From Real Estate History
On 10 March 1930, the 27th President of the United States, William Howard Taft, was laid to rest at the nation’s renowned national burial ground, Arlington National Cemetery. He became the first U.S. president to be buried in this historic cemetery. Taft had passed away two days earlier, on 8 March 1930, and was interred with full state honors.
Arlington National Cemetery is the most prominent national cemetery in the United States. It is located in the state of Virginia, directly across the Potomac River from Washington, D.C. In practical terms, it forms part of the greater Washington metropolitan area.
The cemetery was established in 1864 during the American Civil War. From today’s perspective, it has existed for approximately 160 years. The land originally belonged to the family of Robert E. Lee, the Confederate Army commander during the Civil War. During the conflict, the U.S. government converted the property into a military burial ground, which later evolved into the country’s principal national cemetery.
Today, Arlington National Cemetery spans roughly 639 acres. According to official estimates, it contains more than 400,000 graves. These include the resting places of American soldiers, war heroes, national leaders, Supreme Court justices, and many other prominent figures. The cemetery remains active, and thousands of burials continue to take place there each year.
One of the most interesting and striking features of Arlington National Cemetery is that despite having more than 400,000 graves, every grave is marked with a white marble headstone of the same size and design. No grave of a soldier, general, judge, or even a president appears larger or more prominent than the others. The idea behind this uniformity is to convey a powerful message that in the face of national service and sacrifice, all ranks and titles stand equal.
The historical significance of this cemetery is profound. U.S. presidents, military generals, and national heroes are buried here. The site also contains the famous memorial known as the Tomb of the Unknown Soldier, where a continuous military guard stands in honor of unidentified soldiers who died in service to the nation.
▪️Syed Shayan Real Estate Archive
▪ Reference(s):
دس مارچ 1930 کو امریکہ کے ستائیسویں صدر ولیم ہاورڈ ٹافٹ (William Howard Taft) کو امریکہ کے معروف قومی قبرستان ارلنگٹن نیشنل سیمیٹری میں سپرد خاک کیا گیا۔ وہ امریکی تاریخ کے پہلے صدر تھے جنہیں اس قومی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ٹافٹ کا انتقال دو دن پہلے آٹھ مارچ 1930 کو ہوا تھا، جس کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ اس تاریخی قبرستان میں دفن کیا گیا۔
ارلنگٹن نیشنل سیمیٹری امریکہ کا سب سے مشہور قومی قبرستان ہے۔ یہ قبرستان امریکی ریاست ورجینیا میں واقع ہے اور جغرافیائی طور پر واشنگٹن ڈی سی کے بالکل سامنے دریائے پوٹومک کے کنارے موجود ہے۔ عملی طور پر اسے واشنگٹن ڈی سی کے میٹروپولیٹن علاقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ قبرستان 1864 میں امریکی خانہ جنگی کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ اس طرح موجودہ وقت کے حساب سے اس قبرستان کو قائم ہوئے تقریباً ایک سو ساٹھ سال ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں اس زمین کا تعلق امریکی خانہ جنگی کے دوران کنفیڈریٹ فوج کے کمانڈر رابرٹ ای لی کے خاندان سے تھا۔ جنگ کے دوران امریکی حکومت نے اس زمین کو فوجی قبرستان میں تبدیل کر دیا اور بعد میں یہی جگہ امریکہ کا مرکزی قومی قبرستان بن گئی۔
آج یہ قبرستان تقریباً 639 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ مختلف سرکاری اندازوں کے مطابق یہاں چار لاکھ سے زیادہ قبریں موجود ہیں۔ ان میں امریکی فوج کے شہداء، جنگی ہیروز، قومی رہنما، سپریم کورٹ کے جج اور دیگر اہم شخصیات دفن ہیں۔ یہ قبرستان آج بھی فعال ہے اور ہر سال یہاں ہزاروں نئی تدفینیں کی جاتی ہیں۔

ارلنگٹن نیشنل سیمیٹری کی سب سے دلچسپ اور متاثر کن بات یہ ہے کہ یہاں چار لاکھ سے زیادہ قبریں ہونے کے باوجود ہر قبر کا سفید سنگِ مرمر کا کتبہ ایک ہی سائز اور ایک ہی انداز میں بنایا گیا ہے۔ یہاں کسی فوجی، جنرل، جج یا صدر کی قبر ظاہری طور پر باقی قبروں سے بڑی یا نمایاں نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ قومی خدمت اور قربانی کے سامنے تمام عہدے برابر ہیں
اس قبرستان کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہاں امریکی صدور، فوجی جرنیل اور جنگی ہیروز دفن ہیں۔ اسی قبرستان میں مشہور یادگار Tomb of the Unknown Soldier بھی موجود ہے جہاں نامعلوم فوجیوں کی یاد میں مسلسل فوجی گارڈ تعینات رہتا ہے۔
▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو
23 اکتوبر 1972 کو کامرسل عمارتوں کے لیے پائیدار توانائی کی کارکردگی کے معیارات نافذ کیے گئے، جس نے کامرسل تعمیرات میں توانائی کے تحفظ کے لیے پہلی جامع ضروریات ق...
مزید پڑھیں18 نومبر 1967 کو تہران نے پہلی ہائی رائز ریگولیشن پالیسی متعارف کرائی تاکہ شہر کی توسیع اور عمودی نمو کو منظم کیا جا سکے۔ 1960 کی دہائی میں تہران کم منزلہ شہر س...
مزید پڑھیں
انگلینڈ کے تاریخی شہر پیٹربرو کو سرکاری طور پر ’’نیو ٹاؤن‘‘ یعنی نیا منصوبہ بند شہر قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ برطانیہ کے نیو ٹاؤنز پروگرام کی تیسری بڑی لہر کا حصہ ...
مزید پڑھیں21 نومبر 1987 کو پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بین الاضلاعی زرعی اسٹوریج اور کولڈ چین میں بہتری کے منصوبے کی منظوری دی، جو اس وقت زرعی پیداوار کے بڑھت...
مزید پڑھیں
20 دسمبر 1803 رئیل اسٹیٹ اور زمینی معاہدوں کی عالمی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جس نے نہ صرف زمین کی خرید و فروخت کے تصور کو بدل دیا بلکہ ریاستی توسیع، جغرافیائی سیاس...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!