From Real Estate History
3 Historical Event found
یورپ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد لاکھوں گھر تباہ ہو چکے تھے اور محاذوں سے سپاہی واپس لوٹ رہے تھے۔ اسی پس منظر میں برطانیہ میں “Homes Fit for Heroes” یعنی ہیروز کے لیے موزوں گھر کا نعرہ سامنے آیا۔ فرانس میں 22 دسمبر 1924 کے حکومتی حکم نامے اور اسی برس برطانیہ میں نافذ ہونے والے Wheatley Act نے مل کر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کی تاریخ کا رخ بدل دیا، کیونکہ ان فیصلوں کے ذریعے ریاست نے پہلی بار شہریوں کو رہائش فراہم کرنے کو ایک باقاعدہ عوامی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا۔ 22 دسمبر 1924 کو فرانس میں ایک باقاعدہ حکومتی حکم نامہ جاری ہوا جس نے Loucheur Law کے تحت سستی رہائش کے منصوبوں کو عملی منصوبے میں تبدیل کر دیا۔ اس حکم کے تحت پہلی بار سستی رہائش کے لیے باقاعدہ سرکاری فنڈز مختص کیے گئے، رہائشی منصوبوں کے لیے زمین کے حصول اور الاٹمنٹ کی اجازت دی گئی، اور بلدیاتی اداروں کو تعمیر و عملدرآمد کے واضح اختیارات فراہم کیے گئے۔ اس انتظامی اور مالیاتی فریم ورک کے بعد ریاست نے تاریخ میں پہلی بار عوام کو سستی رہائش مہیا کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو ہاؤسنگ ڈویلپر بنا کر یہ فریضہ انجام دیا۔ اسی فیصلے کے بعد Habitations à Bon Marché یعنی HBM کے تحت سستے گھروں کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوا، جسے بعد کے برسوں میں Habitations à Loyer Modéré یعنی HLM (کم کرائے والے سرکاری گھر) کے نظام میں شامل کر لیا گیا۔ اس دن کی اہمیت آج بھی برقرار ہے، کیونکہ دنیا بھر میں کم لاگت رہائشی منصوبوں اور سوشل ہاؤسنگ پر ہونے والی بحث کی عملی بنیاد اسی فیصلے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ حکم نامہ جاری ہوتے ہی پیرس کے مضافات میں گارڈن سٹیز اور اجتماعی رہائشی اپارٹمنٹس کے لیے زمینوں کے حصول کا عمل شروع کر دیا گیا۔ کھلی فضا، روشنی، سبزہ اور بنیادی سہولیات پر مبنی یہ منصوبے اس وقت کے شہری تصور سے کہیں آگے تھے۔ پہلی بار یہ اصول اپنایا گیا کہ کم آمدنی والے شہریوں کو بھی باعزت اور معیاری رہائش میسر آنا چاہیے، نہ کہ صرف پناہ۔ یہ دن اس اعتبار سے بھی غیر معمولی تھا کہ اس نے ریاستی مداخلت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ اگرچہ اس سے قبل محدود سطح پر بلدیاتی یا کوآپریٹو ہاؤسنگ ماڈلز موجود تھے، مگر قومی سطح پر اتنے بڑے پیمانے پر فنڈنگ، زمین الاٹمنٹ اور تعمیراتی ذمہ داری ریاست نے پہلی بار اسی فریم ورک میں سنبھالی۔ یہی ماڈل بعد ازاں یورپ کے دیگر ممالک اور پھر دنیا بھر میں سماجی ہاؤسنگ پالیسیز کی بنیاد بنا۔ آج جب پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لو کوسٹ ہاؤسنگ، کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھروں کی فراہمی اور ریاستی سبسڈی جیسے تصورات زیرِ بحث ہیں تو ان کی فکری اور عملی جڑیں اسی 22 دسمبر 1924 کے فیصلے میں نظر آتی ہیں۔
