Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

امریکن لینڈ اینڈ رئیل اسٹیٹ سسٹم

4 Historical Event found

نیویارک میں “فیئر ہاؤسنگ” قانون کی منظوری، رہائش کے شعبے میں امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا

5 دسمبر 1957 کو نیویارک شہر نے ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے خلاف قانون سازی کر کے امریکہ کا پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی دن نیویارک سٹی کونسل نے Fair Housing Practices Law کی منظوری دی، جس کے تحت مکانات کی خرید و فروخت اور کرایہ داری میں رنگ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اس قانون کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کے بڑے شہروں میں ہاؤسنگ مارکیٹ میں نسلی اور مذہبی امتیاز ایک معمول بن چکا تھا، جہاں مکان مالکان اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سیاہ فام شہریوں، یہودی خاندانوں اور دیگر اقلیتی گروہوں کو مخصوص علاقوں میں گھر خریدنے یا کرائے پر لینے سے روکتے تھے۔ اس کے نتیجے میں شہروں کے اندر نسلی بنیادوں پر علیحدہ بستیاں وجود میں آ گئیں اور یہ واضح تضاد سامنے آیا کہ قانونی طور پر شہری برابر ہیں، مگر رہائش کے حق میں برابر نہیں۔ اسی عملی ناانصافی اور شہری حقوق کے بڑھتے ہوئے شعور نے فیئر ہاؤسنگ پریکٹسز لا جیسے قانون کو ناگزیر بنا دیا تاکہ رہائش کو ایک بنیادی شہری حق کے طور پر تحفظ دیا جا سکے۔ یہ فیصلہ امریکی شہری حقوق کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ پہلی مرتبہ کسی بڑے شہر نے نجی رہائش کے شعبے میں امتیاز کے خلاف واضح اور باضابطہ موقف اختیار کیا۔ اس قانون نے منصفانہ رہائش کے تصور کو قانونی تحفظ فراہم کیا اور ہاؤسنگ مارکیٹ کو سماجی مساوات اور شہری حقوق کے اصولوں سے جوڑ دیا۔ بعد ازاں دسمبر 1957 کے اختتام پر یہ قانون مقامی قانون (Local Law) کی حیثیت سے نافذ ہوا، تاہم تاریخی اور پالیسی اعتبار سے 5 دسمبر 1957 کو وہ دن تسلیم کیا جاتا ہے جب نیویارک نے رہائش کے شعبے میں امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دینے کی بنیاد رکھی۔ یہ قانون بعد کے برسوں میں امریکہ بھر میں فیئر ہاؤسنگ قوانین اور وفاقی سطح پر ہونے والی اصلاحات کے لیے ایک عملی نمونہ بنا۔

