From Real Estate History
On November 25, 1982, the Government of Punjab finalized its first pre master planning guidelines to manage accelerating urban growth in Lahore, Rawalpindi, Faisalabad, Multan, and Gujranwala. During the late 1970s and early 1980s, these cities witnessed rapid expansion marked by informal subdivisions, inadequate street layouts, and insufficient drainage systems. To address these challenges, the new guidelines introduced early land assessments, structured plotting rules, and basic zoning coordination that would help authorities identify development pressures before colonies expanded uncontrollably. The policy particularly focused on fringe zones, where agricultural land was quickly being converted into speculative residential pockets without formal planning oversight.
The guidelines required pre development surveys to document soil stability, natural drainage channels, and existing right-of-way pathways, allowing planners to create more sustainable layouts. They also made cadastral verification mandatory to minimize overlapping land claims, which had become a rising issue in fast-growing districts. Alongside technical steps, the government launched training initiatives for patwaris, junior planners, and municipal engineers to improve mapping accuracy and strengthen basic documentation practices.
The policy recommended a phased model for integrating private housing schemes into municipal systems through shared contributions toward link roads, water supply lines, and sewer networks. This helped reduce the long-term burden on municipal budgets. The 1982 framework later shaped Punjab’s structured planning reforms in the 1990s by standardizing NOC checks and promoting more data-driven approvals. Although preliminary, these guidelines became a foundation for modern peri-urban zoning practices and remain influential in shaping organized growth in expanding cities.
▪ Reference(s):
25 نومبر 1982 کو حکومت پنجاب نے پری ماسٹر پلاننگ گائیڈلائنز کو حتمی شکل دی جن کا مقصد لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری توسیع کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا تھا۔ 1970 کی دہائی کے آخر اور 1980 کے آغاز میں غیر منصوبہ بند رہائشی بستیاں، بے قاعدہ گلیوں کا نظام اور نکاسی آب کی کمی بڑے انتظامی مسائل بن چکے تھے۔ ان مسائل کو دیکھتے ہوئے نئی گائیڈلائنز میں ابتدائی زمینی سروے، منظم پلاٹنگ اصول اور بنیادی زوننگ کوآرڈینیشن شامل کی گئی تاکہ کالونیاں بے قابو انداز میں نہ پھیلیں۔ پالیسی خصوصاً مضافاتی علاقوں پر مرکوز تھی جہاں زرعی زمین تیزی سے رہائشی مقاصد کے لیے تبدیل ہو رہی تھی اور مناسب جانچ کے بغیر تعمیرات بڑھ رہی تھیں۔
گائیڈلائنز کے مطابق پری ڈویلپمنٹ سروے میں مٹی کا جائزہ، قدرتی نالوں کی نشاندہی اور موجودہ راستوں کا ریکارڈ شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا تاکہ مستقبل کے لیے پائیدار سڑک اور نکاسی آب کا نظام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ کیڈسٹرل ریکارڈ کی درست تصدیق کو بھی لازمی بنایا گیا تاکہ پلاٹوں کی حدود کے تنازعات کم ہوں۔ حکومت نے اس سلسلے میں پٹواریوں اور پلانرز کی تربیت کے پروگرام بھی شروع کیے تاکہ نقشہ سازی اور ریکارڈ مرتب کرنے کے طریقہ کار میں بہتری آئے۔
پالیسی میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کو میونسپل نظام میں مرحلہ وار شامل کرنے کے لیے مشترکہ مالی معاونت کا ماڈل پیش کیا گیا، جس سے مستقبل میں سڑکوں اور نکاسی آب پر بجٹ کا دباؤ کم ہوا۔ 1982 کا یہ فریم ورک بعد میں 1990 کی دہائی کی منصوبہ بندی اصلاحات کی بنیاد بنا اور آج بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے شہروں میں منظم شہری ترقی کی رہنمائی کرتا ہے۔
20 نومبر 1993 کو رحیم یار خان ڈسٹرکٹ کونسل نے کراس کینال ایگرو-انڈسٹریل ایکسپینشن پلان کی منظوری دی، جو زرعی پیداواریت اور دیہی صنعتی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت اہم قدم تھا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل م�...
مزید پڑھیں
11 نومبر 1894 کو برطانوی پارلیمنٹ نے لندن ہاؤسنگ ریفارم ایکٹ منظور کیا تاکہ صنعتی دور کے لندن میں بگڑتے رہائشی حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انیسویں صدی میں تیز رفتار صنعتی ترقی نے لندن کو ایک گنجان،...
مزید پڑھیں
10 اکتوبر 1885 کو میلبورن نے اپنی شہری تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا جب شہر کے جنوبی حصے، دریائے یارا کے پار، تیزی سے ترقی کرتے مضافات میں پہلی بڑی عوامی زمین کی نیلامی منعقد کی گئی۔ اُس وق...
مزید پڑھیں
22 نومبر 1983 کو فرانسیسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے ایک قومی ریلوے سیفٹی بلیو پرنٹ جاری کیا تاکہ بڑے شہروں جیسے پیرس، لیون اور مارسی کی بڑھتی شہری توسیع اور مسافروں کے دباؤ کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ 1980 کی ...
مزید پڑھیں
7 جنوری 1886 کو پیدا ہونے والے جمشید نسرونجی مہتا (Jamshed Nusserwanjee Mehta) کی کہانی دراصل کراچی کے ایک بندرگاہی قصبے سے جدید شہر بننے کی کہانی ہے۔ جمشید نسرونجی کی خدمات کی وجہ سے کراچی کو اس وقت “مشرق کا �...
مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...
No comments yet. Be the first to comment!