Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

7 November

Home
2 Historical Event found for 7 November
1

7 نومبر 1851

برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ قائم کیا پنجاب میں نوآبادیاتی شہری منصوبہ بندی کی بنیاد

برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ قائم کیا  پنجاب میں نوآبادیاتی شہری منصوبہ بندی کی بنیاد

7 نومبر 1851 کو برطانوی حکومت نے لاہور کنٹونمنٹ کے قیام کا اعلان کیا — جو شمالی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں ابتدائی منظم شہری و فوجی منصوبہ بندی کی نمایاں مثال تھی۔ پنجاب کے انضمام (1849) کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس منصوبے کو منظور کیا تاکہ فوجی طاقت اور انتظامی کنٹرول کو جگہ کے ذریعے منظم کیا جا سکے۔ یہ کنٹونمنٹ لاہور شہر کے جنوب مشرق میں زرخیز زرعی زمین پر قائم کیا گیا، جو صرف ایک فوجی چھاؤنی نہیں بلکہ جدید شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر زوننگ اور زمین کے منظم استعمال کی ایک عملی مثال بن گیا۔ بڑی مقدار میں زمین مقامی زمینداروں سے ’ایمننٹ ڈومین‘ کے قانون کے تحت حاصل کی گئی، اکثر بہت کم معاوضے پر۔ اس منصوبے میں کشادہ درختوں سے آراستہ سڑکیں، نکاسی کا جدید نظام، افسران کی رہائش گاہیں، پریڈ گراؤنڈ اور منظم بازار شامل تھے — سب کچھ ایک جیومیٹریائی گرڈ میں ترتیب دیا گیا جو اس خطے کے لیے بالکل نیا تھا۔ اس منصوبہ بندی کا فلسفہ نظم، صفائی، اور سماجی درجہ بندی پر مبنی تھا، جس نے بعد میں ریلوی کالونیوں، سول لائنز اور رہائشی اسکیموں کی تعمیر پر گہرا اثر ڈالا۔ لاہور کنٹونمنٹ کے قیام نے مضافاتی زمینوں کی معیشت بدل دی، جہاں زرعی زمینیں قیمتی رئیل اسٹیٹ میں تبدیل ہو گئیں۔ اگرچہ اس نے مقامی آبادی اور یورپی بستیوں کے درمیان واضح سماجی فاصلہ پیدا کیا، تاہم اسی ماڈل نے بعد میں پاکستان میں عسکری ہاؤسنگ اسکیموں اور جدید گیٹڈ کمیونٹیز کی بنیاد فراہم کی۔ 1851 کا یہ منصوبہ جنوبی ایشیا کی شہری تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا، جس نے دکھایا کہ نوآبادیاتی حکمرانی نے کس طرح زمین، سرمائے، اور فنِ تعمیر کو ملا کر پورے خطے کے جغرافیے اور نظمِ حکومت کو بدل دیا۔

Views
6
2

7 نومبر 1857

نیو یارک کے سینٹرل پارک کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کا انتخاب جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی بنیاد

نیو یارک کے سینٹرل پارک کا ڈیزائن تیار کرنے کے لیے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کا انتخاب  جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی بنیاد

