Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

پاکستان میں زرعی اصلاحات

1 Historical Event found

پاکستان میں پہلی بڑی لینڈ ریفارمز کا اعلان

پاکستان کی زرعی تاریخ میں 8 جنوری 1959 ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے، جب محمد ایوب خان کی فوجی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی جامع لینڈ ریفارمز کا اعلان کیا۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد جاگیرداری نظام کو محدود کرنا اور زمین کی ملکیت کو طاقت ور طبقات کے بجائے قانون کے دائرے میں لا کر عام کسان اور ریاستی نظم و نسق کے تابع کرنا تھا۔ بڑے جاگیرداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ زمین رکھنے کی حد مقرر کی گئی اور فاضل زمین کو ریاستی کنٹرول میں لے کر نئی تقسیم کا تصور متعارف کرایا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں لاکھوں ایکڑ اراضی پہلی مرتبہ ریاستی نگرانی میں آئی، جس نے نہ صرف زرعی ڈھانچے بلکہ شہری رئیل اسٹیٹ کی قانونی سمت کو بھی نئی بنیادیں فراہم کیں۔ ان لینڈ ریفارمز کے تحت بڑے جاگیرداروں کے لیے زرعی زمین رکھنے کی واضح حد (Land Ceiling) مقرر کی گئی، جس کے مطابق سیراب زرعی زمین (Irrigated Land) کی زیادہ سے زیادہ ملکیت 500 ایکڑ اور غیر سیراب زرعی زمین (Unirrigated Land) کی حد 1000 ایکڑ فی فرد یا خاندان طے کی گئی۔ اس مقررہ حد سے زائد تمام زمین کو فاضل اراضی (Surplus Land) قرار دے کر ریاستی کنٹرول میں لے لیا گیا اور اس کے عوض جاگیرداروں کو نقد رقم کے بجائے حکومتی بانڈز فراہم کیے گئے۔ اس اقدام کے نتیجے میں لاکھوں ایکڑ زمین پہلی مرتبہ براہ راست ریاستی ملکیت (State Ownership) میں آ گئی، جس نے پاکستان کے زرعی ڈھانچے (Agrarian Structure) کو بدل کر رکھ دیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 1959 کی لینڈ ریفارمز کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے دونوں حصوں، یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں، لینڈ سیلنگ قوانین کے تحت ملک بھر میں تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فاضل زرعی زمین جاگیرداروں سے واپس لے کر قانونی طور پر ریاستی ملکیت میں لے لی۔ تاہم تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس مجموعی رقبے میں سے صرف 20 سے 25 لاکھ ایکڑ زمین ہی عملی طور پر مزارعین اور چھوٹے کسانوں میں تقسیم ہو سکی، جبکہ باقی زمین قانونی پیچیدگیوں، استثنائی شقوں، عدالتی تنازعات اور انتظامی تاخیر کے باعث طویل عرصے تک ریاست کے پاس ہی رہی۔ سیاسی اور سماجی سطح پر مشرقی پاکستان میں 1959 کی لینڈ ریفارمز کو جلد ہی علامتی اصلاحات سمجھا جانے لگا، کیونکہ وہاں زرعی آبادی کی اکثریت مزارعین اور بے زمین کسانوں پر مشتمل تھی، مگر زمین کی عملی تقسیم نہایت محدود رہی۔ Government of Pakistan, Land Reforms Commission Reports 1959–1962 کے مطابق مشرقی پاکستان میں اگرچہ فاضل زمین کی نشاندہی کی گئی، لیکن اس کا بڑا حصہ یا تو قانونی پیچیدگیوں، عدالتی اعتراضات یا استثنائی شقوں کے باعث تقسیم نہ ہو سکا۔ اسی نکتے کی نشاندہی ماہرِ تاریخ عائشہ جلال اور رونق جہاں جیسی محققین نے بھی کی ہے کہ اصلاحات کا نفاذ مشرقی پاکستان میں زرعی طاقت کے اصل ڈھانچے کو توڑنے میں ناکام رہا، جس کے باعث وہاں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پالیسیاں مرکز میں بیٹھ کر بنائی گئیں اور مقامی سماجی حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان میں، جہاں بڑے جاگیردارانہ اسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ایک ابھرتا ہوا شہری متوسط طبقہ بھی موجود تھا، ان اصلاحات کو اگرچہ ادھورا سمجھا گیا، تاہم انہیں ریاست کی جانب سے جاگیرداری نظام پر پہلی باقاعدہ قانونی قدغن کے طور پر دیکھا گیا۔ حمزہ علوی اور ایس۔ اکبر زیدی کے تجزیوں کے مطابق مغربی پاکستان میں ان اصلاحات نے کم از کم زمین کو قانونی نظم میں لانے اور ریاستی اختیار کو مستحکم کرنے میں ایک عملی کردار ادا کیا۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں یہ قانون سماجی ساخت اور زرعی تناسب کے فرق کے باعث مشرقی پاکستان میں احساسِ محرومی اور مغربی پاکستان میں محتاط قبولیت کی علامت بن کر ہمیشہ موجود رہے گا۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com