مزید پڑھیں

الاسکا امریکہ کی 49ویں ریاست بن گیا۔

3 جنوری 1959 کو Alaska کا امریکہ کی انچاسویں ریاست بننا دراصل تاریخ میں ایک بڑے زمینی قطعے کی ملکیت کی منتقلی کا دن ہے۔ امریکی ریاست بننے سے پہلے Alaska دراصل Russia کی سلطنت، یعنی Russian Empire کا حصہ تھا اور اسے Russian America کہا جاتا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں روسی مہم جوؤں نے یہاں قدم رکھا، جہاں بنیادی دلچسپی قیمتی فر (fur) کی تجارت تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تجارت کمزور ہوتی گئی اور روس کو اس خطے سے معاشی فائدہ تقریباً ختم ہو گیا۔ چونکہ الاسکا جغرافیائی لحاظ سے روس سے انتہائی دور تھا، اس لیے اس کا انتظام اور دفاع روس کے لیے بہت مہنگا اور مشکل بنتا جا رہا تھا، خاص طور پر اس خدشے کے باعث کہ اگر کسی جنگ کی صورت میں برطانیہ، جو اس وقت کینیڈا پر قابض تھا، آسانی سے الاسکا پر قبضہ کر سکتا ہے۔ انہی حالات کے پیشِ نظر روس نے یہ فیصلہ کیا کہ اس خطے کو کسی دوستانہ طاقت کو فروخت کر دینا زیادہ بہتر ہوگا، چنانچہ 1867ء میں الاسکا کو United States کو صرف 7.2 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ اس معاہدے کو امریکہ میں ابتدا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے “Seward’s Folly” کہا گیا، کیونکہ یہ سودا امریکی وزیرِ خارجہ William H. Seward نے طے کیا تھا، مگر بعد ازاں جب الاسکا میں سونا، تیل اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل دریافت ہوئے تو یہی سودا تاریخ کے سب سے کامیاب اور فائدہ مند معاہدوں میں شمار ہونے لگا۔ الاسکا کا مجموعی رقبہ تقریباً تین سو پچہتر ملین ایکڑ پر مشتمل ہے۔ ریاست بننے کے ساتھ ہی Alaska Statehood Act کے تحت امریکی وفاقی حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلہ نافذ کیا، جس کے مطابق نئی ریاست کو یہ حق دیا گیا کہ وہ وفاقی اراضی میں سے تقریباً ایک سو دو سے ایک سو تین ملین ایکڑ زمین اپنی ملکیت میں منتخب کر کے منتقل کر لے۔ امریکی تاریخ میں کسی بھی ریاست کو اتنی بڑی زمین ایک ہی قانونی فریم ورک کے تحت منتقل نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں الاسکا کے اوائل دنوں میں باقاعدہ شہری انفراسٹرکچر، ٹاؤن پلاننگ اور کمرشل زوننگ کی بنیاد پڑی۔ ریاستی حیثیت سے قبل الاسکا کی زمین کی قدر زیادہ تر تاریخی طور پر سونے کی کانوں اور محدود معدنی وسائل تک محدود تھی، مگر 1959 کے بعد شروع ہونے والے سرکاری سرویز، لیزنگ پالیسیوں اور زمین کے انتخابی عمل نے اس خطے کو سرمایہ کاروں کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔ چند ہی برس بعد، 1968 میں Prudhoe Bay کے علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر کی دریافت نے زمین کی معاشی تعریف ہی بدل دی۔ بنجر اور سرد خطہ، جسے طویل عرصہ قابلِ استعمال نہیں سمجھا جاتا تھا، اچانک عالمی توانائی کا مرکز بن گیا۔ اسی تبدیلی نے الاسکا کی کمرشل زمین کو کھربوں ڈالر کی اسٹریٹجک ویلیو تک پہنچایا۔ [img:Images/3-jan-2-otd.jpeg | desc:تصویر میں جو شخصیت درمیان میں نظر آ رہی ہے وہ Bob Bartlett ہیں، جو اس وقت الاسکا کے علاقائی گورنر (Territorial Governor) تھے۔ ان کے اردگرد موجود افراد الاسکا کی سیاسی قیادت اور امریکی وفاقی نمائندے ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں 49 ستاروں والا امریکی پرچم موجود ہے جو الاسکا کے امریکہ کی 49ویں ریاست بننے کی علامت تھا۔] ریاست بننے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے فنڈز نے انفراسٹرکچر کی ترقی کو نئی رفتار دی، جس کے نتیجے میں زمین کی قیمتوں میں نمایاں اور فیصلہ کن اضافہ ہوا۔ خاص طور پر Anchorage جیسے بڑے شہری مراکز میں باقاعدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہوئیں، جنہوں نے شہری توسیع اور منظم رہائش کو فروغ دیا۔ اسی طرح Fairbanks میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات کے پھیلاؤ نے شمالی علاقوں کو معاشی اور سماجی طور پر متحرک کیا، جس سے نہ صرف مقامی آبادی کو سہولیات میسر آئیں بلکہ خطے کی مجموعی ترقی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ سڑکوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک نے ان زمینوں تک رسائی ممکن بنائی جو پہلے جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث غیر استعمال شدہ تھیں۔ ریاستی الحاق نے زمین کے حقوق سے متعلق ایک اہم تنازع بھی پیدا کیا، کیونکہ مقامی آبادی کے تاریخی دعوے وفاقی اور ریاستی زمین کے انتخاب سے متصادم ہو رہے تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 1971 میں Alaska Native Claims Settlement Act نافذ کیا گیا، جس کے تحت تقریباً چوالیس ملین ایکڑ زمین مقامی قبائلی کارپوریشنز کو منتقل کی گئی۔

