From Real Estate History
Istanbul, December 2 1869
The Ottoman Empire today issued a significant legal regulation permitting, for the first time, the judicial seizure and auction of immovable property and agricultural miri land for the recovery of private debts. Previously, compulsory sale was limited to state revenues and tax obligations, but the new regulation now enables private creditors to petition the courts for the enforced sale of a debtor’s land.
This measure formed part of a wider period of administrative and legal reform in which the Ottoman government sought to strengthen its institutions, reduce financial pressures and stabilise the economy by studying legal models from European states. The Land Code of 1858 had clarified the categories of land and the principles of ownership, yet it continued to protect agricultural holdings from seizure in cases of ordinary private debt. The newly issued regulation has removed this protection, rendering the rights of use over miri land both transferable and liable to judicial confiscation.
The legal framework drew upon the recommendations of a commission supervised by Ahmed Cevdet Pasha, which advised that land should be formally recognised as security for debt in order to address the increasing financial strain on the empire and the disorder within the private credit system. With the introduction of this regulation, agricultural land, residential property and village rights have, for the first time, entered the scope of judicial foreclosure, meaning the legal process through which a court may order the seizure and public sale of property when a borrower fails to repay a secured debt.
Historians consider this reform a defining moment in the commercialisation of land in the Ottoman East, contributing to the gradual rise of capitalist economic structures and the development of modern land laws. Its influence became visible in subsequent decades across the successor states of the region, including Turkey, Syria and Palestine, where systems of mortgage, foreclosure and property registration evolved along new legal lines.
▪ Reference(s):
استنبول: تاریخ 2 دسمبر 1869
عثمانی سلطنت نے آج ایک اہم قانونی ضابطہ جاری کیا ہے جس کے تحت پہلی بار غیر منقولہ جائیداد اور زرعی میری زمین کو عام قرضوں کی وصولی کے لیے عدالتی حکم پر ضبط اور نیلام کیا جا سکے گا۔ اس سے پہلے جبری فروخت صرف ریاستی مالیات اور ٹیکس واجبات تک محدود تھی، مگر نئے ضابطے نے نجی قرض خواہوں کو بھی قانونی راستہ فراہم کر دیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے قرض دار کی زمین فروخت کرا سکیں۔
یہ قدم اُس دور کی اصلاحات کا حصہ تھا جب عثمانی حکومت اپنے سسٹم کو بہتر بنانے، مالی مشکلات کم کرنے اور معیشت کو سنبھالنے کے لیے یورپی ممالک کے بنائے ہوئے قوانین کو دیکھ کر تبدیلیاں کر رہی تھی۔ 1858 کے لینڈ کوڈ نے زمین کی قسمیں اور ملکیت کے اصول تو واضح کر دیے تھے، لیکن عام قرضوں کی صورت میں کسانوں کی زمین ضبط نہیں کی جا سکتی تھی۔ نئے قانون نے یہ چھوٹ ختم کر دی ہے، اور اب میری زمین کا استعمال نہ صرف بیچا جا سکتا ہے بلکہ قرض ادا نہ ہونے پر عدالت اسے ضبط بھی کر سکتی ہے۔
قانون کے پس منظر میں احمد جودت پاشا کی زیر نگرانی قائم کمیشن کی وہ سفارشات شامل تھیں جنہوں نے سلطنت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور نجی قرضوں کے غیر منظم نظام کو سنبھالنے کے لیے جائیداد کو بطور سیکیورٹی استعمال کرنے کی اصولی وکالت کی تھی۔ نئے ضابطے کے اجرا کے بعد زرعی زمین، رہائشی جائیداد اور دیہی گاؤں کے حقوق پہلی بار باضابطہ طور پر عدالتی فورکلوژر Foreclosure کے دائرے میں شامل کر دیے گئے، یعنی وہ قانونی عمل جس میں قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں عدالت جائیداد ضبط کر کے نیلام کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
مورخین کے مطابق یہ تبدیلی عثمانی مشرق میں زمین کی کمرشلائزیشن، سرمایہ دارانہ ڈھانچے کے فروغ اور بعد کے جدید لینڈ لاز کی تشکیل کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوئی جس کے اثرات مستقبل میں ترکی، شام، فلسطین اور دیگر خطوں کے رئیل اسٹیٹ نظام پر واضح نظر اتے ہیں۔
Amid the continuing economic crisis, President Herbert Hoover inaugurated the White House Conference on Home Building and Home Ownership today in Washington. The nationwide conference brought together more than three thousand specialists in construction, housing finance, urban planning and land law.
