Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

18 January

Home

Select Date

1 Historical Event found for 18 January
1

On This Date

18 جنوری 1919

آج پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا، جس کے بعد دنیا کے موجودہ نقشے کی بنیاد رکھی گئی۔

 آج پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا، جس کے بعد دنیا کے موجودہ نقشے کی بنیاد رکھی گئی۔

آج ہم دنیا کا جو نقشہ (world map) اور گلوب دیکھتے ہیں، ان کی بنیادی ساخت انہی فیصلوں کا نتیجہ ہے جو 18 جنوری 1919 کو شروع ہونے والی پیرس امن کانفرنس کے بعد کیے گئے۔

اس کانفرنس سے پہلے دنیا کا بڑا حصہ چند بڑی سلطنتوں یعنی ایمپائرز میں تقسیم تھا، جن میں سلطنتِ عثمانیہ شامل تھی جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کے تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی، روسی سلطنت جو مشرقی یورپ سے وسطی ایشیا تک وسیع علاقے پر قابض تھی، جرمن سلطنت جو یورپ کی ایک بڑی عسکری طاقت تھی، اور آسٹریا ہنگری سلطنت جو وسطی یورپ کے متعدد قومیتی خطوں پر مشتمل تھی۔

پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں ان سلطنتوں کا خاتمہ ہوا، اور پیرس امن کانفرنس کے بعد عثمانی، آسٹریا ہنگری، جرمن اور روسی سلطنتوں کی جگہ تقریباً پندرہ نئی ریاستیں اور سیاسی اکائیاں دنیا کے نقشے پر سامنے آئیں۔

اس کانفرنس کے بعد ابھرنے والی ریاستوں اور تقسیم شدہ خطوں کو سلطنتوں کے لحاظ سے ترتیب وار ذیل میں درج کیا جا رہا ہے:

1. عثمانی سلطنت (Ottoman Empire) سے نکلنے والے خطے:

پہلی عالمی جنگ کے بعد اس عظیم سلطنت کو “مینڈیٹ سسٹم” کے تحت تقسیم کیا گیا:

عراق: برطانیہ کے زیرِ اثر آیا۔

فلسطین اور اردن: برطانیہ کے انتظامی کنٹرول میں دیے گئے۔

شام اور لبنان: فرانس کے زیرِ انتظام (Mandate) چلے گئے۔

حجاز (موجودہ سعودی عرب کا حصہ): ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

2. آسٹریا ہنگری سلطنت سے بننے والی ریاستیں:

یہ وسطی یورپ کی سب سے بڑی تبدیلی تھی:

آسٹریا: ایک چھوٹی جرمن زبان بولنے والی ریاست رہ گئی۔

ہنگری: ایک الگ اور خود مختار ریاست بنا۔

چیکوسلواکیہ: چیک اور سلوواک علاقوں کو ملا کر نئی ریاست بنی۔

یوگوسلاویہ: سربیا، کروشیا اور سلووینیا کو ملا کر بلقان کی ایک بڑی ریاست تشکیل دی گئی۔

3. روسی سلطنت (Russian Empire) سے الگ ہونے والی ریاستیں:

روس میں انقلاب اور عالمی جنگ کے نتیجے میں درج ذیل ممالک آزاد ہوئے:

پولینڈ: (اس کا کچھ حصہ جرمنی اور آسٹریا سے بھی لیا گیا)۔

فن لینڈ: شمالی یورپ میں ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔

ایسٹونیا، لیٹویا اور لتھوانیا: انہیں “بالٹک ریاستیں” کہا جاتا ہے، یہ سب اسی دور میں آزاد ہوئیں۔

4. جرمن سلطنت (German Empire) کی تقسیم:

جرمنی کے رقبے میں کٹوتی کر کے درج ذیل تبدیلیاں کی گئیں:

پولینڈ کو کوریڈور (Corridor) دینا: جرمنی کا کچھ علاقہ پولینڈ کو دے دیا گیا تاکہ اسے سمندر تک رسائی ملے۔

چیکوسلواکیہ: کچھ جرمن علاقے (Sudetenland) اس نئی ریاست کا حصہ بنے۔

السیس لورین (Alsace Lorraine): یہ علاقہ واپس فرانس کو دے دیا گیا۔

ڈنزیگ (Danzig): اسے ایک “آزاد شہر” (Free City) قرار دیا گیا۔

5. افریقہ اور ایشیا میں نوآبادیاتی تقسیم:

جرمنی کی افریقی نوآبادیات کو فاتح طاقتوں نے آپس میں بانٹ لیا:

تنزانیہ (برطانیہ کو ملا)

نمیبیا (جنوبی افریقہ اور برطانیہ کو ملا)

کیمرون اور ٹوگو (فرانس اور برطانیہ کے درمیان تقسیم ہوئے)