مزید پڑھیں

ٹیکساس کا امریکہ سے الحاق

29 دسمبر 1845 کو ٹیکساس باضابطہ طور پر امریکہ کی اٹھائیسویں ریاست بنا۔ یہ واقعہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ زمینی ملکیت اور رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ کا ایک غیر معمولی موڑ ثابت ہوا۔ اس ایک دن کے فیصلے کے نتیجے میں تقریباً دو لاکھ اٹھسٹھ ہزار یعنی 259000 مربع میل، یعنی لگ بھگ چھ لاکھ پچانوے ہزار مربع کلومیٹر رقبہ امریکی حکومت کے دائرہ اختیار میں آ گیا۔ ٹیکساس کی حیثیت اس لیے منفرد تھی کہ یہ خطہ پہلے ایک آزاد جمہوریہ رہ چکا تھا۔ یہاں زمینیں پہلے سے آباد تھیں۔ زراعت ہو رہی تھی۔ نجی اور اجتماعی ملکیت کے دعوے موجود تھے۔ چنانچہ جب ٹیکساس امریکہ میں شامل ہوا تو یہ تمام زمینیں ایک ہی دن میں امریکی آئینی اور قانونی نظام کے تحت آ گئیں۔ اس عمل نے زمین کی رجسٹریشن، لینڈ کلیمز، زرعی ملکیت اور مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کو امریکی کلچر کے زیر اثر ایک بالکل نئے فریم ورک میں منتقل کر دیا، جہاں ملکیت کے تصورات، قانونی دستاویزات، حد بندی کے اصول اور شہری توسیع کا انداز مقامی روایت کے بجائے وفاقی امریکی نظام کے مطابق ڈھلنے لگا۔ تاریخ میں اس الحاق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ کسی خودمختار ریاست کے امریکہ میں شامل ہونے سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا زمینی رقبے کا اضافہ تھا۔ یہ رقبہ اس وقت کئی یورپی ممالک سے بڑا تھا اور اسی نے امریکی پراپرٹی مارکیٹ کو جنوبی اور مغربی سمت میں پھیلنے کا راستہ دیا۔ بعد کے برسوں میں یہی زمینیں بڑے زرعی اسٹیٹس، ریلوے منصوبوں، صنعتی مراکز اور نئے شہروں کی بنیاد بنیں۔ ٹیکساس کے الحاق کا سب سے بڑا فائدہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کو یہ بھی ہوا کہ اس کی طویل ساحلی پٹی نے امریکہ کو خلیجِ میکسیکو تک ایک مضبوط رسائی فراہم کی۔ اس جغرافیائی تبدیلی کا ایک اور فائدہ سمندر سے دور واقع لینڈ لاکڈ ریاستوں کی معاشی ترقی کی صورت میں سامنے آیا۔ ٹیکساس کی بندرگاہوں کے قیام اور ترقی سے اندرونی علاقوں کی زرعی اور صنعتی پیداوار کے لیے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا ایک نیا اور آسان راستہ کھل گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جب ریلوے کے وسیع جال اور دریاؤں کے مربوط نظام نے ان لینڈ لاکڈ ریاستوں کو ٹیکساس کے ساحلوں تک رسائی دی تو یہ اندرونی علاقے بھی عالمی تجارت کے دھارے میں شامل ہو گئے۔ یوں ٹیکساس کا الحاق امریکہ کی مجموعی معاشی خوشحالی کے لیے ایک تدریجی مگر نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں

