Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

توانائی کے وسائل اور زیرِ زمین دولت

1 Historical Event found

جب تھامس ایڈیسن نے پہلی بار بجلی کو گھروں اور شہری آبادی تک پہنچانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔

اگرچہ 1879 میں ایڈیسن نے بجلی کا بلب تیار کر لیا تھا اور 1882 میں انہوں نے نیویارک میں Pearl Street Power Station کے ذریعے کمرشل سطح پر عوامی مقامات کو روشن بھی کیا تھا، مگر اس وقت تک بجلی کا استعمال چند عمارتوں اور محدود علاقوں تک ہی تھا۔ 19 جنوری 1883 کو امریکی ریاست نیو جرسی کے قصبے Roselle میں اوور ہیڈ وائرنگ، یعنی کھمبوں پر نصب تاروں کے ذریعے، بجلی کو ایک آباد بستی تک پہنچایا گیا۔ اس منصوبے میں First Presbyterian Church, Roselle پہلی عوامی عمارت تھی جسے اس نظام کے تحت روشن کیا گیا، اور خود ایڈیسن اس تنصیب کی نگرانی میں موجود تھے۔ اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ بجلی اب محض تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ گھروں، گلیوں، سڑکوں اور بازاروں کو بھی رات کے وقت روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے زیرِ زمین وائرنگ اتنی مہنگی تھی کہ بجلی صرف چند امیر افراد یا محدود تجارتی اداروں تک ہی قابلِ رسائی سمجھی جاتی تھی، جبکہ کھمبوں پر تاریں بچھانا نسبتاً سستا اور بڑے پیمانے پر ممکن تھا۔ ایڈیسن کی عظمت کا اصل راز صرف برقی بلب ایجاد کرنے میں نہیں بلکہ اپنی اس ایجاد کو فعال شہری نظام میں ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ تھا۔ اگرچہ نکولا ٹیسلا کے پاس بجلی کو طویل فاصلوں تک منتقل کرنے کے انقلابی نظریات موجود تھے، لیکن ایڈیسن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بجلی کو تجربہ گاہوں سے نکال کر شہری آبادیوں اور عام انسان کے گھر تک پہنچانے کا عملی نمونہ فراہم کیا۔ ایڈیسن نے صرف بلب ایجاد نہیں کیا بلکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل، پیمائش اور حفاظت کے تمام مراحل کو یکجا کر کے ایک ایسا منظم نظام پیش کیا جس نے انسانی معاشرے سے اندھیرے ختم کرنے میں رہنمائی فراہم کی۔ [img:Images/otd-19-jan-2nd.jpeg | desc:یہ دو تصاویر امریکی ریاست نیو جرسی کے قصبے Roselle کی اور ابتدائی بجلی کی سپلائی کے مکمل نظام کی عوامی نمائش کو تاریخی طور پر مستند انداز میں پیش کرتی ہیں۔ Roselle وہی بستی ہے جہاں 19 جنوری 1883 کو تھامس ایڈیسن کے اوور ہیڈ وائرنگ سسٹم کے ذریعے پہلی بار گھروں تک بجلی پہنچائی گئی، جبکہ نمائش کی تصویر میں تھامس ایڈیسن کی بجلی کی سپلائی کے پورے نظام کو بلب، تاروں اور آلات سمیت عوام کے سامنے پیش کیا گیا] عام طور پر لوگ ایڈیسن کو صرف ایک موجد کے طور پر جانتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ایک عظیم سسٹم انجینئر اور کاروباری مفکر بھی تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اگر بلب بنا بھی لیا جائے مگر گھروں میں بجلی موجود نہ ہو تو وہ بلب محض ایک کھلونا ہی رہے گا۔ اسی لیے بلب کی ایجاد کے بعد ایڈیسن کے سامنے اصل سوال بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کا مکمل نظام قائم کرنا تھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بلب کے بعد پاور اسٹیشن، وائرنگ اور تقسیم کے نظام پر کام کیا تاکہ بجلی تجربہ گاہوں یا امیر طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری زندگی کا حصہ بن سکے۔ تاریخ دان اس نکتے پر متفق ہیں کہ ایڈیسن کا اصل کارنامہ محض بلب ایجاد کرنا نہ تھا بلکہ بجلی کو ترسیل کرنے کے سسٹم میں ڈھالنا تھا۔ ایڈیسن نے بجلی کو ایک انفرادی ایجاد سے نکال کر باقاعدہ گرڈ سسٹم کی شکل دی۔ انہوں نے بجلی کے میٹر، فیوز، سوئچ، جنریٹر اور تقسیم کے تمام ضروری اجزا تیار کیے، جن کے بغیر بجلی عام استعمال میں نہیں آ سکتی تھی۔ اسی سوچ کا عملی اظہار 1882 میں نیویارک کے پرل اسٹریٹ اسٹیشن کی صورت میں ہوا، جس نے پہلی بار یہ ثابت کیا کہ ایک مرکزی مقام پر بجلی پیدا کر کے اسے زیرِ زمین تاروں کے ذریعے پورے شہری بلاک میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اور یہی ماڈل بعد میں دنیا بھر کے پاور گرڈز کی بنیاد بنا۔ اس کے بعد نیو جرسی میں اوور ہیڈ وائرنگ کا تجربہ ایک اہم قدم ثابت ہوا، کیونکہ کھمبوں پر تاریں بچھانا سستا بھی تھا اور دور دراز شہری آبادی تک بجلی پہنچانے میں زیادہ مؤثر بھی، جس سے بجلی چند بنگلوں تک محدود نہ رہی بلکہ عام گلیوں اور محلّوں تک پہنچ کر جدید شہری زندگی کا لازمی حصہ بن گئی۔ یوں ایڈیسن کی مسلسل محنت کے بعد وہ مرحلہ آیا جب بجلی کو پیدا کیا جا سکتا تھا، ناپا جا سکتا تھا، یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا تھا اور قیمت کے ساتھ فروخت بھی کیا جا سکتا تھا۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com