(برلن) 3 دسمبر 1938 کو نازی حکومت نے “Verordnung über den Einsatz des jüdischen Vermögens” کے نام سے ایک سنگین ریاستی فرمان نافذ کیا، جس کے تحت یہودی شہریوں کی رہائشی، تجارتی اور زرعی جائیدادوں کی جبری فروخت کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔ وزیر اقتصادیات والٹھر فنک اور وزیر داخلہ ولہیم فرک کے دستخطوں سے جاری ہونے والا یہ حکم دراصل ایڈولف ہٹلر کی براہِ راست پالیسی کا حصہ تھا، جس کا مقصد کرسٹل ناخٹ کے بعد یہودیوں کو معاشی، سماجی اور جغرافیائی لحاظ سے مکمل طور پر بے دخل کرنا تھا۔ فرمان کے مطابق یہودی مالکان کو اپنی تمام جائیدادیں مقررہ مدت کے اندر لازمی طور پر فروخت کرنا تھی، اور خریدار صرف “آرئین” یعنی غیر یہودی جرمن ہو سکتے تھے۔ اس جبری فروخت کے نتیجے میں مکانات، دکانیں اور زمینیں اپنی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر منتقل کی گئیں، جبکہ فروخت سے حاصل شدہ رقم کا بڑا حصہ ریاست نے ٹیکس اور ضبطی کے ذریعے اپنے قبضے میں لے لیا۔ باقی رقم سخت حکومتی نگرانی والے بند کھاتوں (Blocked Accounts) میں جمع ہوتی تھی، جن پر سابق مالکان کو آزادانہ تصرف کا اختیار نہیں تھا۔ فرمان کی ایک اہم شق کے تحت یہودیوں پر ہر قسم کی نئی رئیل اسٹیٹ، رہائشی حقوق، گروی نامے یا زمین کے حصول پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ یوں ایک طرف انہیں اپنی ملکیت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا، اور دوسری طرف انہیں کوئی متبادل جگہ حاصل کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا، جس نے آرئینائزیشن کے عمل کو مکمل قانونی سہارا فراہم کیا۔ (آرئینائزیشن (Aryanization) نازی جرمنی کی وہ سرکاری پالیسی تھی جس کے ذریعے یہودیوں کی جائیداد، کاروبار، زمین، بینک کھاتے، دکانیں، فیکٹریاں اور رہائشیں زبردستی غیر یہودی جرمنوں (Aryans) کو منتقل کی جاتی تھیں۔) یہ پالیسی نازی ریاست کی معاشی لوٹ مار کا ایک منظم طریقہ ثابت ہوئی، جس نے ہزاروں یہودی خاندانوں کو ان کے گھروں اور کاروباری مقامات سے محروم کر کے گھیٹوؤں (گھیٹو وہ تنگ و تاریک جیل نما محلے تھے جہاں یہودیوں کو عام معاشرے سے الگ کر کے رکھ دیا جاتا تھا) اور جبری کیمپوں کی طرف دھکیل دیا۔ اس عمل نے نہ صرف نجی ملکیت کے بنیادی حق کو پامال کیا بلکہ ریاستی طاقت کے ذریعے جائیداد کے جبری قبضے کی بدترین مثال قائم کی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اتحادی قوتوں نے 1945 میں یہ فرمان اور نازی دور کے تمام یہودی مخالف قوانین منسوخ کر دیے۔ بعد ازاں جرمنی میں بحالی اور معاوضے کے قوانین نافذ ہوئے، جن کا مقصد ضبط شدہ جائیدادوں کی واپسی یا مالی ازالہ کرنا تھا۔ آج بھی دنیا بھر میں جبری جائیداد ضبطی، نجی ملکیت کے حقوق اور ریاستی ظلم پر کسی بھی بحث میں 3 دسمبر 1938 کا یہ فرمان بطور تاریخی نظیر پیش کیا جاتا ہے۔
▫رئیل اسٹیٹ، زمین، شہروں کی تقسیم، زرعی اراضی، صنعتی خطے، ساحلی پٹی، نقل و حمل کے راستوں کے لیے boundaries اور عالمی جغرافیے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی تاریخی خبر۔ ▫اس قرارداد کو نہ ماننے کا خمیازہ آج تک فلسطین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے دوسرے سیشن میں قرارداد 181 منظور کی جسے عالمی تاریخ میں United Nations Partition Plan for Palestine کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے جنرل اسمبلی نے برطانوی زیرِ انتظام فلسطین کو دو الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی: ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست۔ اس کے ساتھ ساتھ یروشلم اور بیت اللحم کے علاقے کو ایک International Trusteeship کے تحت رکھنے کی تجویز دی گئی، تاکہ مذہبی اہمیت اور انتظامی حساسیت کے باعث اسے عالمی نگرانی میں چلایا جا سکے۔ اس قرارداد کے حق میں 33 اور مخالفت میں 13 ووٹ آئے جبکہ 10 ممالک نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔ یہ تاریخی منصوبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے خصوصی کمیٹی برائے فلسطین United Nations Special Committee on Palestine (UNSCOP) نے پیش کیا، جو مئی 1947 میں جنرل اسمبلی کی بنائی گئی ایک خصوصی کمیٹی تھی۔ اس کمیٹی میں گیارہ غیر جانب دار ممالک شامل تھے اور ان کا مقصد برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے کے بعد فلسطین کے مستقبل کے سیاسی انتظام پر بین الاقوامی حل تجویز کرنا تھا۔ UNSCOP نے کئی ماہ تک فلسطین میں زمینی مشاہدہ، سماعتیں اور انکوائریاں کیں اور آخرکار اپنی حتمی رپورٹ پیش کی جس میں قرارداد کے نقشے، سرحدی لائنیں، ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش، زرعی اراضی، صنعتی خطے، ساحلی پٹی اور نقل و حمل کے راستوں تک کے لیے تفصیلی boundaries مقرر کی گئیں۔ یہ منصوبہ دنیا کے سب سے زیادہ documented land division plans میں شمار ہوتا ہے، جس میں پہلی مرتبہ کسی خطے کی مستقبل کی ریاستی شکل کو بین الاقوامی ووٹ کے ذریعے تعین کیا گیا۔ مگر یہ منصوبہ کبھی نافذ نہ ہو سکا۔ عرب ریاستوں اور فلسطینی قیادت نے اسے ناانصافی قرار دے کر مسترد کیا، اور 1948 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قرارداد میں دی گئی حد بندیوں سے کہیں زیادہ علاقہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ بعد ازاں 1949 کی گرین لائن، 1967 کی جنگ، فوجی قبضوں، سیاسی مذاکرات اور اوسلو معاہدوں کے نتیجے میں موجودہ اسرائیلی اور فلسطینی حدود قائم ہوئیں، جو قرارداد 181 کے نقشے کی پیروی نہیں کرتیں۔ فلسطین کو قرارداد 181 کے نہ ماننے پر بعد اپنی مجوزہ ریاست سے محرومی کا سامنا ہوا اور 1948 اور 1967 کی جنگوں نے اس نقصان کو مزید بڑھا دیا۔ عرب ریاست کے لیے مختص علاقہ عملی طور پر اسرائیلی قبضوں میں چلا گیا، 1949 کی گرین لائن نے فلسطینی سرزمین کو محدود کر دیا اور 1967 کے بعد کے کنٹرول نے غزہ، ویسٹ بینک اور یروشلم کو الگ الگ انتظامات میں تقسیم کر دیا۔ یوں ایک مکمل اور خود مختار فلسطینی ریاست کا تصور کاغذی نقشوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ تاریخ کی موجودہ طویل ترین اور تباہ کن جنگ (2023-2025) کے بعد فلسطین اور اسرائیل دونوں بربادی کی کیفیت میں کھڑے ہیں، خاص طور پر غزہ کی ساحلی پٹی مکمل طور پر اجڑ چکی ہے۔ اور اسی تباہ شدہ خطے کے بارے میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات کر رہے ہیں کہ جنگ کے بعد یہاں ایک Riviera بنایا جا سکتا ہے۔ (قوام متحدہ کی آفیشل دستاویزات، جنرل اسمبلی کے ریکارڈ، Encyclopaedia Britannica، BBC Archives اور Al Jazeera Timeline سب اس واقعے کو 29 نومبر 1947 کی تاریخ پر کنفرم کرتے ہیں۔)