معاہدہ نیو ایکوٹا جب ایک اقلیتی گروہ نے پوری قوم اور ملک کا سودا کر لیا۔

29 دسمبر 1835 کو امریکہ کی ریاست جارجیا میں ایک قانونی معاہدہ طے پایا جسے تاریخ میں Treaty of New Echota کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ زمین کی ملکیت، ریاست کے اختیارات اور قبائلی حقوق کے حوالے سے امریکی تاریخ کا ایک متنازع اور سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب امریکہ میں جنوب مشرقی ریاستیں خصوصاً جارجیا، الاباما اور ٹینیسی زرعی معیشت کا مرکز بن چکی تھیں، کپاس کی کاشت (Cotton Economy) تیزی سے پھیل رہی تھی اور زرخیز زمینوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ ان علاقوں میں مقامی قبائل بالخصوص چیریکی (Cherokee) قوم کی ملکیت میں وسیع رقبہ موجود تھا، جو امریکی توسیعی پالیسی (Westward Expansion) کے راستے میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں 1830 میں امریکی کانگریس نے Indian Removal Act منظور کیا، جس کے تحت مقامی قبائل کو دریائے مسیسیپی کے مشرق سے مغرب کی جانب منتقل کرنے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی۔ نیو ایکوٹا کا معاہدہ اسی پالیسی کا عملی نتیجہ تھا۔ 29 دسمبر 1835 کو یہ معاہدہ چیریکی قوم کے اس وقت کے دارالحکومت New Echota میں طے پایا۔ معاہدے کے مطابق چیریکی قوم نے مسیسیپی کے مشرق میں واقع اپنی تمام زمینیں، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً سات ملین ایکڑ (Seven Million Acres) بنتا تھا، امریکی حکومت کے حوالے کر دیں۔ اس کے بدلے حکومت نے پانچ ملین ڈالر (Five Million Dollars) بطور معاوضہ ادا کرنے اور مغرب میں متبادل زمین فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ رقبہ موجودہ ریاست اوکلاہوما کے علاقے میں واقع تھا، جسے اس دور میں Indian Territory کہا جاتا تھا۔ قانونی اعتبار سے اس معاہدے کا سب سے اہم اور متنازع پہلو نمائندگی (Representation) کا مسئلہ تھا۔ اس معاہدے پر چیریکی قوم کی منتخب قیادت یا قومی کونسل نے دستخط نہیں کیے۔ چیریکی فریق کی جانب سے دستخط کرنے والے افراد ایک محدود سیاسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جن میں Major Ridge، John Ridge، Elias Boudinot اور Stand Watie شامل تھے۔ بعد ازاں اس گروہ کو Ridge Party کے نام سے جانا گیا۔ چیریکی قوم کے منتخب سربراہ John Ross اور اکثریتی کونسل نے اس معاہدے کو غیر قانونی (Invalid) اور قوم کی اجتماعی مرضی کے خلاف قرار دیا۔ امریکی حکومت کی نمائندگی John F. Schermerhorn نے کی، جو وفاقی کمشنر (Federal Commissioner) تھے۔ اس کے باوجود کہ چیریکی اکثریت نے معاہدہ مسترد کر دیا تھا، امریکی سینیٹ نے اسے محض ایک ووٹ کی برتری سے منظور کر لیا۔ اس منظوری نے معاہدے کو وفاقی قانون (Federal Law) کا درجہ دے دیا اور ریاستی طاقت کے استعمال کی راہ ہموار ہو گئی۔ اس معاہدے کو نہ مانتے ہوئے چیریکی قوم کی ایک بڑی تعداد نے اپنی زمینیں چھوڑنے سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں امریکی فوج نے جبری بے دخلی (Forced Removal) کا عمل شروع کیا۔ 1838 اور 1839 کے دوران ہزاروں چیریکی افراد کو حراستی کیمپوں میں جمع کیا گیا اور پھر مغرب کی طرف منتقل کیا گیا۔ یہ عمل تاریخ میں Trail of Tears (آنسوؤں کا راستہ) کے نام سے درج ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً سولہ ہزار چیریکی باشندوں کو جبری طور پر ان کی آبائی زمینوں سے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ اس سفر کا فاصلہ اوسطاً بارہ سو میل (Twelve Hundred Miles) تھا، جو پیدل، کشتیوں اور محدود سواری کے ذریعے طے کیا گیا۔ سرد موسم، ناکافی خوراک، بیماریوں اور ناقص انتظامات کے باعث اندازاً چار ہزار افراد اس دوران ہلاک ہوئے۔ چیریکی زبان میں اس سفر کو Nu na da ut sun y کہا جاتا ہے، جس کا مفہوم ہے وہ راستہ جہاں رونا پڑا۔ مغرب میں پہنچنے کے بعد چیریکی قوم نے اوکلاہوما میں دوبارہ اپنی سیاسی اور سماجی ساخت قائم کی۔ انہوں نے Tahlequah کو اپنا نیا دارالحکومت بنایا، آئینی حکومت، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور اخبارات دوبارہ منظم کیے۔ تاہم قانونی طور پر ان کی سابقہ زمینوں پر ملکیتی حقوق ختم تصور کیے گئے۔ یہ معاملہ جدید دور میں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ 2020 میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے McGirt v. Oklahoma نے یہ تسلیم کیا کہ اوکلاہوما کا ایک بڑا حصہ قانونی طور پر اب بھی قبائلی ریزرویشن کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ پرانے معاہدوں کو کبھی باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے زمین، دائرہ اختیار (Jurisdiction) اور پراپرٹی قانون پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ نیو ایکوٹا کے معاہدے (Treaty of New Echota) اور اس کے بعد ہونے والی چیریکی قوم کی جبری منتقلی پر متعدد سنجیدہ دستاویزی فلمیں اور ڈاکیو ڈراماز موجود ہیں جو تاریخی شواہد اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر اس سانحے کو محفوظ کرتی ہیں۔ ان میں Trail of Tears: Cherokee Legacy اور PBS کی سیریز We Shall Remain نمایاں ہیں، جو Indian Removal Act اور Treaty of New Echota کے قانونی اور سیاسی اثرات کو بیان کرتی ہیں کہ کس طرح Treaties (معاہدات) اور Federal Policy (وفاقی پالیسی) کے ذریعے زمین کی ملکیت اور آبادی کی جغرافیائی ترتیب کو تبدیل کیا گیا۔ نیو ایکوٹا کا معاہدہ سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیوز میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ یہ جبری معاہدہ یاد دلاتا رہے کہ کس طرح ریاستی پالیسی، قانونی معاہدے اور معاشی مفادات مل کر عام انسان کی زمین کی ملکیت کو غصب کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com