From Real Estate History
2 Historical Event found
18 جولائی 1994 کو چین کی سٹیٹ کونسل نے شہری ہاؤسنگ سسٹم میں اصلاحات کو مزید گہرا کرنے کا تاریخی فیصلہ جاری کیا، جس نے ملک میں رہائش کو سرکاری یا ملازمت سے منسلک فلاحی سہولت سمجھنے کے پرانے تصور کو بتدریج تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی۔ اس پالیسی کو چین کی جدید رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل چین کے شہری علاقوں میں سرکاری ادارے اور سرکاری ملکیتی کمپنیاں اپنے ملازمین کیلئے مکانات تعمیر کرنے، مختص کرنے اور ان کی دیکھ بھال کی بڑی ذمہ داری اٹھاتی تھیں۔ بیشتر ملازمین کو گھر ذاتی اثاثے کے بجائے ملازمت کے ساتھ ملنے والی سہولت کے طور پر دستیاب ہوتے تھے۔ 1994 کے فیصلے نے رہائشی تعمیرات کے اخراجات کو صرف حکومت اور اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے حکومت، اداروں اور افراد کے درمیان تقسیم کرنے کی پالیسی پیش کی۔ اس کے ساتھ شہریوں کو سرکاری مکانات فروخت کرنے، ذاتی خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور ہاؤسنگ کی تقسیم کو مالی معاوضے سے منسلک کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اصلاحات کے تحت کم اور متوسط آمدن والے خاندانوں کیلئے نسبتاً کم قیمت اقتصادی مکانات جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والوں کیلئے کمرشل ہاؤسنگ کا تصور متعارف کرایا گیا۔ ہاؤسنگ پروویڈنٹ فنڈ، رہائشی بچت اور ہاؤسنگ کریڈٹ سسٹم کے قیام کو بھی پالیسی کا حصہ بنایا گیا تاکہ گھروں کی خریداری کیلئے مالی وسائل پیدا کیے جا سکیں۔ اگرچہ 1994 کی اصلاحات نے فلاحی ہاؤسنگ سسٹم کو فوری طور پر مکمل ختم نہیں کیا، تاہم انہوں نے نجی ملکیت، رہائشی فنانس اور کمرشل ڈیولپمنٹ کی سمت واضح کر دی۔ اس عمل کو 1998 میں مزید آگے بڑھایا گیا، جب سرکاری اداروں کی جانب سے مکانات کی براہ راست تقسیم روکنے اور ہاؤسنگ کو مکمل طور پر مالی اور مارکیٹ سسٹم سے منسلک کرنے کا اعلان کیا گیا۔ آج چین کے بڑے شہروں میں نظر آنے والی وسیع رہائشی تعمیرات، اپارٹمنٹ مارکیٹ اور ہاؤسنگ فنانس سسٹم کی تاریخی جڑیں بڑی حد تک اسی اصلاحاتی دور سے وابستہ ہیں۔
مزید پڑھیں
یکم جنوری 1863 کو امریکہ میں ایک اہم قانون نافذ ہوا جسے ہوم اسٹیڈ ایکٹ (Homestead Act) کہا جاتا ہے۔ اس قانون نے پہلی مرتبہ عام شہریوں کو یہ حق دیا کہ وہ حکومت کی خالی پڑی زمین پر قانونی دعویٰ (Land Claim) دائر کر سکیں اور اسے آباد کرنے کے بعد اس کے مالک بن سکیں۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شہری کو اجازت دی گئی کہ وہ مخصوص سرکاری زمین پر دعویٰ کرے، وہاں رہائش اختیار کرے، زمین کو قابلِ استعمال بنائے اور کم از کم پانچ سال تک اسے آباد رکھے۔ مقررہ مدت پوری ہونے پر حکومت اس زمین کی مستقل ملکیت (Permanent Ownership) اس شخص کے نام منتقل کر دیتی تھی۔ قانون کے نفاذ کے فوراً بعد نیبراسکا (Nebraska) میں زمین پر پہلا عوامی قانونی دعویٰ دائر کیا گیا۔ اس دعوے کے ذریعے زمین پر آبادکاری کا عمل شروع ہوا، تاہم اس مرحلے پر زمین کی ملکیت فوری طور پر منتقل نہیں ہوئی بلکہ آبادکاری کی شرائط پوری کرنا لازمی تھا۔ یہ واقعہ اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اسی سے امریکہ میں مغربی علاقوں کی آبادکاری (Westward Expansion) کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ لوگ مشرقی ریاستوں سے نکل کر نئی زمینوں پر بسنے لگے، کھیت وجود میں آئے، بستیاں آباد ہوئیں اور رفتہ رفتہ قصبے اور شہر قائم ہوئے۔ ہوم اسٹیڈ ایکٹ کے نتیجے میں لاکھوں افراد زمین کے دعوے دار بنے اور بعد ازاں مستقل مالکان قرار پائے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا اور وہ علاقے جو پہلے غیر آباد تھے، آہستہ آہستہ منظم آبادیوں میں تبدیل ہو گئے۔ بعد کے برسوں میں انہی آبادیوں کے گرد بازار، سڑکیں، ریلوے لائنیں اور شہری مراکز قائم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ہوم اسٹیڈ ایکٹ امریکی رئیل اسٹیٹ نظام (American Real Estate System) کی بنیادوں میں شامل ہے، کیونکہ اسی قانون کے ذریعے زمین کو ریاستی تحویل سے نکال کر عوامی ملکیت میں منتقل کرنے کا منظم طریقہ متعارف کروایا گیا۔ یہ قانون اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح ایک حکومتی پالیسی زمین کی ملکیت، آبادکاری اور رئیل اسٹیٹ کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں