From Real Estate History
2 Historical Event found
آج سے ٹھیک 242 سال پہلے، 15 جنوری 1784 کو کلکتہ میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال (Asiatic Society of Bengal) کی بنیاد سر ولیم جونز (Sir William Jones) نے رکھی۔ اسی روز سوسائٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ ادارہ برصغیر میں زمین کی ملکیت سے متعلق قدیم مخطوطات، آثارِ قدیمہ اور جغرافیائی معلومات کے منظم مطالعے کا پہلا بڑا مرکز بنا۔ برصغیر میں زمین کی ملکیت کا تصور محض زبانی روایات تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے ادوار سے ہی مختلف تحریری اور مادی ذرائع میں محفوظ کیا جاتا رہا ہے۔ موہنجوداڑو، ہڑپہ اور ابتدائی ٹیکسلا کے ادوار میں زمین کی ملکیت اور رجسٹری آج کے معنوں میں فرد یا انتقال کی صورت میں موجود نہیں تھی، لیکن زمین بغیر کسی نظام کے بھی نہیں تھی۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے شہری مراکز میں زمین کا انتظام ریاستی کنٹرول کے تحت تھا، جہاں پورے شہر کو باقاعدہ منصوبہ بندی، گرڈ سسٹم، معیاری پیمائش اور واضح حد بندی کے ذریعے منظم کیا گیا۔ مکانات، گلیاں اور بلاکس ایک طے شدہ نقشے کے مطابق تعمیر ہوتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کی تقسیم اور استعمال زبانی نہیں بلکہ انتظامی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ اس دور میں زمین شخصی ملکیت کے بجائے ریاست یا شہر کی ملکیت سمجھی جاتی تھی اور افراد کو صرف استعمال کا حق حاصل ہوتا تھا۔ بعد ازاں ٹیکسلا کے دور میں پہلی مرتبہ ریاست کی طرف سے مذہبی یا تعلیمی اداروں کو زمین بطور عطیہ کرنے کی مثالیں سامنے آئیں، جنہیں پتھری کتبوں یا تانبے کی پلیٹوں پر درج کیا جاتا تھا۔ یہی تحریری عطیات اور حد بندی کے ریکارڈ بعد کے ادوار میں باقاعدہ رجسٹری، فرد اور انتقالِ اراضی کے نظام کی ابتدائی بنیاد بنے۔ قدیم برصغیر میں جب بھی کوئی ریاست یا حکمران کسی فرد، خاندان، مذہبی ادارے یا انتظامی اکائی کو زمین عطا کرتا تو اس فیصلے کو قانونی تحفظ دینے کے لیے تانبے کی پلیٹوں (Copper Plates) یا پتھری کتبوں پر کندہ کر دیا جاتا تھا۔ یہ قدیم کتبے اور پلیٹیں اس دور کی “رجسٹری” یا “فرد” کا درجہ رکھتی تھیں، جن پر زمین کی حدود، ملکیت کے حقوق اور شاہی مہریں درج ہوتی تھیں۔ [img:Images/otd-15-jan-2.jpeg | desc:یہ تانبے کی تختیاں اور پتھری کتبے قدیم زمانے کی سرکاری اور قانونی دستاویزات تھے، ان پر زمین کی ملکیت، حکمرانوں کے احکامات، عطیات اور فیصلے کندہ کیے جاتے تھے، کیونکہ اُس دور میں کاغذ موجود نہیں تھا یا قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جاتا تھا، سادہ لفظوں میں یہ اُس زمانے کی زمین کی رجسٹری، فرد اور سرکاری ریکارڈ تھے۔] 15 جنوری 1784 کو قائم ہونے والی ایشیاٹک سوسائٹی نے ان ہی قدیم دستاویزات، زمین کے عطیات، سرحدی تحریروں اور مقامی نقشوں کو اکٹھا کر کے انہیں سائنسی بنیادوں پر مرتب کیا۔ سوسائٹی کے ماہرین نے قدیم کتبوں اور تانبے کی پلیٹوں پر درج زمین کے عطیات (Land Grants) کو پڑھا، ڈی کوڈ کیا اور مرتب کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ برصغیر میں زمین کی ملکیت، حد بندی اور انتقال کے اصول صدیوں پہلے تحریری شکل میں موجود تھے۔ اسی منظم جغرافیائی علم نے بعد ازاں گریٹ ٹرگنومیٹریکل سروے (Great Trigonometrical Survey) جیسے سائنسی سروے (Survey) منصوبوں کی فکری بنیاد رکھی، جس کے نتیجے میں زمین کی درست پیمائش اور نقشہ سازی (Mapping) ممکن ہوئی اور جدید لینڈ ریکارڈ نظام کی تشکیل کا راستہ ہموار ہوا۔ اسی ادارے کے تیار کردہ اس عظیم علمی مواد نے برطانوی حکومت کو وہ بنیاد فراہم کی جس پر برصغیر میں زمین کی سائنسی پیمائش، حد بندی اور باقاعدہ نقشہ سازی کے سرکاری ادارے قائم کیے گئے۔ یہی تاریخی ریکارڈ اور جغرافیائی اصطلاحات بعد میں “سروے آف انڈیا” اور “عظیم جغرافیائی سروے” (GTS) جیسے بڑے منصوبوں کے لیے فکری معاون ثابت ہوئیں۔ آج ہم زمین کی رجسٹری، بندوبستِ اراضی، ریونیو نقشوں اور جدید ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم کی جو شکل دیکھتے ہیں، وہ ان ہی قدیم مادی ذرائع اور ایشیاٹک سوسائٹی کی علمی کاوشوں کے بغیر ممکن نہ تھی۔ زمینی تاریخ کے ماہرین کے مطابق 15 جنوری 1784 ہی وہ دن ہے جب برصغیر کے طول و عرض کو دستاویزی شکل دینے کا باقاعدہ عمل شروع ہوا، جسے آج کے “ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ” کی ابتدائی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ میں زمین اور جائیداد کی ملکیت کا تصور اس وقت بنیادی طور پر تبدیل ہوا جب لینڈ رجسٹریشن رولز 1925 کو Statutory Instrument 1925 No. 1093 کے تحت قانونی طور پر نافذ کیا گیا۔ برطانوی ہاؤس آف لارڈز اور سرکاری قانونی ریکارڈ کے مطابق 5 دسمبر 1925 کو ان قواعد کی حتمی توثیق کے بعد زمین کی ملکیت کو باقاعدہ طور پر سرکاری رجسٹر سے منسلک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں نجی کاغذات کے بجائے سرکاری اندراج کو ملکیت کی اصل بنیاد بنا دیا گیا۔ 5 دسمبر 1925 کو برطانیہ میں نافذ ہونے والے نئے لینڈ رجسٹریشن رولز نے زمین کی ملکیت کا طریقہ ہی بدل دیا۔ اس سے پہلے لوگ اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے پرانے کاغذات اور ٹائٹل ڈیڈز سنبھال کر رکھتے تھے، اور اگر یہ کاغذات ضائع ہو جاتے تو ملکیت ثابت کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس قانون کے بعد یہ طے کر دیا گیا کہ زمین کا اصل مالک وہی مانا جائے گا جس کا نام حکومت کے سرکاری رجسٹر میں درج ہوگا، یعنی اب نجی کاغذات سے زیادہ اہمیت سرکاری ریکارڈ کو مل گئی۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازمی قرار پایا کہ جب تک کسی جائیداد کی رجسٹری سرکاری ریکارڈ میں منتقل نہ ہو، وہ قانونی طور پر خریدار کی ملکیت نہیں سمجھی جائے گی، جس سے دھوکہ دہی اور بے نامی سودوں میں نمایاں کمی آئی۔ چونکہ اس وقت برصغیر برطانوی راج کے تحت تھا، اسی نظام کو یہاں بھی اپنایا گیا، اور آج پاکستان میں پٹواری یا رجسٹرار کے ذریعے جو زمین کا اندراج اور انتقال کیا جاتا ہے، اس کی بنیادی سوچ یہی ہے کہ اصل ملکیت وہی ہے جو سرکاری رجسٹر میں درج ہو۔ یہی قواعد بعد میں جدید ترامیم کے ساتھ برطانیہ کے HM Land Registry کے موجودہ نظام کی بنیاد بنے۔ (برطانیہ میں HM Land Registry سے مراد Her Majesty’s Land Registry ہے، جو زمین اور جائیداد کی ملکیت کا سرکاری ادارہ ہے۔ عملی طور پر یہ وہی کردار ادا کرتا ہے جو پاکستان میں صوبائی سطح پر بورڈ آف ریونیو انجام دیتے ہیں، یعنی زمین کے ریکارڈ کا تحفظ، ملکیت کا اندراج اور قانونی حیثیت کی توثیق۔) یاد رہے کہ اسی ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے برصغیر میں بھی ریکارڈِ اراضی کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف کرائی گئی۔ 1925 کے بعد، خاص طور پر 1927 سے 1930 کی دہائی کے دوران، برطانیہ میں بنائے گئے زمین کی رجسٹری کے نئے نظام کو سامنے رکھتے ہوئے برصغیر میں بھی زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اگرچہ یہاں Registration Act 1908 پہلے سے موجود تھا، لیکن اس دور میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ زمین کی ملکیت کا اصل ثبوت سرکاری ریکارڈ ہوگا، نہ کہ صرف نجی کاغذات۔ اسی لیے رجسٹری، انتقال اور سرکاری اندراج کے طریقے کو زیادہ منظم بنایا گیا تاکہ زمین کے جھگڑے کم ہوں اور ملکیت واضح رہے۔ انہی اصلاحات کی بنیاد پر پنجاب، بنگال، بمبئی اور مدراس میں زمین کے ریکارڈ کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی جھلک آج بھی پاکستان اور بھارت کے موجودہ ریکارڈِ اراضی کے نظام میں نظر آتی ہے۔