7 نومبر 1857 کو ریاست نیویارک کی حکومت نے فریڈرک لا اولمسٹیڈ اور کیلورٹ واؤکس کے تیار کردہ سینٹرل پارک کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دی — یہ جدید شہری سبز منصوبہ بندی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل تھا۔ 19ویں صدی کے وسط میں امریکہ تیزی سے صنعتی ترقی کے دور سے گزر رہا تھا، اور نیویارک شہر آبادی کے دباؤ، رہائشی ہجوم، اور صحتِ عامہ کے بحرانوں کا شکار تھا۔ ایسے میں ایک وسیع عوامی پارک کا تصور انقلابی حیثیت رکھتا تھا، جس کا مقصد شہریوں کو جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے قدرتی ماحول فراہم کرنا تھا۔ اولمسٹیڈ اور واؤکس کے 'گرینسوارڈ پلان' نے زمین کی تزئین کو سماجی اصلاح کے ساتھ جوڑ دیا۔ ان کا وژن اس خیال پر مبنی تھا کہ شہریوں کو قدرت کے قریب لا کر مساوات، سکون، اور صحت مند سماجی توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ سینٹرل پارک کے 843 ایکڑ علاقے میں جھیلیں، سبز میدان، گھومتی پگڈنڈیاں اور جنگلاتی علاقے تعمیر کیے گئے — ایک ایسا شاہکار جو فنِ تعمیر، انجینئرنگ، اور ماحولیات کا حسین امتزاج تھا۔ اس منصوبے کی مالی اعانت عوامی فنڈز اور آس پاس کی زمینوں پر بڑھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس سے کی گئی، جس نے پہلی بار یہ ثابت کیا کہ عوامی سرمایہ کاری نجی جائیداد کی قدر میں اضافہ کر سکتی ہے۔ سینٹرل پارک کی کامیابی نے رئیل اسٹیٹ، عوامی فلاح، اور شہری شناخت کے درمیان تعلق کو نئی شکل دی۔ اس کی تقلید بوسٹن، شکاگو، لندن، پیرس، لاہور اور بمبئی جیسے شہروں میں بھی کی گئی۔ اس منصوبے کی طویل المدتی اہمیت صرف جمالیاتی نہیں بلکہ سماجی و معاشی بھی تھی — اس نے دکھایا کہ منظم سبز مقامات نہ صرف صحتِ عامہ کو بہتر بناتے ہیں بلکہ جائیداد کی مارکیٹ کو مستحکم اور شہری زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔ آج بھی اولمسٹیڈ کا فلسفہ دنیا بھر میں پائیدار شہری منصوبہ بندی کا رہنما سمجھا جاتا ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ کھلی فضا کوئی عیاشی نہیں بلکہ مساوات، ماحولیات، اور معاشی بصیرت پر مبنی ایک بنیادی شہری ضرورت ہے۔

Views
4

مزید خبریں "On This Date" سے

پہلے جدید کونڈومینیم قانون سازی نافذ ہوئی
پہلے جدید کونڈومینیم قانون سازی نافذ ہوئی

یہ 22 اکتوبر 1963 کی بات ہے جب ایک انقلابی قانون منظور ہوا جس نے کونڈومینیم نظام کو قانونی حیثیت دی، یعنی بلند عمارتوں میں ہر فرد اپنی مخصوص یونٹ یا فلیٹ کا انفرادی مالک بن سکتا تھا، جبکہ سیڑھیاں،...

مزید پڑھیں
جب تھامس ایڈیسن نے پہلی بار بجلی کو گھروں اور شہری آبادی تک پہنچانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔
جب تھامس ایڈیسن نے پہلی بار بجلی کو گھروں اور شہری آبادی تک پہنچانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔

اگرچہ 1879 میں ایڈیسن نے بجلی کا بلب تیار کر لیا تھا اور 1882 میں انہوں نے نیویارک میں Pearl Street Power Station کے ذریعے کمرشل سطح پر عوامی مقامات کو روشن بھی کیا تھا، مگر اس وقت تک بجلی کا استعمال چند عمارتوں ...

مزید پڑھیں
تاریخی پبلک ہاؤسنگ پروگرام کا آغاز
تاریخی پبلک ہاؤسنگ پروگرام کا آغاز

1934 کے پبلک ہاؤسنگ پروگرام کے آغاز نے جدید سہولیات کے ساتھ ہزاروں سستی رہائشی یونٹس تعمیر کیں، جس نے شہری ہاؤسنگ کے بحرانوں کو حل کیا جبکہ ہاؤسنگ کی رسائی کے لیے حکومتی ذمہ داری قائم کی اور نئے تع...

مزید پڑھیں
کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بلند و بالا عمارت کے ضوابط متعارف کرائے
کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بلند و بالا عمارت کے ضوابط متعارف کرائے

30 اکتوبر 2001 کو کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان کے پہلے جامع بلند و بالا عمارت کے ضوابط نافذ کیے، جس نے شہر کے عمودی ترقی کے نمونوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ نئے فریم ورک نے اونچی ڈھانچوں ک�...

مزید پڑھیں
امریکی فیڈرل ریزرو کے سود کی شرح میں اضافے نے ہاؤسنگ مارکیٹ پر دباؤ ڈالا
امریکی فیڈرل ریزرو کے سود کی شرح میں اضافے نے ہاؤسنگ مارکیٹ پر دباؤ ڈالا

27 اکتوبر 1994 کو، فیڈرل ریزرو کے جارحانہ سود کی شرح میں اضافے نے امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ پر نمایاں دباؤ ڈالا، جو مانیٹری پالیسی اور رئیل اسٹیٹ کی سرگرمی کے درمیان طاقتور کنکشن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ 1994 ک...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں

Select Date