From Real Estate History
On October 19, 1895, the construction industry witnessed a revolutionary transformation with the widespread adoption of steel-frame technology for skyscrapers. This innovation enabled buildings to reach unprecedented heights, fundamentally changing urban landscapes across major cities. The Home Insurance Building in Chicago, completed earlier that decade, had demonstrated the potential of steel skeletons, but by 1895 the technology became standard for commercial structures. This construction revolution allowed cities to grow vertically rather than horizontally, creating the modern skylines we recognize today while establishing new standards for urban development and commercial real estate construction methodologies.
▪ Reference(s):
19 اکتوبر 1895 کو تعمیراتی صنعت نے ایک انقلابی دور میں قدم رکھا جب آسمان چھوتی عمارتوں کے لیے اسٹیل فریم ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا۔ اس جدت نے تعمیرات اور انجینئرنگ کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیا، جس سے عمارتیں پہلے سے کہیں زیادہ بلند تعمیر کی جانے لگیں۔ شکاگو میں اس دہائی کے آغاز میں مکمل ہونے والی “ہوم انشورنس بلڈنگ” نے اسٹیل فریم ڈھانچے کی مضبوطی اور لچک کو ثابت کیا۔ 1895 تک یہ طریقہ کار نیویارک، شکاگو اور لندن جیسے بڑے شہروں میں تجارتی و بلند عمارتوں کے لیے ایک معیار بن چکا تھا۔ اس انقلاب نے شہری مناظر کو بدل دیا، شہروں کو افقی کے بجائے عمودی سمت میں ترقی کرنے کا موقع دیا، اور شہری منصوبہ بندی، عمارتوں کی سلامتی، اور رئیل اسٹیٹ کے جدید طریقوں کے لیے نئے اصول قائم کیے۔ بالآخر، اسٹیل فریم ٹیکنالوجی نے جدید تہذیب کی پہچان بننے والے عظیم الشان اسکائی لائنز کی بنیاد رکھی۔
On October 19, 1923, landmark legislation for historic building preservation was enacted, creating the first comprehensive framework for protecting architecturally significant structures from demolition or inappropriate modification. This legal development emerged as rapid urbanization threatened centuries-old buildings with cultural and historical importance. The laws established criteria for designating historic properties, created preservation boards with authority to review proposed changes, and provided tax incentives for proper maintenance of designated structures. This legislative framework became the model for historic preservation efforts worldwide, balancing urban development needs with cultural heritage conservation.
▪ Reference(s):
19 اکتوبر 1923 کو تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قانون منظور کیا گیا، جس نے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس قانون نے پہلی بار ایک جامع فریم ورک قائم کیا جس کا مقصد تاریخی اور فنِ تعمیر کے لحاظ سے اہم عمارتوں کو انہدام، غفلت یا ناموزوں تبدیلیوں سے بچانا تھا۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری ترقی اور صنعتی پھیلاؤ کے باعث صدیوں پرانی عمارتیں خطرے سے دوچار تھیں، جنہیں بچانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر بن گیا تھا۔ اس نظام کے تحت تاریخی عمارتوں کی نشاندہی کے لیے معیار طے کیے گئے، جبکہ مقامی تحفظاتی بورڈز کو مرمتی منصوبوں کے جائزے کا اختیار دیا گیا۔ مزید یہ کہ تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مالکان کو ٹیکس میں رعایت اور بحالی کی مدد فراہم کی گئی۔ یہ قانون بعد میں دنیا بھر میں ورثے کے تحفظ کے لیے ایک نمونہ بنا، جس نے شہری ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں توازن پیدا کیا۔
On October 19, 1956, the modern shopping mall era began with the opening of the first fully enclosed regional shopping center, fundamentally transforming retail real estate and consumer behavior. This innovative commercial development featured climate-controlled environments, ample parking, and multiple anchor stores surrounded by smaller retail outlets. The concept revolutionized how consumers shopped and socialized, creating new patterns of commercial development that prioritized automobile access and consolidated retail offerings. This opening marked the beginning of the suburban retail revolution that would dominate commercial real estate development for decades, reshaping urban and suburban landscapes across the globe.
▪ Reference(s):
19 اکتوبر 1956 کو جدید شاپنگ مال کے دور کا آغاز ہوا جب دنیا کا پہلا مکمل طور پر بند ریجنل شاپنگ سینٹر کھولا گیا، جس نے ریٹیل رئیل اسٹیٹ اور صارفین کے رویے کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ یہ جدید تجارتی منصوبہ حرارت و ہوا کے کنٹرول والے ماحول، وسیع پارکنگ سہولتوں، اور بڑے اسٹورز کے ساتھ منسلک متعدد چھوٹے ریٹیل دکانوں پر مشتمل تھا۔ اس تصور نے خریداری اور میل جول کے انداز کو بدل کر رکھ دیا، کیونکہ صارفین کے لیے ایک ہی جگہ پر ہر چیز دستیاب ہونے لگی اور آٹوموبائل رسائی کو اولین ترجیح دی گئی۔ یہ افتتاح دراصل مضافاتی ریٹیل انقلاب کا آغاز تھا جس نے آنے والی کئی دہائیوں تک تجارتی رئیل اسٹیٹ کے ڈھانچے پر غلبہ حاصل کیا اور دنیا بھر کے شہری و مضافاتی مناظر کو نئی شکل دی۔
اکتوبر 2013 میں ہندوستان نے زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کا قانون 2013 (LARR) نافذ کرنا شروع کیا، جو جنوبی ایشیا میں زمین کی گورننس سے متعلق سب سے بڑی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون ستمبر ...
مزید پڑھیں
30 اکتوبر 2001 کو کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان کے پہلے جامع بلند و بالا عمارت کے ضوابط نافذ کیے، جس نے شہر کے عمودی ترقی کے نمونوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ نئے فریم ورک نے اونچی ڈھانچوں ک�...
مزید پڑھیں
آج سے ٹھیک 242 سال پہلے، 15 جنوری 1784 کو کلکتہ میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (Asiatic Society of Bengal) کی بنیاد سر ولیم جونز (Sir William Jones) نے رکھی۔ اسی روز سوسائٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ ادارہ برصغیر...
مزید پڑھیں
8 اکتوبر 1871 کو ریاستِ الینوئے کے شہر شکاگو میں ایک تباہ کن آگ بھڑک اٹھی جس نے 17 ہزار سے زائد عمارتیں جلا دیں، 3.3 مربع میل رقبے کو راکھ میں بدل دیا اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا۔ لکڑی �...
مزید پڑھیں
اکتوبر 1939 میں جب دوسری عالمی جنگ کے بادل برصغیر پر چھا گئے، لاہور برطانوی پنجاب کا نہ صرف انتظامی مرکز تھا بلکہ فوجی و تجارتی سرگرمیوں کا بھی اہم گڑھ تھا۔ انہی دنوں پنجاب حکومت نے لاہور کو “War-Ti...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
عوام کی سنتا کون ہے