Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

Home

Select Date

Historical Urban Disaster

1 Historical Event found

قسطنطنیہ (استنبول) کا تاریخی زلزلہ، جب شہر کی عمارتیں ملبے میں بدل گئیں

10 ستمبر 1509 کو سلطنتِ عثمانیہ کا دارالحکومت قسطنطنیہ ایک ایسے تباہ کن زلزلے سے لرز اٹھا جس نے شہر کی شہری عمارتوں، رہائشی مکانات اور تاریخی تعمیرات کو شدید نقصان پہنچایا۔ زلزلے کا مرکز بحیرۂ مرمرہ کے علاقے میں تھا اور اس کی شدت کا جدید اندازہ تقریباً 7.2 لگایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ تاریخ میں اس قدر تباہ کن سمجھا گیا کہ اسے عثمانی دور کے لوگوں نے "قیامت صغریٰ" کا نام دیا۔ زلزلہ تقریباً رات دس بجے آیا اور اس کے بعد کئی ہفتوں تک جھٹکے محسوس ہوتے رہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق بعض علاقوں میں لوگ تقریباً دو ماہ تک اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوفزدہ رہے۔ رہائشی املاک کو پہنچنے والا نقصان غیر معمولی تھا۔ قسطنطنیہ میں تقریباً ایک ہزار ستر مکانات منہدم ہوئے، جبکہ شہر کی فصیل کے درجنوں برج بھی متاثر ہوئے۔ بڑی تعداد میں مذہبی اور عوامی عمارتیں بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ بایزید ثانی کی نئی تعمیر شدہ مسجد کا مرکزی گنبد تباہ ہوگیا اور ایک مینار گر گیا، جبکہ فاتح مسجد کے بڑے ستونوں اور گنبد کو بھی نقصان پہنچا۔ زلزلے کے اثرات صرف رہائشی علاقوں تک محدود نہیں رہے۔ آب رسانی کے لیے استعمال ہونے والے قدیم آبی راستے، قلعے، شہر کی فصیلیں اور دیگر اہم تعمیرات بھی متاثر ہوئیں۔ بحیرۂ مرمرہ میں پیدا ہونے والی سمندری لہروں نے ساحلی آبادیوں کو بھی نقصان پہنچایا اور بعض علاقوں کے مکانات پانی سے متاثر ہوئے۔ جانی نقصان کے بارے میں تاریخی ذرائع میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم مختلف اندازوں میں ہلاکتیں ایک ہزار سے تیرہ ہزار تک بتائی گئی ہیں۔ زلزلے کی تباہی نے حکمرانوں کو بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کی ضرورت سے دوچار کیا اور یہ واقعہ قسطنطنیہ کی شہری تاریخ میں ایک اہم موڑ بن گیا۔ قدرتی آفات کسی شہر کی جائیداد، رہائشی ڈھانچے، بنیادی سہولتوں اور تعمیراتی منصوبہ بندی کو ایک ہی لمحے میں بدل سکتی ہیں۔ 1509 کا قسطنطنیہ اسی حقیقت کی ایک تاریخی مثال ہے۔

مزید پڑھیں