Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

زمین اور انسانی آبادکاری

1 Historical Event found

زمین، انسان اور جنگلی حیات کے مطالعے کے لیے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا قیام

27 جنوری 1888 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کی گئی۔ اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کی زمینوں، پہاڑوں، دریاؤں، شہروں، مختلف علاقوں اور ان میں آباد انسانی اور جنگلی حیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور ان کے نقشے تیار کیے جائیں۔ اس سے پہلے لوگ زمین کو محض ایک جگہ سمجھتے تھے، لیکن نیشنل جیوگرافک نے یہ تصور متعارف کرایا کہ زمین کو ناپا جا سکتا ہے، اس کا درست ریکارڈ رکھا جا سکتا ہے، اور یہ جانچا جا سکتا ہے کہ کون سی زمین کس استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اسی علمی کام کے نتیجے میں بعد ازاں یہ سمجھ پیدا ہوئی کہ شہروں کو کہاں پھیلانا چاہیے، سڑکیں کہاں بننی چاہئیں، زراعت کہاں بہتر ہو سکتی ہے اور زمین کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی نہیں ہوتی بلکہ ایک قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، جس کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے ابتدائی طور پر زمین کے درست نقشے تیار کیے، زمین کی صحیح پیمائش کی، اور یہ واضح کیا کہ کسی علاقے کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں، جسے زمین کی حد بندی کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کون سی زمین رہائش کے لیے بہتر ہے، کون سی کھیتی باڑی کے لیے، اور کون سی صنعت یا سڑکوں کے لیے استعمال ہونی چاہیے، جسے زمین کے استعمال کی درجہ بندی کہا جاتا ہے۔ جب یہ تمام پہلو واضح ہوئے تو شہروں کی منصوبہ بندی کے ساتھ توسیع، علاقوں کی زوننگ، اور زمین سے متعلق قوانین کی تشکیل میں آسانی پیدا ہوئی۔ لوگوں کو یہ سمجھ آنے لگی کہ شہر اکثر دریاؤں، ساحلوں، پہاڑوں، راستوں اور قدرتی وسائل کے قریب کیوں بنتے ہیں، اور کیوں کچھ مقامات زیادہ اہم اور قیمتی ہو جاتے ہیں، جنہیں اسٹریٹجک لوکیشن کہا جاتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک نے یہ بھی واضح کیا کہ زمین کی قیمت محض جگہ کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق وہاں موجود خصوصیات سے ہوتا ہے، جیسے پانی کا نظام، مٹی کی زرخیزی اور معدنی وسائل کی دستیابی۔ اس طرح زمین کی معاشی قدر اور اس پر سرمایہ کاری کی صلاحیت کو جانچنے کا ایک سائنسی طریقہ سامنے آیا۔ [img:Images/otd-27-jan-2nd.jpeg | desc:نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا مشہورِ زمانہ میگزین National Geographic دستاویزی اور تحقیقی صحافت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس میگزین کے یہ تین سرورق اس کے فکری سفر کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں فطرت، انسان اور ماحول کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے یہ تینوں سرورق نیشنل جیوگرافک کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کو دکھاتے ہیں۔ پہلا سرورق جنگلی جانوروں اور قدرتی ماحول کی بات کرتا ہے، دوسرا انسان اور جنگ سے جڑی مشکلات کو دکھاتا ہے، اور تیسرا آج کے دور کے ماحولیاتی مسئلے، خاص طور پر پلاسٹک کی آلودگی، کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان سب کا ایک ہی پیغام ہے کہ زمین، انسان اور ماحول آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔] بعد ازاں جب ہوائی جہازوں سے تصویریں لینے کا عمل شروع ہوا، یعنی فضائی فوٹوگرافی، اور پھر سیٹلائٹ کے ذریعے مشاہدہ ممکن ہوا تو زمین سے متعلق جغرافیائی ڈیٹا مزید درست ہوتا چلا گیا۔ اسی بنیاد پر آج کے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور جدید لینڈ ایڈمنسٹریشن کے نظام وجود میں آئے۔ سادہ الفاظ میں، نیشنل جیوگرافک نے دنیا کو یہ سکھایا کہ زمین صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک جغرافیائی اثاثہ اور وسائل پر مبنی سرمایہ ہے، جسے سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ آج بھی رئیل اسٹیٹ ویلیوایشن، شہری توسیع اور پالیسی سازی کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کو دنیا بھر میں جانوروں، جنگلات، زمینوں، سمندروں اور قدرتی ماحول پر کی گئی فوٹوگرافی، ڈاکیومنٹریز اور تحقیقی کام کی وجہ سے بھی سراہا جاتا ہے۔ نقشہ سازی بھی نیشنل جیوگرافک کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے، جس میں اس ادارے نے وقت کے ساتھ خاص مہارت حاصل کی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی نے اپنے معروف اور عالمی سطح پر مشہور میگزین نیشنل جیوگرافک کے ذریعے ایسے نقشے شائع کیے جو واضح انداز، درست معلومات اور گہری تحقیق پر مبنی ہوتے تھے۔ یہ نقشے روزمرہ سرکاری استعمال کے لیے نہیں تھے بلکہ دنیا، مختلف خطوں، سمندروں، سرحدوں اور قدرتی نظام کو سمجھانے کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔ اسی لیے تعلیمی اداروں، محققین اور عام قارئین نے انہیں بڑے اعتماد کے ساتھ استعمال کیا۔ یوں اگرچہ نقشہ سازی نیشنل جیوگرافک کا مرکزی کام نہیں تھی، مگر اس کے میگزین میں شائع ہونے والے معیاری نقشوں نے اس ادارے کی ساکھ کو مضبوط کیا اور اسے عالمی سطح پر ایک معتبر اور سنجیدہ علمی ادارے کے طور پر شناخت دلائی۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی قائم کرنے کا خیال 1888 میں واشنگٹن ڈی سی میں چند ماہرینِ جغرافیہ، سائنس دانوں اور دانشوروں کو آیا، جن میں سب سے نمایاں نام گارڈنر گرین ہبارڈ کا تھا، جو اس کے پہلے صدر بنے۔ ان افراد کا مقصد یہ تھا کہ دنیا، زمین، فطرت اور انسان کے باہمی تعلق کو سائنسی بنیادوں پر سمجھا اور سمجھایا جائے۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی ایک غیر منافع بخش، عوامی اور تعلیمی ادارہ ہے جو کسی حکومت کے تحت نہیں چلتا۔ اس کی مالی معاونت عوامی عطیات، ممبرشپ فیس، اشاعتی اور میڈیا آمدن، اور تحقیقی گرانٹس سے ہوتی ہے۔ انہی ذرائع سے اس کا اسٹاف، تحقیق، ڈاکیومنٹریز اور فیلڈ ورک چلایا جاتا ہے۔ اسی خود مختار حیثیت کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں ایک آزاد، معتبر اور غیر جانبدار علمی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com