Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Subcontinent & Early Settelements

1 Historical Event found

تقسیم ہند نے گھروں، زمینوں اور شہری جائیدادوں کی ملکیت کا نقشہ بدل دیا

14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آیا، لیکن اگر اس تاریخی دن کو رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ گھروں، زمینوں اور جائیدادوں کی ملکیت میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا آغاز بھی تھا۔ تقسیم ہند نے صرف نئی سرحدیں قائم نہیں کیں بلکہ لاکھوں لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں، دکانوں اور آبائی علاقوں سے بھی جدا کردیا۔ سٹیزنز آرکائیو آف پاکستان کے محفوظ تاریخی مواد کے مطابق 1947 کی تقسیم کے دوران ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ بڑی تعداد میں مسلمان نئے قائم ہونے والے پاکستان کی طرف آئے جبکہ پاکستان میں شامل ہونے والے علاقوں سے بہت سے ہندو اور سکھ بھارت منتقل ہوئے۔ اس بڑے پیمانے کی نقل مکانی نے نئے ملک کے سامنے فوری طور پر رہائش کا بہت بڑا مسئلہ کھڑا کردیا۔ پاکستان پہنچنے والے ہزاروں خاندانوں کے پاس مستقل گھر موجود نہیں تھے۔ لاہور کے والٹن کیمپ سمیت مختلف مقامات پر عارضی مہاجر کیمپ قائم کیے گئے جہاں آنے والے خاندانوں کو وقتی پناہ اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری طرف بھارت منتقل ہونے والے افراد اپنے پیچھے گھر، دکانیں، کاروباری عمارتیں، زرعی زمینیں اور دوسری جائیدادیں چھوڑ رہے تھے۔ بعد میں ایسی جائیدادیں متروکہ املاک کے نظام کا حصہ بنیں اور ان کا انتظام اور تقسیم پاکستان کی ابتدائی حکومت کے سامنے ایک بڑا قانونی اور انتظامی چیلنج بن گئی۔ پاکستان کی ابتدائی تاریخ پر ہونے والی علمی تحقیق بتاتی ہے کہ ہجرت کرکے جانے والے ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی بہت سی جائیدادیں آنے والے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے استعمال اور تقسیم کی گئیں۔ اس عمل میں شہروں اور دیہی علاقوں دونوں کی قیمتی جائیدادیں شامل تھیں۔ اس تبدیلی کے اثرات پاکستان کے بڑے شہروں پر بہت گہرے پڑے۔ کراچی نئے ملک کا پہلا وفاقی دارالحکومت بنا اور یہاں بڑی تعداد میں مہاجرین پہنچے۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی اپنی تاریخی تفصیل میں شہر کی ترقی میں مہاجرین اور مختلف علاقوں سے آنے والی آبادی کو ایک اہم عنصر قرار دیتی ہے۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ گھروں کی ضرورت بڑھی، نئی آبادیاں وجود میں آئیں اور زمین، رہائش اور شہری سہولتوں کے درمیان پرانا توازن تیزی سے بدلنے لگا۔ لاہور کو بھی اسی نوعیت کی بڑی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرحد پار سے آنے والے لوگوں کو پہلے فوری پناہ اور پھر مستقل رہائش درکار تھی۔ مہاجر کیمپ، پہلے سے موجود گھروں میں عارضی رہائش اور بعد میں جائیدادوں کی الاٹمنٹ، سب نئے لاہور کی تشکیل کے بڑے عوامل بنے۔ یہ تبدیلی صرف کراچی اور لاہور تک محدود نہیں رہی۔ پنجاب، سندھ اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی نے گھروں، زرعی زمینوں، بازاروں، دکانوں اور کئی محلوں کی ملکیت اور استعمال کا طریقہ بدل دیا۔ اسی لیے رئیل اسٹیٹ کی تاریخ میں 14 اگست 1947 صرف ایک نئے ملک کے قیام کا دن نہیں۔ یہ اس بڑے عمل کا آغاز بھی تھا جس میں یہ طے ہونا تھا کہ لوگ کہاں رہیں گے، خالی ہونے والی جائیدادوں کا انتظام کیسے ہوگا، مہاجر خاندانوں کو گھر اور زمین کیسے ملیں گے اور شہروں کو اچانک بڑھنے والی آبادی کے لیے کیسے تیار کیا جائے گا۔ اس مسئلے کے اثرات کئی سال تک جاری رہے اور پاکستان کو مہاجرین کی بحالی، جائیدادوں کے دعووں اور متروکہ املاک کے انتظام اور منتقلی کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی نظام قائم کرنا پڑا۔ اس دور نے پاکستان کی شہری ترقی پر بھی دیرپا اثر ڈالا۔ نئی آبادیوں کو صرف گھر نہیں بلکہ سڑکیں، بازار، روزگار، تعلیمی ادارے اور دوسری شہری سہولتیں بھی درکار تھیں۔ اس ضرورت نے شہروں کے پھیلاؤ اور نئی رہائشی آبادیوں کی تشکیل کو مزید اہم بنادیا۔ یہ تاریخ آج کی شہری منصوبہ بندی کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ جائیداد اور زمین کی دنیا صرف قیمتوں، تعمیرات اور ڈویلپرز سے نہیں بدلتی۔ سیاسی فیصلے، نئی سرحدیں اور بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی بھی زمین کے استعمال اور ملکیت کا پورا نقشہ تبدیل کرسکتی ہے۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان نے آزادی حاصل کی، لیکن اسی وقت نئے ملک کے سامنے لاکھوں لوگوں کو بسانے، متروکہ جائیدادوں کا انتظام کرنے اور نئے شہری نظام کی بنیاد رکھنے کا ایک غیر معمولی چیلنج بھی آ کھڑا ہوا۔ اسی وجہ سے قیامِ پاکستان اور تقسیم متحدہ ہندوستان کا دور پاکستان کی رئیل اسٹیٹ اور شہری ترقی کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں