Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

تاریخی شہری آفات

1 Historical Event found

دامغان - انسانی تاریخ کا مہلک ترین زلزلہ جس میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوۓ۔

آج سے تقریباً 1169 سال قبل، 22 دسمبر 856 عیسوی کو فارس کے شمالی علاقے قومس میں واقع شہر دامغان اور اس کے گردونواح میں ایک ایسا تباہ کن زلزلہ آیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاریخی روایات اور معتبر حوالوں کے مطابق یہ زلزلہ اپنی شدت اور جانی نقصان کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ مورخین کے اندازوں کے مطابق اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر تقریباً 7.9 تھی، جبکہ جانی نقصان لگ بھگ دو لاکھ افراد تک بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ نویں صدی میں باقاعدہ مردم شماری کا نظام موجود نہیں تھا، تاہم قدیم اسلامی اور فارسی تواریخ اس بات پر متفق ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ اس دور میں دامغان عباسی خلافت کے زیرِ انتظام ایک اہم تجارتی مرکز اور قدیم ایران کا گنجان آباد شہر تھا۔ زلزلے کے نتیجے میں شہر کے بیشتر مکانات، مساجد، قلعے اور عوامی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، جبکہ متعدد قریبی بستیاں مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ مؤرخین کے مطابق زلزلے کے بعد کئی دن تک آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے، جس کے باعث زندہ بچ جانے والی آبادی شدید خوف، بدحالی اور عدم تحفظ کا شکار رہی۔ بعد کے ادوار میں جب جدید تاریخ نویسی اور سائنسی تحقیق کا آغاز ہوا (تقریباً 1880 تا 1930 عیسوی)، تو محققین نے قدیم قمری تاریخوں کو فلکیاتی حساب کے ذریعے عیسوی کیلنڈر میں منتقل کیا۔ اسی تحقیق کے نتیجے میں اس زلزلے کی تاریخ 22 دسمبر 856 عیسوی قرار دی گئی، جسے آج بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے۔ دامغان کا یہ سانحہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں ایک گہری تبدیلی کی علامت بھی تھا۔ اس واقعے دامغان کے اس ہولناک زلزلے کے بعد اس خطے میں تعمیرات کے طریقوں اور بستیوں کے انتخاب پر ازسرِنو غور کیا گیا۔ پہاڑی علاقوں کے بجائے نسبتاً محفوظ میدانی خطوں کی تلاش شروع ہوئی، اور رہائش کے تصورات میں قدرتی آفات کو پہلی بار سنجیدگی سے لیا گیا۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com