شانڈونگ (چین کا علاقہ جو جاپان کو دے دیا گیا)

article image
یہ چار شخصیات پیرس امن کانفرنس 1919 میں پہلی عالمی جنگ کے بعد فیصلے کرنے والی مرکزی طاقتیں تھیں، جنہیں تاریخ میں Big Four کہا جاتا ہے۔ ان میں ڈیوڈ لائیڈ جارج برطانیہ کے وزیرِاعظم تھے، جو جنگ کے بعد یورپ میں طاقت کے توازن، جرمنی پر عائد کی جانے والی شرائط اور برطانوی مفادات کے تحفظ کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ جارج کلیمنسو فرانس کے وزیرِاعظم تھے، جن کی بنیادی ترجیح جرمنی کو کمزور رکھنا اور فرانس کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا تھی۔ ووڈرو ولسن امریکہ کے صدر تھے، جو امن کے لیے اپنے مشہور چودہ نکات اور ایک نئے بین الاقوامی نظم کے تصور کے علمبردار کے طور پر سامنے آئے، جبکہ ویٹوریو اورلینڈو اٹلی کے وزیرِاعظم تھے، جو جنگ میں شرکت کے بدلے علاقائی مطالبات اور سیاسی فوائد کے خواہاں تھے۔ مختصر یہ کہ انہی چار شخصیات کے فیصلوں نے نہ صرف یورپ بلکہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی سرحدوں اور حکمرانی کے نظام پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے، اور یہی فیصلے بعد کی دہائیوں میں نئی ریاستوں کے قیام، بڑے تنازعات اور عالمی سیاسی بندوبست کی بنیاد بنے۔ ( سید شایان۔ ایڈیٹوریل ہیڈ)

اس کانفرنس میں جنگ عظیم کے چار بڑے فاتح ممالک برطانیہ، فرانس، امریکہ اور اٹلی تھے، جنہیں اس دور میں Big Four کہا گیا۔ ان فاتح طاقتوں نے شکست خوردہ سلطنتوں کی نوآبادیات اور علاقوں کو معاہدات اور مینڈیٹ نظام کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ مینڈیٹس League of Nations کے تحت قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے وسیع خطے مقامی عوام کی مرضی کے بغیر نئی سرحدوں اور نئی حکمرانی کے نظام کے تابع ہو گئے۔

تاریخی زاویے سے دیکھا جائے تو پیرس امن کانفرنس محض ایک امن معاہدہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن (balance of power) کی نئی تشکیل تھی، جس میں فاتح طاقتوں نے عالمی نظم (new world order) کو اپنے مفادات کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا۔ اگرچہ اس کانفرنس نے پہلی عالمی جنگ کا رسمی اختتام کیا، مگر مقامی آبادیوں کی خواہشات کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی سرحدی تقسیم (artificial borders) اور مینڈیٹ نظام (mandate system) نے یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا عدم استحکام کو جنم دیا۔ یہی غیر متوازن فیصلے یورپ میں انتقامی سیاست اور قوم پرستی کے فروغ کا باعث بنے، جو بالآخر دوسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے آئے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں آج تک جاری فلسطین اور اسرائیل کا تنازع، مصر اور دیگر عرب ریاستوں کی جنگیں، اور خطے میں مسلسل کشیدگی اسی امن کانفرنس کی نوآبادیاتی تقسیم کا تاریخی تسلسل ہیں۔ پیرس امن کانفرنس نے جہاں جدید دنیا کے نقشے کی بنیاد رکھی، وہیں اس نے ایسے unresolved conflicts چھوڑے جو ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی عالمی سیاست اور انسانی المیے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
▫️ پیرس 1919
وہ چھ ماہ جنہوں نے دنیا بدل دی
(Paris 1919: Six Months That Changed the World)
مصنف: مارگریٹ میک ملن ناشر: رینڈم ہاؤس
سنِ اشاعت: 2001
▫️ دی مینڈیٹ سسٹم
دستاویزات برائے لیگ آف نیشنز
(The Mandate System: Documents of the League of Nations)
سرکاری ریکارڈ: لیگ آف نیشنز
اشاعت: جنیوا
دورِ اشاعت: 1920 کی دہائی
Views
5

مزید خبریں "On This Date" سے

news
ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیان پہلی بار بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی حصول کی منظوری دی

گورنمنٹ آف انڈیا کے گزٹ پارٹ ون میں 28 نومبر 1903 کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسٹ انڈین ریلوے نے ہاوڑہ اور لِللوا کے درمیانی خطے میں پہلی مرتبہ بڑے پی...

مزید پڑھیں
news
مصر نے نہر سویز قومی ملکیت میں لے لی، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑا بحران پیدا ہو گیا

مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اعلان کیا کہ نہر سویز چلانے والی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا انتظام مصر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سکندریہ میں ایک بڑے عوامی ج...

مزید پڑھیں
news
لندن: جائیداد کی ملکیت کو سرکاری رجسٹر میں اندراج سے مشروط کر دیا گیا، تاریخی فیصلہ

برطانیہ میں زمین اور جائیداد کی ملکیت کا تصور اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوا جب لینڈ رجسٹریشن رولز 1925 کو Statutory Instrument 1925 No. 1093 کے تحت قانونی طور ...

مزید پڑھیں
news
جب مصر کے تین ہزار سال قدیم ابو سمبل مندروں کو اسوان ڈیم کے پانی سے بچانے کے لیے پہاڑ کاٹ کر نئی جگہ منتقل کرنے کا تاریخی مرحلہ شروع ہوا

12 اگست 1965 کو مصر کے جنوبی علاقے نوبیا میں دنیا کے عظیم ترین تعمیراتی اور ثقافتی ورثہ بچاؤ منصوبوں میں سے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا، جب ابو سمبل کے تین ...

مزید پڑھیں
news
نیویارک میں تارکین وطن کی رہائشی حالتوں کو بہتر بنانے کے لیے ٹینیمنٹ ہاؤس ایکٹ منظور کیا گیا

14 نومبر 1884 کو، نیویارک اسٹیٹ legislچر نے ٹینیمنٹ ہاؤس ایکٹ منظور کیا، جو تارکین وطن کی رہائشی عمارتوں میں خوفناک حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی قانون ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں