Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

عالمی زمین کے سودے اور معاہدے

1 Historical Event found

لوئیزیانا پرچیز: عالمی رئیل اسٹیٹ تاریخ کا سب سے بڑا زمینی سودا، جس کا آج باضابطہ قبضہ منتقل ہوا۔

20 دسمبر 1803 رئیل اسٹیٹ اور زمینی معاہدوں کی عالمی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جس نے نہ صرف زمین کی خرید و فروخت کے تصور کو بدل دیا بلکہ ریاستی توسیع، جغرافیائی سیاست اور رئیل اسٹیٹ کی اسٹریٹجک اہمیت کو بھی ایک نئی جہت دی۔ تاریخ میں اس واقعے کو لوئیزیانا پرچیز (Louisiana Purchase) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لوئیزیانا پرچیز روایتی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا کوئی کاروباری لین دین نہیں تھا بلکہ یہ Sovereign-to-Sovereign Land Transfer تھا، یعنی ایک ریاست سے دوسری ریاست کو زمین کی فروخت اور منتقلی کا عمل، جو بغیر کسی مارکیٹ ویلیو کے تعین کے اور مکمل طور پر سیاسی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر انجام پایا۔ اسی لئے اسے دنیا کا سب سے بڑا زمینی سودا کہا جاتا ہے، جسے تکنیکی بنیادوں پر دنیا کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ڈیل بھی کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ لوئیزیانا پرچیز کا معاہدہ اس سے قبل 30 اپریل 1803 کو پیرس (Paris) میں طے پا چکا تھا، تاہم 20 دسمبر 1803 کو فرانس نے باضابطہ طور پر لوئیزیانا کے وسیع و عریض علاقے کا عملی کنٹرول ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حوالے کیا۔ اس تاریخی معاہدے میں امریکہ کی جانب سے رابرٹ لیونگسٹن (Robert Livingston) اور جیمز منرو (James Monroe) نے نمائندگی کی، جبکہ فرانس کی طرف سے فرانسوا باربے ماربوا (François Barbé Marbois) نے نپولین بوناپارٹ کی حکومت کی جانب سے مذاکرات انجام دیے۔ عملی حوالگی کی یہ تاریخی تقریب نیو اورلینز (New Orleans) میں منعقد ہوئی، اور یوں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی زمینی منتقلی مکمل ہوئی۔ لوئیزیانا پرچیز کی بنیاد پر امریکہ نے ایک ہی دن میں اپنے جغرافیائی رقبے کو دوگنا کر لیا، جبکہ فرانس نے ایک خطے سے دستبرداری اختیار کر کے اپنی یورپی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے فرانس سے تقریباً 828000 مربع میل پر مشتمل علاقہ حاصل کیا، جو موجودہ پیمانے کے مطابق تقریباً 21 لاکھ مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ تقابل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ رقبہ پاکستان کے موجودہ زمینی رقبے (تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر) سے لگ بھگ ڈھائی گنا زیادہ تھا۔ یہ وسیع و عریض زمین اس وقت محض 15 ملین امریکی ڈالر کے عوض حاصل کی گئی، جو آج کے حساب سے فی ایکڑ چند سینٹ کے برابر تھی۔ رئیل اسٹیٹ کی عالمی تاریخ میں اتنے بڑے رقبے کا اتنی کم قیمت پر مگر انتہائی بلند اسٹریٹجک اہمیت کے ساتھ حاصل کیا جانا آج تک بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ لوئیزیانا پرچیز کی اہمیت صرف اس کی قیمت یا رقبے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس ایک معاہدے نے امریکہ کے مستقبل کا جغرافیائی، معاشی اور ریاستی نقشہ بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اس زمینی سودے کے نتیجے میں بعد ازاں امریکہ کی پندرہ ریاستیں وجود میں آئیں جن میں لوئیزیانا (Louisiana)، آرکنساس (Arkansas)، مسوری (Missouri)، آئیووا (Iowa)، نارتھ ڈکوٹا (North Dakota)، ساؤتھ ڈکوٹا (South Dakota)، نیبراسکا (Nebraska)، کنساس (Kansas)، اوکلاہوما (Oklahoma)، منٹانا (Montana)، وائیومنگ (Wyoming)، کولوراڈو (Colorado)، مینیسوٹا (Minnesota)، نیو میکسیکو (New Mexico) اور ٹیکساس (Texas) شامل ہیں۔ یہی وہ خطے تھے جنہوں نے امریکہ کی زرعی پیداوار، صنعتی توسیع اور داخلی تجارت کو غیر معمولی تقویت دی اور ملک کو ایک مضبوط براعظمی طاقت میں تبدیل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ جغرافیائی اعتبار سے لوئیزیانا پرچیز کے تحت حاصل کیا گیا بیشتر علاقہ براہ راست کسی سمندری ساحل سے محروم تھا، اس لئے یہ بنیادی طور پر ایک لینڈ لاکڈ براعظمی توسیع تھی۔ تاہم اس معاہدے کی اصل اسٹریٹجک طاقت یہ تھی کہ اس کے ذریعے امریکہ کو دریائے مسیسیپی اور اس کے پورے طاس پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا، جو بالآخر خلیج میکسیکو (Gulf of Mexico) سے جا ملتا ہے۔ اس زمینی سودے سے امریکہ کی ایک مضبوط اندرونی جغرافیائی ریڑھ کی ہڈی قائم ہوئی، جس نے بعد ازاں مغرب کی جانب پیسیفک کوسٹ تک پھیلاؤ کی بنیاد فراہم کی۔ سیاسی طور پر یہ معاہدہ اس وقت کے امریکی صدر تھامس جیفرسن (Thomas Jefferson) کے لئے بھی ایک بڑا فیصلہ تھا، کیونکہ امریکی آئین میں بیرون ملک سے زمین خریدنے کا واضح ذکر موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود قومی مفاد، مستقبل کی توسیع اور دریائے مسیسیپی پر کنٹرول کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سودا مکمل کیا گیا، اور بعد ازاں یہی فیصلہ امریکی تاریخ کے دانشمندانہ ترین فیصلوں میں شمار ہوا۔ تاریخی طور پر لوئیزیانا (Louisiana) کا علاقہ یورپی نوآبادیاتی توسیع (European Imperial Expansion) کا نتیجہ تھا۔ 1682 میں فرانسیسی مہم جو رابرٹ ڈی لا سال (Robert de La Salle) نے دریائے مسیسیپی کے وسیع خطے (Mississippi River Basin) کو فرانس کے نام پر دعویٰ کرتے ہوئے اسے فرانسیسی بادشاہ لوئی چودہویں (King Louis XIV) کے نام پر لوئیزیانا قرار دیا۔ یہ دعویٰ مقامی آبادی کی رضامندی پر نہیں بلکہ اس نوآبادیاتی تصور پر مبنی تھا جس میں دریافت کو ملکیت کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اور زمین کو ریاستی خودمختار ملکیت (Sovereign Land Ownership) تصور کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں فرانس نے اس خطے کو اپنے نوآبادیاتی علاقہ (Colonial Territory) کے طور پر منظم کیا، مگر 1763 میں سات سالہ جنگ کے بعد فرانس نے یہ خطہ اسپین کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں 1800 میں ایک خفیہ معاہدے (Treaty of San Ildefonso) کے تحت اسپین نے لوئیزیانا دوبارہ فرانس کو واپس کر دیا، یوں یہ علاقہ فروخت کے وقت قانونی طور پر فرانس کے قبضے میں آ گیا۔ تاہم عملی حقیقت یہ تھی کہ نہ اسپین اور نہ ہی فرانس اس وسیع خطے پر کبھی مؤثر، دیرپا اور مضبوط انتظامی کنٹرول قائم کر سکے۔ ایسے میں یورپ میں جاری نپولینی جنگیں، شدید مالی بحران اور امریکہ میں نوآبادیاتی علاقوں کو سنبھالنے میں بڑھتی ہوئی مشکلات فرانس کے لئے فیصلہ کن بن گئیں۔ انہی حالات میں نپولین بوناپارٹ نے لوئیزیانا کو فروخت کر کے نہ صرف فوری مالی وسائل حاصل کئے بلکہ امریکہ کو برطانیہ کے مقابل ایک توازن کی طاقت کے طور پر بھی ابھارا، اور یوں ایک کمزور نوآبادیاتی قبضہ تاریخ کے سب سے بڑے زمینی سودے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ دن یورپی طاقتوں کی اس کثیر جہتی حکمتِ عملی کی یاد دلاتا ہے جس کے تحت انہوں نے اپنی حقیقی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ وسیع جغرافیائی علاقوں پر کنٹرول قائم کیا۔ یہ قبضے محض فوجی طاقت کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے مالی استعداد، بحری تحفظ، عالمی تجارتی مفادات اور مستقبل کے سیاسی توازن جیسے عوامل کارفرما تھے۔ لوئیزیانا کے معاملے میں بھی فرانس نے ایک کمزور اور مہنگے قبضے کو برقرار رکھنے کے بجائے اس سے دستبرداری کو ترجیح دی۔ اس تناظر میں 20 دسمبر 1803 اس حقیقت کی علامت ہے کہ زمین سے متعلق فیصلے محض جغرافیائی نہیں ہوتے بلکہ وقت، طاقت اور دور اندیش ریاستی سوچ سے جڑے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات پسپائی ہی تاریخ کی سمت متعین کر دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com