Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

دنیا کی بلند ترین عمارات

1 Historical Event found

دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔

جس عمارت کو آج دنیا Burj Khalifa کے نام سے جانتی ہے، اس منصوبے کا آغاز ابتدا میں برج دبئی کے نام سے کیا گیا تھا۔ تاہم ایک اہم اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس عمارت کا افتتاح جان بوجھ کر 4 جنوری 2010 کو رکھا گیا، تاکہ یہ تاریخ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی تخت نشینی کی سالگرہ سے مطابقت رکھے۔ درحقیقت 4 جنوری 2006 کو اسی دن شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے دبئی کے حکمران کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تھا، جو مکتوم قیادت کے ایک نئے دور کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم عمارت کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر ایک اہم فیصلہ سامنے آیا، جب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان، جو اس وقت متحدہ عرب امارات کے صدر تھے، کے اعزاز میں اس عمارت کا نام برج خلیفہ رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام نہ صرف قومی قیادت کے احترام کی علامت تھا بلکہ متحدہ عرب امارات کی وفاقی وحدت اور سیاسی ہم آہنگی کی بھی عکاسی کرتا تھا۔ بہرحال 4 جنوری یو اے ای کی تاریخ میں ایک امر دن ہے کہ اس روز برج خلیفہ کو عام عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ یہ ایک آف پلان لگژری رئیل اسٹیٹ منصوبہ تھا، جس نے نہ صرف دبئی بلکہ پوری خلیجی ریاستوں میں رئیل اسٹیٹ کی عالمی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔ (آف پلان لگژری رئیل اسٹیٹ off plan luxury real estate سے مراد ایسا اعلیٰ معیار کا رہائشی یا تجارتی منصوبہ ہوتا ہے جو عمارت کی تکمیل سے پہلے فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں خریدار نقشوں اور ڈیزائنز کی بنیاد پر پراپرٹی خریدتا ہے، نہ کہ تیار شدہ عمارت دیکھ کر۔ ایسی سرمایہ کاری عموماً اقساط میں کی جاتی ہے اور مستقبل میں قدر بڑھنے کی توقع رکھی جاتی ہے۔) اس منصوبے کی لانچ کے ساتھ ہی دبئی نے خود کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنجیدہ اور جدید اربن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ [img:Images/2-jan-2-otd.jpeg | desc:] برج خلیفہ کا منصوبہ باضابطہ طور پر 6 جنوری 2004 کو شروع ہوا، جس کا تصور دبئی کی معروف ڈویلپمنٹ کمپنی Emaar Properties نے پیش کیا جبکہ اس کا معماری ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ معمار Adrian Smith نے Skidmore Owings and Merrill کے پلیٹ فارم سے تیار کیا۔ یہ منصوبہ تقریباً 6 سال کے عرصے میں 4 جنوری 2010 کو مکمل ہوا، یعنی لگ بھگ 2190 دن میں اس کی تعمیر پایہ تکمیل تک پہنچی۔ برج خلیفہ کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے شہری ترقی کے افقی تصور کو بدل کر عمودی اربن ڈیولپمنٹ کو عالمی معیار پر متعارف کرایا اور دبئی کو سرمایہ کاری، سیاحت اور لگژری رہائش کے عالمی نقشے پر نمایاں مقام دلایا۔ اس عمارت میں کل 163 قابل استعمال منزلیں ہیں، جن میں Armani Hotel کے تقریباً 304 کمرے اور سوئٹس، لگ بھگ 900 لگژری رہائشی اپارٹمنٹس، متعدد کمرشل اور دفتری فلورز، اور دنیا کے بلند ترین عوامی مشاہداتی ڈیک observation deck شامل ہیں، یوں برج خلیفہ اکیسویں صدی کی شہری منصوبہ بندی، انجینئرنگ مہارت اور رئیل اسٹیٹ وژن کی ایک جامع علامت بن کر سامنے آیا۔ (عوامی مشاہداتی ڈیک observation deck عمارت کا وہ بلند، باقاعدہ منصوبہ بند اور تجارتی طور پر قابل استعمال حصہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کے لیے کھلا ہو اور جہاں سے شہر، اردگرد کے مناظر اور افق کو اونچائی سے محفوظ اور منظم انداز میں دیکھا جا سکے۔) آج برج خلیفہ دنیا کی سب سے بلند ترین عمارت ہی نہیں بلکہ دبئی کی معاشی خود اعتمادی اور عالمی رئیل اسٹیٹ وژن کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ 2010 میں تکمیل کے بعد سے آج تک یہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے اور جدید انجینئرنگ، شہری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے امتزاج کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ موجودہ مارکیٹ ڈیٹا 2026 کے مطابق ایک درمیانے سائز کا رہائشی اپارٹمنٹ عموماً ایک بیڈروم یونٹ ہوتا ہے جس کا رقبہ تقریباً 800 سے 1,100 مربع فٹ کے درمیان ہوتا ہے، اور اس کی قیمت عام طور پر 7 لاکھ سے 11 لاکھ امریکی ڈالر کے درمیان دیکھی جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 20 کروڑ سے 31 کروڑ روپے بنتی ہے، جبکہ یہاں سب سے چھوٹا رہائشی یونٹ اسٹوڈیو اپارٹمنٹ ہوتا ہے جس کا رقبہ تقریباً 540 سے 600 مربع فٹ ہوتا ہے۔ اسی عمارت میں کمرشل پراپرٹی کے طور پر دفاتر کا کم از کم سائز عموماً 1,000 سے 1,500 مربع فٹ سے شروع ہوتا ہے، جسے درمیانے سائز کا آفس یونٹ سمجھا جاتا ہے، اور ایسے آفس کی قیمت موجودہ مارکیٹ میں تقریباً 40 لاکھ سے 60 لاکھ امریکی ڈالر کے درمیان رہتی ہے، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 112 کروڑ سے 168 کروڑ روپے کے مساوی بنتی ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com