Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی

1 Historical Event found

برطانیہ نے وینکوور آئی لینڈ کے نظم و نسق چلانے کا اختیار ایک تجارتی کمپنی کے سپرد کر دیا

13 جنوری 1849 کو برطانوی حکومت نے Vancouver Island کا انتظام Hudson’s Bay Company کے سپرد کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت حکومت نے خود براہِ راست جزیرے کا انتظام سنبھالنے کے بجائے ایک نجی تجارتی کمپنی کو اختیار دیا کہ وہ علاقے میں نظم و نسق قائم کرے، ضرورت مندوں میں زمین تقسیم کرے، شہر آباد کرے تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرے اور نظام حکومت اپنے انداز سے چلاۓ۔ نوآبادیاتی دور میں کینیڈا کو چلانے کا برطانوی انداز کچھ ایسا ہی تھا جیسے آج ایک گیٹڈ کمیونٹی کو چلایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح گیٹڈ کمیونٹی میں زمین کسی فرد کی نہیں بلکہ ایک مرکزی اتھارٹی کی ہوتی ہے۔ قواعد و ضوابط اوپر سے طے ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی، ٹیکس نما فیس، منصوبہ بندی اور نظم و نسق ایک منظم نظام کے تحت چلتا ہے۔ رہنے والوں کو سہولتیں ملتی ہیں، مگر حتمی اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی طرح نوآبادیاتی کینیڈا میں بھی زمین کو Crown Land کہا گیا۔ قوانین لندن میں بنتے تھے۔ گورنر اور افسران اوپر سے مقرر ہوتے تھے۔ مقامی آبادی کو نظم، تحفظ اور ترقی تو ملی، مگر فیصلہ سازی ان کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ گیٹڈ کمیونٹی میں رہائشی اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں، جبکہ نوآبادیاتی نظام میں لوگ اس نظام کا حصہ بننے پر مجبور تھے۔ یہ حکمتِ عملی برطانوی سلطنت کے لیے کوئی نیا تجربہ نہیں تھی۔ اس سے قبل برطانیہ یہی ماڈل برصغیر میں East India Company کے ذریعے آزما چکا تھا، جہاں ابتدا میں تجارت کے نام پر قدم رکھا گیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ زمین، محصولات اور حکمرانی کے اختیارات بتدریج کمپنی کے ہاتھ آتے چلے گئے، حتیٰ کہ ریاستی اقتدار عملاً ایک تجارتی ادارے کے زیرِ اثر آ گیا۔ [img:Images/otd-13-jan-2nd.jpeg | desc:یہ تصاویر فوٹوگراف نہیں بلکہ انیسویں صدی کی engraved illustrations ہیں۔ اگرچہ یہ کیمرے سے لی گئی اصل تصاویر نہیں، مگر ان کی مدد سے اُس دور کے وینکوور آئی لینڈ کے تجارتی قلعوں، بستیوں اور نوآبادیاتی نظم و نسق کی مجموعی صورت کو سمجھا جا سکتا ہے۔] وینکوور آئی لینڈ میں بھی یہی سوچ کارفرما تھی کہ مقبوضہ علاقے میں براہِ راست حکمرانی کی بجائے نجی کمپنیوں کے ذریعے معاملات چلانا زیادہ آسان، کم خرچ اور بے پناہ فائدہ مند ہے۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں کینیڈا کے مغربی علاقوں میں، جو بعد ازاں British Columbia کہلائے، بڑے پیمانے پر زمین کی منتقلی اور آبادکاری کی بنیاد رکھی گئی۔ یوں وینکوور آئی لینڈ کا ماڈل دراصل برصغیر میں کیے گئے نوآبادیاتی تجربے ہی کی ایک نئی شکل تھی، مگر طریقہ وہی پرانا اور جانا پہچانا تھا۔ اس ماڈل کے تحت Hudson’s Bay Company نے چند ہی برسوں میں وینکوور آئی لینڈ پر اپنی انتظامی گرفت قائم کر لی، مگر جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ ایک تجارتی کمپنی کے لیے مستقل حکمرانی، عدالتی نظام، عوامی نظم اور سیاسی ذمہ داریاں نبھانا آسان نہیں۔ کمپنی کا اصل مقصد منافع اور تجارت تھا، جبکہ آبادکاروں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ سیاسی نمائندگی، شفاف قانون سازی اور عوامی حقوق کے مطالبات بھی سر اٹھانے لگے۔ 1858 میں فریزر ریور گولڈ رش کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ آبادی میں تیز اضافے، زمین کے تنازعات اور انتظامی دباؤ کے باعث برطانوی حکومت نے محسوس کیا کہ نجی کمپنی کے ذریعے حکمرانی اب قابلِ عمل نہیں رہی۔ نتیجتاً 1858 میں British Columbia کو ایک باقاعدہ کراؤن کالونی قرار دیا گیا اور 1859 میں وینکوور آئی لینڈ سے Hudson’s Bay Company کا حکومتی کردار ختم کر دیا گیا۔ یوں وہی انجام سامنے آیا جو برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہو چکا تھا کہ جب 1857 میں نجی کمپنی ریاستی بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی تو اقتدار براہِ راست تاجِ برطانیہ نے سنبھال لیا۔ بعد ازاں 1866 میں وینکوور آئی لینڈ اور برٹش کولمبیا کو یکجا کر دیا گیا اور 1871 میں یہ علاقہ باقاعدہ طور پر Canada کی وفاقی ریاست میں شامل ہو گیا۔ اس مرحلے پر نوآبادیاتی کمپنی راج کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ آسان الفاظ میں بات یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ آج وینکوور آئی لینڈ ایک ترقی یافتہ اور خود مختار علاقہ ہے، مگر اس کی زمین، شہروں کا نظام اور معیشت کی سمت اب بھی برطانوی دور کے ان فیصلوں کی عکاس ہے جو نوآبادیاتی زمانے میں کیے گئے تھے۔ اُس وقت جو نقشے بنائے گئے، جو زمینیں بانٹی گئیں اور جن شہروں کی بنیاد رکھی گئی، وہی نظام آج بھی رواں دواں ہے۔ بالکل اسی طرح برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی ختم ہو گئی، مگر اس کے بنائے ہوئے قوانین، دفتری نظام اور حکمرانی کے طریقے ختم نہیں ہوئے۔ کمپنی تو چلی گئی، لیکن اس کی سوچ، اس کا نظام اور طاقت کا وہی غیر متوازن طریقۂ کار ہمارے ہاں آج بھی کئی شکلوں میں موجود ہے۔

مزید پڑھیں

Select Date

© syedshayan.com