The opening session emphasised that although the private sector had long been active in housing and construction, its efforts remained scattered and uncoordinated. The purpose of the conference was to place the private sector, for the first time, within a formal federal framework for residential policy to create a unified strategy for expanding home ownership, reviving construction activity and addressing the weaknesses in housing finance.
Committee reports presented on the first day examined the fragile mortgage system, construction standards, the requirements of planned urban development, essential infrastructure and the need for financial support for low income families. In his address, President Hoover described home ownership as a foundation of national stability and economic recovery and stated that an organised private partnership was essential for rebuilding the construction sector.
The recommendations of the conference are expected to provide the principal guidelines for future United States housing policy and to mark the beginning of a new era of cooperation between the federal government and private institutions in the residential sector.
(Reference: United States Presidential Archives, Address by President Herbert Hoover, December 2 1931)
▪ Reference(s):
امریکہ میں جاری معاشی بحران کے تناظر میں آج صدر ہربرٹ ہوور Herbert Hoover کی زیرِ صدارت White House Conference on Home Building and Home Ownership کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ اس ملک گیر کانفرنس میں تعمیرات، رہائشی فنانس، شہری منصوبہ بندی اور لینڈ لا کے تین ہزار سے زائد ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس میں اس حقیقت پر زور دیا گیا کہ اگرچہ نجی شعبہ ہاؤسنگ اور تعمیرات میں پہلے بھی سرگرم رہا ہے ، مگر اس کی کوششیں بکھری اور غیر منظم ہیں کانفرنس کا مقصد پہلی مرتبہ نجی شعبے کو وفاقی سطح پر رہائشی پالیسی کا باقاعدہ اور منظم حصہ بنانا تھا تاکہ گھر کی ملکیت کے فروغ، تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی اور ہاؤسنگ فنانس کے بحران کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
افتتاحی سیشن میں رہائشی قرضوں کے کم زور نظام، تعمیراتی کوڈز، شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مالی معاونت جیسے معاملات پر مختلف کمیٹیوں نے ابتدائی سفارشات پیش کیں۔ صدر ہوور نے اپنے خطاب میں گھر کی ملکیت کو قومی استحکام اور معاشی بحالی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ منظم نجی شراکت داری ہی تعمیراتی شعبے کو دوبارہ کھڑا کر سکتی ہے۔
کانفرنس کی سفارشات سے توقع ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں امریکی ہاؤسنگ پالیسی کے لیے بنیادی رہنما اصول بنیں گی اور رہائشی شعبے میں وفاقی حکومت اور نجی اداروں کی مشترکہ شراکت ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔
1 نومبر 1993 کو معاہدہِ ماسٹرخٹ کے نفاذ کے ساتھ یورپی یونین باضابطہ طور پر قائم ہوئی، جو جدید سیاسی و اقتصادی تاریخ کا ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس معاہدے کے ذریعے 12 یورپی ممالک کو ایک متحد نظام میں لا...
مزید پڑھیں
2008 میں لیہمین برادرز کے دیوالیہ پن نے عالمی پراپرٹی مارکیٹ کو تباہ کر دیا، قیمتیں 30-50 فیصد گر گئیں اور رئیل اسٹیٹ فنانسنگ میں مکمل اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس واقعے کے اثرات زمین کے استعمال، ت�...
مزید پڑھیں19 نومبر 1987 کو سیالکوٹ میونسپل کمیٹی نے خادم علی شاہ انڈسٹریل کلسٹر اپ گریڈیشن پلان کا آغاز کیا، جو پنجاب کے لائٹ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں سیال�...
مزید پڑھیں
6 نومبر 1995 کو حکومتِ سندھ نے کراچی میں ایک تاریخی اور بڑے پیمانے پر زمین کی باقاعدہ ملکیت اور کچی آبادیوں کی قانونی حیثیت دینے کا پروگرام شروع کیا۔ اس منصوبے کا مقصد شہر میں موجود ہزاروں غیر رسمی...
مزید پڑھیں
19 نومبر 1991 کو شنگھائی میونسپل حکومت نے پُڈونگ ہاؤسنگ ماڈرنائزیشن بلیوپرنٹ نافذ کیا، جو چین کی شہری ترقی کے بڑے منصوبوں میں سے ایک تھا۔ اس دور میں شنگھائی اقتصادی مرکز کے طور پر ابھر رہا تھا لیکن...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!