریباً پندرہ نئی ریاستیں اور سیاسی اکائیاں دنیا کے نقشے پر سامنے آئیں۔ اس کانفرنس کے بعد ابھرنے والی ریاستوں اور تقسیم شدہ خطوں کو سلطنتوں کے لحاظ سے ترتیب وار ذیل میں درج کیا جا رہا ہے: 1. عثمانی سلطنت (Ottoman Empire) سے نکلنے والے خطے: پہلی عالمی جنگ کے بعد اس عظیم سلطنت کو “مینڈیٹ سسٹم” کے تحت تقسیم کیا گیا: عراق: برطانیہ کے زیرِ اثر آیا۔ فلسطین اور اردن: برطانیہ کے انتظامی کنٹرول میں دیے گئے۔ شام اور لبنان: فرانس کے زیرِ انتظام (Mandate) چلے گئے۔ حجاز (موجودہ سعودی عرب کا حصہ): ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ 2. آسٹریا ہنگری سلطنت سے بننے والی ریاستیں: یہ وسطی یورپ کی سب سے بڑی تبدیلی تھی: آسٹریا: ایک چھوٹی جرمن زبان بولنے والی ریاست رہ گئی۔ ہنگری: ایک الگ اور خود مختار ریاست بنا۔ چیکوسلواکیہ: چیک اور سلوواک علاقوں کو ملا کر نئی ریاست بنی۔ یوگوسلاویہ: سربیا، کروشیا اور سلووینیا کو ملا کر بلقان کی ایک بڑی ریاست تشکیل دی گئی۔ 3. روسی سلطنت (Russian Empire) سے الگ ہونے والی ریاستیں: روس میں انقلاب اور عالمی جنگ کے نتیجے میں درج ذیل ممالک آزاد ہوئے: پولینڈ: (اس کا کچھ حصہ جرمنی اور آسٹریا سے بھی لیا گیا)۔ فن لینڈ: شمالی یورپ میں ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوانیا: انہیں “بالٹک ریاستیں” کہا جاتا ہے، یہ سب اسی دور میں آزاد ہوئیں۔ 4. جرمن سلطنت (German Empire) کی تقسیم: جرمنی کے رقبے میں کٹوتی کر کے درج ذیل تبدیلیاں کی گئیں: پولینڈ کو کوریڈور (Corridor) دینا: جرمنی کا کچھ علاقہ پولینڈ کو دے دیا گیا تاکہ اسے سمندر تک رسائی ملے۔ چیکوسلواکیہ: کچھ جرمن علاقے (Sudetenland) اس نئی ریاست کا حصہ بنے۔ السیس لورین (Alsace Lorraine): یہ علاقہ واپس فرانس کو دے دیا گیا۔ ڈنزیگ (Danzig): اسے ایک “آزاد شہر” (Free City) قرار دیا گیا۔ 5. افریقہ اور ایشیا میں نوآبادیاتی تقسیم: جرمنی کی افریقی نوآبادیات کو فاتح طاقتوں نے آپس میں بانٹ لیا: تنزانیہ (برطانیہ کو ملا) نمیبیا (جنوبی افریقہ اور برطانیہ کو ملا) کیمرون اور ٹوگو (فرانس اور برطانیہ کے درمیان تقسیم ہوئے) شانڈونگ (چین کا علاقہ جو جاپان کو دے دیا گیا) [img:Images/otd-18-jan-2nd.jpg | desc:یہ چار شخصیات پیرس امن کانفرنس 1919 میں پہلی عالمی جنگ کے بعد فیصلے کرنے والی مرکزی طاقتیں تھیں، جنہیں تاریخ میں Big Four کہا جاتا ہے۔ ان میں ڈیوڈ لائیڈ جارج برطانیہ کے وزیرِاعظم تھے، جو جنگ کے بعد یورپ میں طاقت کے توازن، جرمنی پر عائد کی جانے والی شرائط اور برطانوی مفادات کے تحفظ کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ جارج کلیمنسو فرانس کے وزیرِاعظم تھے، جن کی بنیادی ترجیح جرمنی کو کمزور رکھنا اور فرانس کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا تھی۔ ووڈرو ولسن امریکہ کے صدر تھے، جو امن کے لیے اپنے مشہور چودہ نکات اور ایک نئے بین الاقوامی نظم کے تصور کے علمبردار کے طور پر سامنے آئے، جبکہ ویٹوریو اورلینڈو اٹلی کے وزیرِاعظم تھے، جو جنگ میں شرکت کے بدلے علاقائی مطالبات اور سیاسی فوائد کے خواہاں تھے۔ مختصر یہ کہ انہی چار شخصیات کے فیصلوں نے نہ صرف یورپ بلکہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی سرحدوں اور حکمرانی کے نظام پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے، اور یہی فیصلے بعد کی دہائیوں میں نئی ریاستوں کے قیام، بڑے تنازعات اور عالمی سیاسی بندوبست کی بنیاد بنے۔ ( سید شایان۔ ایڈیٹوریل ہیڈ)] اس کانفرنس میں جنگ عظیم کے چار بڑے فاتح ممالک برطانیہ، فرانس، امریکہ اور اٹلی تھے، جنہیں اس دور میں Big Four کہا گیا۔ ان فاتح طاقتوں نے شکست خوردہ سلطنتوں کی نوآبادیات اور علاقوں کو معاہدات اور مینڈیٹ نظام کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ مینڈیٹس League of Nations کے تحت قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے وسیع خطے مقامی عوام کی مرضی کے بغیر نئی سرحدوں اور نئی حکمرانی کے نظام کے تابع ہو گئے۔ تاریخی زاویے سے دیکھا جائے تو پیرس امن کانفرنس محض ایک امن معاہدہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن (balance of power) کی نئی تشکیل تھی، جس میں فاتح طاقتوں نے عالمی نظم (new world order) کو اپنے مفادات کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا۔ اگرچہ اس کانفرنس نے پہلی عالمی جنگ کا رسمی اختتام کیا، مگر مقامی آبادیوں کی خواہشات کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی سرحدی تقسیم (artificial borders) اور مینڈیٹ نظام (mandate system) نے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا عدم استحکام کو جنم دیا۔ یہی غیر متوازن فیصلے یورپ میں انتقامی سیاست اور قوم پرستی کے فروغ کا باعث بنے، جو بالآخر دوسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے آئے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں آج تک جاری فلسطین اور اسرائیل کا تنازع، مصر اور دیگر عرب ریاستوں کی جنگیں، اور خطے میں مسلسل کشیدگی اسی امن کانفرنس کی نوآبادیاتی تقسیم کا تاریخی تسلسل ہیں۔ پیرس امن کانفرنس نے جہاں جدید دنیا کے نقشے کی بنیاد رکھی، وہیں اس نے ایسے unresolved conflicts چھوڑے جو ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی عالمی سیاست اور انسانی المیے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com