Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

کراچی کی تاریخ

1 Historical Event found

آج بابائے کراچی جمشید نسرونجی مہتا کا یومِ پیدائش ہے، کراچی کے پہلے میئر جنہوں نے ایک بندرگاہی قصبے کو ایشیا کا ایک جدید شہر بنا دیا۔

7 جنوری 1886 کو پیدا ہونے والے جمشید نسرونجی مہتا (Jamshed Nusserwanjee Mehta) کی کہانی دراصل کراچی کے ایک بندرگاہی قصبے سے جدید شہر بننے کی کہانی ہے۔ جمشید نسرونجی کی خدمات کی وجہ سے کراچی کو اس وقت “مشرق کا پیرس” کہا جاتا تھا، جہاں کی عمارتیں اور سڑکیں اپنی صفائی اور ترتیب میں پیرس اور لندن کا مقابلہ کرتی تھیں۔ ان کا تعلق ایک متوسط پارسی گھرانے سے تھا۔ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کو اپنی شناخت بنایا۔ 1911 میں جب جمشید نسرونجی مہتا کراچی میونسپل ادارے کے رکن منتخب ہوئے تو اس وقت کراچی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے تیزی سے پھیل رہا تھا، مگر شہر کا انتظامی ڈھانچہ کمزور اور غیر مربوط تھا اور صاف پانی، نکاسی آب، صفائی، سڑکوں اور رہائشی منصوبہ بندی جیسے بنیادی شہری معاملات کسی واضح نظام کے تحت نہیں تھے۔ چنانچہ اپنی مسلسل محنت، مشاہدے اور انتظامی تجربے کے نتیجے میں وہ اس قابل ہوئے کہ انہوں نے کراچی کے لیے ایسے بلڈنگ بائی لاز تیار کروائے جنہوں نے پہلی مرتبہ شہر کی تعمیر کو باقاعدہ اصولوں کا پابند بنایا۔ ان ضابطوں کے تحت سڑکوں کی کم از کم چوڑائی، عمارتوں کی اونچائی، فٹ پاتھوں کی حفاظت، روشنی اور ہوا کی آمد و رفت، اور رہائشی و تجارتی علاقوں کی حد بندی کو لازم قرار دیا گیا، تاکہ کوئی بھی تعمیر شہری زندگی میں رکاوٹ نہ بنے۔ یہی بائی لاز بعد میں کراچی کی شہری منصوبہ بندی کی بنیاد بنے۔ بعد ازاں وہ 1922 سے 1933 تک مسلسل گیارہ برس کراچی میونسپلٹی کے صدر (President) کے عہدے پر فائز رہے، کیونکہ اس عرصے میں میئر کا عہدہ باضابطہ طور پر موجود نہیں تھا۔ ان کی طویل اور مؤثر خدمات کے اعتراف میں، جب 1933 میں کراچی میونسپلٹی کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تو انہیں کراچی کا پہلا میئر مقرر کیا گیا۔ اگرچہ بطور میئر ان کا دورانیہ 1933 سے 1934 تک صرف ایک سال رہا، تاہم مجموعی طور پر وہ بارہ برس تک کراچی کے اعلیٰ انتظامی سربراہ رہے۔ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع میونسپل کارپوریشن کی عظیم الشان عمارت جدید کراچی کے معمار، جمشید نسرونجی مہتا کے وژن اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تاریخی عمارت کا سنگِ بنیاد سنہ 1927 میں رکھا گیا اور اس کی تعمیر جمشید نسرونجی کے دورِ صدارت میں مکمل ہوئی۔ جودھ پور کے زردی مائل پتھر جبکہ کچھ حصوں میں “گزری” (کراچی کے پیلے مقامی پتھر) سے بننے والی اس عمارت کی تعمیر نے بعد میں بننے والی کراچی کی تمام عمارتوں کے لیے ایک معیار مقرر کر دیا کہ اس شہر کو کس انداز اور کس رنگ و روپ کی عمارتوں کی ضرورت ہے۔ [img:Images/7-jan-2nd.jpeg | desc:چونکہ جمشید نسرونجی مہتا 1886 میں پیدا ہوئے تھے، اس اعتبار سے ان کی صد سالہ سالگرہ 1986 میں بنتی تھی، تاہم Pakistan Post کی جانب سے یادگاری ڈاک ٹکٹ 7 جنوری 1988 کو جاری کیا گیا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اس تاخیر کی بنیادی وجوہات میں سرکاری منظوری کا طویل طریقہ کار شامل تھا، کیونکہ یادگاری ڈاک ٹکٹوں کے اجرا کے لیے پوسٹیج اسٹیمپس ایڈوائزری کمیٹی کی منظوری، ڈیزائن کی تیاری اور طباعت میں عموماً ایک سے دو سال لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر بڑی شخصیات کی صد سالہ تقریبات محض ایک دن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک یا دو برس پر محیط ہوتی ہیں، چنانچہ جمشید نسرونجی مہتا کی صد سالہ تقریبات کا آغاز 1986 میں ہوا اور اسی سلسلے کی تکمیل کے طور پر یہ ڈاک ٹکٹ 1988 میں جاری کیا گیا۔ مزید برآں 1986 سے 1988 کے دوران پاکستان میں سیاسی اور انتظامی حالات بھی غیر معمولی رہے، جس کے باعث سرکاری سطح پر ایسی یادگاری اشیا کے اجرا میں تاخیر ایک معمول کی بات تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثالیں پہلے بھی ملتی ہیں جہاں علامہ اقبال اور قائد اعظم سے متعلق بعض یادگاری ٹکٹ یا سکے اصل سالِ پیدائش سے ایک یا دو سال بعد جاری ہوئے، تاہم اس معاملے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ ڈاک ٹکٹ پر واضح طور پر Centenary درج تھا، جو اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ جمشید نسرونجی مہتا کی پیدائش کی صد سالہ یاد میں ہی جاری کیا گیا۔ (وضاحتی نوٹ: سید شایان ایڈیٹوریل ہیڈ: سید شایان رئیل اسٹیٹ آرکائیو)] اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح سنہ 1932 میں ہوا۔ اس عمارت کا مرکزی خاصہ اس کا بلند و بالا گھنٹہ گھر (کلاک ٹاور) بھی ہے، جو دہائیوں تک شہر کی پہچان رہا۔ جب سنہ 1933 میں کراچی میونسپلٹی کو کارپوریشن کا درجہ دیا گیا، تو جمشید نسرونجی نے کراچی کے پہلے میئر کی حیثیت سے اسی عمارت میں اپنا دفتر سنبھالا۔ یہ عمارت آج بھی نہ صرف کراچی کے انتظامی مرکز کے طور پر قائم ہے بلکہ جمشید نسرونجی کے دور کے بلند تعمیراتی معیار اور شہری منصوبہ بندی کی یاد دلاتی ہے۔ جمشید نسرونجی مہتا کے دور (1922 سے 1934) کو کراچی کی تعمیر و ترقی کا “سنہرا دور” کہا جاتا ہے۔ ان کے دورِ صدارت اور میئر شپ کے دوران کراچی میں کئی ایسی عمارات اور منصوبے مکمل ہوئے جو آج بھی شہر کا فخر ہیں۔ مستند تاریخ کے مطابق ان کے دور میں بننے والی اہم عمارات اور منصوبے درج ذیل ہیں: 1. جمشید میموریل ہال (Jamshed Memorial Hall) یہ عمارت خاص طور پر تھیوسوفیکل سوسائٹی کے لیے بنائی گئی تھی۔ جمشید نسرونجی اس سوسائٹی کے سرگرم رکن تھے، اس لیے اس کی تعمیر میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ 2. کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) بلڈنگ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی عمارت 1934 میں مکمل ہوئی۔ اس کی منصوبہ بندی اور میونسپل منظوری جمشید نسرونجی مہتا کے دورِ انتظام میں دی گئی۔ 3. جہانگیر کوٹھاری پریڈ اور لیڈی لائیڈ پیئر (Clifton) اگرچہ کلفٹن کی اس تفریح گاہ کا کچھ کام پہلے شروع ہوا تھا، لیکن اس کی تزئین و آرائش اور اسے عوام کے لیے ایک منظم تفریحی مقام کے طور پر جمشید نسرونجی کے دور میں ہی حتمی شکل دی گئی۔ 4. ہسپتال اور تعلیمی ادارے ● لیڈی ڈفرن ہسپتال کی توسیع: انہوں نے صحت کے شعبے میں اس ہسپتال کی عمارت کی توسیع اور جدید سہولیات کے لیے بہت کام کیا۔ ● اسکولوں کی تعمیر: ان کے دور میں کراچی کے مختلف علاقوں میں درجنوں پرائمری اسکولوں کی عمارات بنائی گئیں جن کا نقشہ ہوا دار اور روشن رکھا گیا تھا۔ 5. رہائشی سکیمیں (Real Estate Projects) ● جمشید کوارٹرز: یہ اس دور کی سب سے منظم رہائشی سکیم تھی جو انہوں نے خود ڈیزائن کروائی۔ ● پارسی کالونی (Parsi Colony): کراچی کے پارسی خاندانوں کے لیے ایک منظم اور خوبصورت رہائشی بستی کی تعمیر بھی انہی کے دور کی مرہونِ منت ہے۔ 6. واٹر ورکس اور واٹر پمپنگ اسٹیشنز عمارتوں کے علاوہ، انہوں نے زمین کے اندر اور اوپر پانی کی فراہمی کا ایسا نظام بنایا جو اس دور میں پورے برصغیر میں مثال تھا۔ دملوتی (Dumlottee) واٹر ورکس کی بہتری اور شہر میں مختلف مقامات پر واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی تعمیر انہی کے دور میں ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے دور میں بننے والی ہر عمارت میں ایک خاص بات مشترک تھی: کشادہ سڑکیں اور ہوا کی آمد و رفت۔ انہوں نے قانون بنایا تھا کہ کوئی بھی عمارت سڑک کو تنگ کر کے نہیں بنائی جائے گی۔ یہی وہ کارہائے نمایاں ہیں کہ انہیں اہلِ کراچی بابائے کراچی کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ جمشید نسرونجی مہتا کا انتقال یکم اگست 1952 کو ہوا۔ مگر جو کراچی پاکستان کو ورثے میں ملا، اس کی بنیاد ان کے دور میں تیار ہو چکی تھی۔ بندرگاہ، سڑکیں، میونسپل نظم اور زمین کے استعمال کا تصور سب اسی عہد کی دین ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے جمشید نسرونجی مہتا کی خدمات کے اعتراف میں ان کی پیدائش کی صد سالہ مناسبت سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ 7 جنوری 1988 کو جاری کیا۔ بعد ازاں تاریخی اور تحقیقی حوالوں میں انہیں “Maker of Modern Karachi” کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com