From Real Estate History
On October 18, 2017, Saudi Arabia officially announced the historic decision to lift the decades-long ban on women driving, marking a major step toward gender equality and modernization. This policy change had a profound and immediate impact on the kingdom’s real estate dynamics. As women gained greater mobility and independence, the demand for properties in well-connected commercial zones, near workplaces, universities, and shopping centers significantly increased. Real estate developers swiftly adapted by designing women-friendly residential communities featuring enhanced safety, childcare facilities, and convenient access to public services. The expansion of the automotive sector also contributed to rising demand for commercial properties such as car showrooms, service stations, and parking complexes. Collectively, these changes stimulated new investment flows, diversified property development trends, and reinforced Saudi Arabia’s Vision 2030 goal of building inclusive, sustainable urban environments across the kingdom.
▪ Reference(s):
18 اکتوبر 2017 کو سعودی عرب نے خواتین پر ڈرائیونگ کی طویل پابندی ختم کرنے کا تاریخی اعلان کیا، جو صنفی مساوات اور جدیدیت کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مملکت کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ خواتین کو نقل و حرکت کی آزادی ملنے کے بعد، دفاتر، جامعات اور تجارتی مراکز کے قریب واقع جائیدادوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تعمیراتی کمپنیوں نے تیزی سے ردعمل دیتے ہوئے خواتین کے لیے محفوظ اور سہولیات سے آراستہ رہائشی منصوبے متعارف کرائے جن میں بچوں کی دیکھ بھال، پارکنگ اور عوامی خدمات تک آسان رسائی شامل تھی۔ اسی دوران آٹوموبائل سیکٹر کے پھیلاؤ نے کار شورومز، سروس اسٹیشنز اور کمرشل پلازوں کے لیے طلب میں اضافہ کیا۔ یہ تمام عوامل نئے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی وژن 2030 کے اہداف — جامع اور پائیدار شہری ترقی — کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوئے۔
On October 18, 2018, the Pakistani government extended tax amnesty benefits specifically to the construction sector to stimulate economic activity and address housing shortages. The policy allowed investors and developers to declare previously undisclosed assets by investing in approved construction projects without the fear of tax scrutiny or legal penalties. This initiative triggered a massive wave of investment in both residential and commercial projects across the country, especially in major cities like Karachi, Lahore, and Islamabad. As a result, the construction boom created thousands of new employment opportunities, enhanced demand for raw materials such as cement, iron, and steel, and encouraged the growth of allied industries. The amnesty policy also helped revive many delayed or abandoned real estate projects, restoring investor confidence and contributing significantly to Pakistan’s overall GDP growth. It ultimately became one of the most influential policy measures for the real estate and infrastructure sectors.
▪ Reference(s):
18 اکتوبر 2018 کو پاکستانی حکومت نے معیشت کو متحرک کرنے اور رہائشی قلت کو دور کرنے کے لیے تعمیراتی شعبے کے لیے خصوصی ٹیکس ایمنسٹی (معافی) اسکیم کا اعلان کیا۔ اس پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنی غیر ظاہر شدہ دولت کو منظور شدہ تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے ظاہر کریں، بغیر کسی ٹیکس تحقیقات یا قانونی کارروائی کے خوف کے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ملک بھر میں، خاص طور پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں، رہائشی اور تجارتی منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں اس تیزی سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، سیمنٹ، لوہے اور اسٹیل جیسی خام اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوا، اور متعلقہ صنعتوں کو فروغ ملا۔ یہ پالیسی تاخیر یا تعطل کے شکار رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی بحالی کا باعث بنی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، اور مجموعی قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔
On October 18, 2020, the United Arab Emirates (UAE) introduced a set of comprehensive new regulations governing real estate brokerage practices across all seven emirates. The new framework required brokers and real estate agents to obtain proper licensing, follow standardized commission structures, and maintain full transparency in all property transactions. Every real estate professional was mandated to complete certified training programs and register with the relevant government authorities before conducting business. These reforms were designed to professionalize the real estate industry, enhance investor protection, and align the UAE property market with global standards of accountability and integrity. The implementation of these regulations significantly boosted market credibility, minimized fraudulent activities, and attracted a larger number of international investors, thereby reinforcing the UAE’s position as one of the most trusted and competitive real estate hubs in the world.
▪ Reference(s):
18 اکتوبر 2020 کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے تمام سات امارات میں رئیل اسٹیٹ بروکریج کے عمل کے لیے جامع نئے ضوابط متعارف کرائے۔ ان ضوابط کے تحت تمام پراپرٹی ایجنٹس اور بروکرز کے لیے درست لائسنس حاصل کرنا، کمیشن کے معیاری ڈھانچے پر عمل کرنا، اور تمام لین دین میں شفافیت برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ ہر رئیل اسٹیٹ پیشہ ور کو سرکاری اداروں کے ساتھ رجسٹریشن سے قبل منظور شدہ تربیتی کورس مکمل کرنا ضروری تھا۔ ان اصلاحات کا مقصد اس شعبے کو پیشہ ورانہ بنانا، سرمایہ کاروں اور صارفین کو دھوکہ دہی سے بچانا، اور یو اے ای کی پراپرٹی مارکیٹ کو عالمی معیار کے مطابق لانا تھا۔ ان ضوابط کے نفاذ سے مارکیٹ کا اعتماد نمایاں طور پر بہتر ہوا، فراڈ میں کمی آئی، اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد یو اے ای کے رئیل اسٹیٹ شعبے کی طرف راغب ہوئی، جس سے ملک کا عالمی مقام مزید مضبوط ہوا۔
4 نومبر 1985 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کی سسٹمیٹک سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے پہلا جامع ماسٹر پلان منظور کیا۔ اس تاریخی فیصلے نے منظم شہری توسیع کا فریم ورک قائم کیا، جس میں شہر �...
مزید پڑھیں
10 نومبر 1995 کو جاپان کی حکومت نے اس سال کے شروع میں آنے والے تباہ کن کوبے زلزلے کے بعد ایک قومی منصوبہ شروع کیا جس کا مقصد گھروں اور شہروں کو دوبارہ محفوظ طریقے سے تعمیر کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ت...
مزید پڑھیں24 نومبر 1990 کو حکومتِ پاکستان نے پرانے اور زوال پذیر ریلوے نظام کی بڑی مرمت اور بہتری کا ملک گیر منصوبہ شروع کیا۔ ریلوے کی وزارت نے نئے مرمتی پروگرام، جدید سگنلنگ ٹیکنالوجی کی تنصیب اور مسافروں و...
مزید پڑھیں
20 اکتوبر 1901 کو ملک بھر میں تعمیرات کے لیے پہلی جامع قومی بلڈنگ کوڈ کے معیارات قائم کیے گئے، جنہوں نے تعمیراتی قوانین کو یکساں شکل دی۔ اس تاریخی قانون سازی میں آگ سے تحفظ، عمارتوں کی مضبوطی اور صف...
مزید پڑھیں
رطانوی حکومت نے عالمی تجارت اور اسٹرٹیجک انفراسٹرکچر پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سویز کینال کمپنی کے بڑے حصص خرید کر دنیا کے سب سے اہم بحری راستے پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ تاریخی س�...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
h