Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

بورڈ آف ریونیو

1 Historical Event found

31 دسمبر پاکستان میں لینڈ ریکارڈ اور ریونیو رجسٹرز کی سالانہ کلوزنگ

پاکستان بھر میں 31 دسمبر کو ریونیو نظام کا سالانہ Close قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت بورڈ آف ریونیو کے ماتحت زمین اور جائیداد سے متعلق تمام ریکارڈ سال کے حساب سے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں پٹوار نظام سے لے کر جدید کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ دفاتر تک، تمام انتظامی سطحیں شامل ہوتی ہیں۔ 31 دسمبر کو زمین کے انتقال (Mutation)، جمع بندی (Record of Rights) اور دیگر اندراجات کو سالانہ بنیاد پر حتمی شکل دی جاتی ہے، جبکہ ریونیو سے متعلق مالیہ (Land Revenue) اور آبیانہ (Water Charges) کے حسابات بند کر کے نئے سال کے لیے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ ریونیو نظام میں اس دن کی سب سے نمایاں علامت لال کتاب (Lal Kitab) ہے، جسے پٹوار نظام کا بنیادی اور کلاسک رجسٹر تصور کیا جاتا ہے۔ لال کتاب میں زمین کی نوعیت، قدرتی اثرات، فصلوں کی صورتحال اور علاقے کے زرعی وسائل سے متعلق وہ معلومات درج ہوتی ہیں جو عام رجسٹرز میں شامل نہیں ہوتیں۔ سال کے اختتام پر اس ریکارڈ کی تجدید کو غیر رسمی طور پر زمین کی تاریخِ ملکیت (History of Title) کا خلاصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ریئل اسٹیٹ اینالسٹ کے مطابق 31 دسمبر کی یہ سالانہ بندش سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اسی بنیاد پر آئندہ سال زمین کی قانونی حیثیت، ٹیکس ذمہ داریوں اور ریونیو تشخیص کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں پرانا سال زمینی ریکارڈ کے لحاظ سے بند اور نیا سال نئے اندراجات کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ریونیو حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے، تاہم زمین کے ریکارڈ اور پٹوار نظام میں 31 دسمبر کو آج بھی ایک عملی ڈیڈ لائن تصور کیا جاتا ہے، جو صدیوں پرانے انتظامی تسلسل کی عکاس ہے۔ زمین کی ملکیت کا ڈیجیٹل ریکارڈ بھی پاکستان سمیت دنیا کے کئی حصوں میں 31 دسمبر کو منجمد (Freeze) کر دیا جاتا ہے، اور رات 12 بجے زمین کا ریکارڈ اگلے سال کے لیے نیا رجسٹر (یا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس) کھولا جاتا ہے۔ یہ عمل اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے یہ طے ہوتا ہے کہ سال بھر میں کتنی مالیت کی زمین کی ملکیت تبدیل ہوئی۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com