Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

زرعی زمینوں کے تہوار

1 Historical Event found

مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مکر سنکرانتی: برصغیر کی دیہی زندگی کا ایک گمشدہ تہوار جو عموماً 14 جنوری کو روزِ عید کی مانند منایا جاتا تھا۔ آج بسنت کا نام دے کر اسے محض پتنگ بازی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں کچھ ایام ایسے ہیں جو محض تقویم کا حصہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، زمین اور معیشت سے جُڑے رشتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک “مکر سنکرانتی” ہے، جو کبھی 14 جنوری کو دیہی معاشرے میں روزِ عید کی طرح بڑے خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب زمین ہی پیداوار اور روزگار کا واحد بڑا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ اس زمانے میں عام آدمی کی آمدن کا دارومدار سال میں کٹنے والی ایک یا دو فصلوں پر ہوتا تھا، اسی لیے فصل کی کٹائی کا مطلب ہی دولت کا آنا سمجھا جاتا تھا۔ مکر سنکرانتی، جو عموماً 14 جنوری کو آتی ہے، اس مرحلے کی نمائندگی کرتی تھی جب خریف (جیسے مکئی، گنا، کپاس اور چاول) کی فصل مکمل ہو چکی ہوتی تھی اور ربیع (جیسے گندم، چنا، سرسوں) کی فصل کی تیاری یا ابتدا ہو جاتی تھی۔ اس موقع پر کسان کو اپنی محنت کا پھل ملتا تھا، آمدن حاصل ہوتی تھی، خوراک وافر ہوتی تھی اور جیب میں نقدی یا اناج کی صورت میں وہ سرمایہ جمع ہوتا تھا جس سے وہ اگلے زرعی سال کی منصوبہ بندی کر سکتا تھا۔ زمینوں کے نئے معاہدے، قرضوں کی ادائیگی اور مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے یہ وقت موزوں ترین سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ دن کسان معاشرے میں حقیقی خوشی، اجتماعی میل جول اور ذہنی اطمینان کا باعث بنتا تھا۔ معاشی نقطۂ نظر سے یہ دن کسان کی “فنانشل ایئر کلوزنگ” (Financial Year Closing) کے مترادف تھا۔ تاریخی اور فلکیاتی طور پر بھی 14 جنوری کی اہمیت مسلم ہے۔ اس دن سورج برجِ جدی میں داخل ہوتا ہے اور اسی تاریخ سے دن کا دورانیہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ موسمِ سرما کا پہلا دورانیہ رخصت ہو جاتا ہے۔ زراعت سے وابستہ لوگوں کے لیے بڑھتی ہوئی دھوپ فصلوں کی نشوونما کی نوید ہوتی تھی۔ پنجاب میں “لوہڑی”، سندھ میں “ترموری” اور دیگر علاقوں میں مختلف ناموں سے منایا جانے والا یہ جشن دراصل زمین کی زرخیزی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا شکرانہ تصور کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب برصغیر کا معاشرتی نظام زرعی سے شہری اور صنعتی صورت اختیار کرتا گیا، تو اس تہوار کی عملی اہمیت بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی۔ جیسے جیسے آمدن کے ذرائع فصلوں کے بجائے تنخواہ، صنعت اور کاروبار سے جڑتے گئے، زمین سے وابستہ اس تہوار کی شکل بھی بدلتی چلی گئی، اور آج اس تہوار کو عرفِ عام میں بسنت کہا جاتا ہے۔ اب یہ دیہی زندگی سے نکل کر ایک شہری تہوار بن چکا ہے۔ اس دن چھوٹے بڑے شہروں میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے ہیں۔ مقامی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بڑے کاروباری گروپ ایک دوسرے کو اور اپنے کلائنٹس کو بسنت منانے کے دعوت نامے بھیجتے ہیں۔ سارا دن اور ساری رات پتنگ بازی کرتے ہوئے “بوکاٹا، بوکاٹا” کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں اور موسمی کھانے کھاتے ہوئے وقت گزارا جاتا ہے۔ لوگ نئے، اجلے کپڑے پہن کر یہ دن مناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ بسنت ایک زمینی حقیقت سے جڑا ہوا فصلی تہوار تھا، ایک ایسا تہوار جس نے ایک فطری ماحول میں جنم لیا جہاں کھلا آسمان تھا، لہلہاتے کھیت تھے، درخت تھے، ہوا میں وسعت تھی، اور زندگی کی رفتار میں ٹھہراؤ تھا۔ ایسے ماحول میں بسنت منانا اور پتنگ بازی کرنا فطرت کے قریب محسوس ہوتا ہے، جیسے رنگ، ہوا اور زمین ایک ہی جشن میں شریک ہوں۔ لیکن جب یہی تہوار شہر میں آیا تو اس نے گویا بالکل مختلف ماحول میں قدم رکھا۔ آلودہ فضا، بجلی کے دھاتی تاروں میں الجھے کھمبوں کا لا متناہی سلسلہ، تا حدِ نظر چھتوں سے جُڑے میدان اور لوگوں کا اژدحام۔ شہر میں وہی عمل جو دیہات میں کھیل تھا، یہاں آ کر خونی موت بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خوشی آہستہ آہستہ ماتم میں بدل گئی۔ تو کیا شہر میں بسنت نے اپنی روح کھو دی؟ ہاں، یقیناً ایسا ہی ہوا، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ثقافتی ہم آہنگی یعنی کلچر کمپٹیبیلیٹی (Cultural Compatibility) کا فقدان ہے۔ بسنت شہر میں اس لیے خونی کہلائی کیونکہ وہ اس ماحول کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکی۔ دیہی ماحول میں اس تہوار کے اندر جو فطری حفاظت موجود تھی، وہ خود ماحول فراہم کرتا تھا۔ شہر میں وہ حفاظتی حصار ٹوٹ گیا، اور کھیل موت کا دائرہ بن گیا۔ قدرت کا یہی قانون ہے کہ ہر روایت، ہر رسم، اور ہر عمل اپنی اصل جگہ پر ہی جچتا ہے۔ کسی بھی ثقافتی سرگرمی کا اپنے فطری ماحول یعنی نیچرل کانٹیکسٹ (Natural Context) سے کٹ جانا اسے ایک مکینکی عمل تو بنا سکتا ہے، لیکن اس کی روح فنا کر دیتا ہے۔ بسنت کے حوالے سے بھی یہی کچھ ہوا۔ چیزیں صرف اپنے وجود سے نہیں بلکہ اپنے ماحول سے معنی پاتی ہیں۔ جب ہم کسی چیز کو اس کے فطری سیاق سے کاٹ کر کہیں اور رکھتے ہیں تو وہ حسن کے بجائے حادثہ بن جاتی ہے۔ ہاں، اگر آج شہری لوگ دیہاتوں میں جا کر بسنت منانا شروع کر دیں، کھلے میدانوں میں، بغیر دھاتی تاروں کے، بغیر ہجوم کے، تو شاید وہی خوشی، وہی رنگ، وہی زندگی دوبارہ واپس آ جائے جسے ہم کھو بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com