Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

تقسیم کے بعد برصغیر

1 Historical Event found

تقسیمِ ہند کے بعد مغربی بنگال میں متاثرہ علاقوں میں زمینوں اور جائیدادوں کی نئی ملکیت اور آبادکاری کے لیے سرکاری سروے کا آغاز۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں بنگال دو حصوں، مغربی بنگال اور مشرقی بنگال (مشرقی پاکستان) میں منقسم ہو گیا تھا۔ زمینوں کی ملکیت کا نظام بری طرح بگڑ چکا تھا۔ بڑے پیمانے پر ہجرت کے باعث لاکھوں ایکڑ زمین ایسی تھی جس کے مالکان سرحد پار جا چکے تھے، جبکہ ان جائیدادوں پر قبضہ گروپوں کی نظریں تھیں۔ اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے کے لیے 2 جنوری 1948 کو مغربی بنگال کی حکومت نے ایک بڑا انتظامی فیصلہ کیا۔ اس دن تمام ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہجرت کرنے والے مالکان کی زمینوں کا فوری سروے کریں اور ان کا ریکارڈ سرکاری نگرانی میں لائیں تاکہ کوئی بھی شخص ان زمینوں کو غیر قانونی طور پر فروخت نہ کر سکے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت ترک شدہ یا متنازعہ جائیدادوں کا باقاعدہ زمینی سروے شروع کیا گیا اور زمینوں کے اندراج کا عمل منظم کیا گیا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب تقسیم کے بعد ریاست نے زمین کے ریکارڈ کو دوبارہ ترتیب دینے کی سنجیدہ کوشش کی۔ اس اقدام کا ایک نمایاں پہلو بٹائی داروں اور مزارعین کے تحفظ کی بنیاد رکھنا تھا۔ ان کسانوں کو قانونی تحفظ دینے کی سمت پہلا قدم اٹھایا گیا جو دوسروں کی زمینوں پر کاشتکاری کرتے تھے، تاکہ مالکان کی ہجرت یا ملکیت کی تبدیلی کے باعث انہیں اچانک بے دخل نہ کیا جا سکے۔ یوں یہ نوٹیفکیشن محض ایک عبوری انتظامی حکم نہیں بلکہ مستقبل کی زرعی اور زمینی اصلاحات کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ اس فیصلے کا سب سے زیادہ فائدہ ان غریب کسانوں اور مزارعین کو ہوا جو ان زمینوں پر نسلوں سے محنت کر رہے تھے۔ حکومت نے 2 جنوری کو یہ واضح کر دیا کہ جب تک زمینوں کے نئے کاغذات تیار نہیں ہو جاتے، تب تک کسی بھی کاشتکار کو اس کی زمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام نے نہ صرف قبضوں کا راستہ روکا بلکہ عام آدمی کو یہ تحفظ بھی دیا کہ اس کی روزی روٹی کا ذریعہ، یعنی زمین، محفوظ ہے۔ اس اقدام سے صدیوں پرانا جاگیردارانہ نظام کمزور ہوا اور ایک منظم سرکاری ریکارڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ اگرچہ اس وقت یہ فیصلہ ایک سرکاری حکم نامے کی صورت میں تھا، لیکن اسی کی بنیاد پر آگے چل کر زمینوں کی ملکیت سے متعلق بڑے قوانین بنے۔ ماہرینِ اراضی اور تاریخی کتب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جنوری 1948 کا آغاز ہی وہ وقت تھا جب عام کسان کو زمین کا اصل حق دار تسلیم کرنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ آج بھی زمینوں کے ریکارڈ کی درستی اور پٹوار خانے کے نظام میں اس دن کی اہمیت کو ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com