Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

3 January

Home

Select Date

1 Historical Event found for 3 January
1

3 جنوری 1959

الاسکا امریکہ کی 49ویں ریاست بن گیا۔

الاسکا امریکہ کی 49ویں ریاست بن گیا۔

3 جنوری 1959 کو Alaska کا امریکہ کی انچاسویں ریاست بننا دراصل تاریخ میں ایک بڑے زمینی قطعے کی ملکیت کی منتقلی کا دن ہے۔

امریکی ریاست بننے سے پہلے Alaska دراصل Russia کی سلطنت، یعنی Russian Empire کا حصہ تھا اور اسے Russian America کہا جاتا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں روسی مہم جوؤں نے یہاں قدم رکھا، جہاں بنیادی دلچسپی قیمتی فر (fur) کی تجارت تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تجارت کمزور ہوتی گئی اور روس کو اس خطے سے معاشی فائدہ تقریباً ختم ہو گیا۔ چونکہ الاسکا جغرافیائی لحاظ سے روس سے انتہائی دور تھا، اس لیے اس کا انتظام اور دفاع روس کے لیے بہت مہنگا اور مشکل بنتا جا رہا تھا، خاص طور پر اس خدشے کے باعث کہ اگر کسی جنگ کی صورت میں برطانیہ، جو اس وقت کینیڈا پر قابض تھا، آسانی سے الاسکا پر قبضہ کر سکتا ہے۔

انہی حالات کے پیشِ نظر روس نے یہ فیصلہ کیا کہ اس خطے کو کسی دوستانہ طاقت کو فروخت کر دینا زیادہ بہتر ہوگا، چنانچہ 1867ء میں الاسکا کو United States کو صرف 7.2 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ اس معاہدے کو امریکہ میں ابتدا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے “Seward’s Folly” کہا گیا، کیونکہ یہ سودا امریکی وزیرِ خارجہ William H. Seward نے طے کیا تھا، مگر بعد ازاں جب الاسکا میں سونا، تیل اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل دریافت ہوئے تو یہی سودا تاریخ کے سب سے کامیاب اور فائدہ مند معاہدوں میں شمار ہونے لگا۔

الاسکا کا مجموعی رقبہ تقریباً تین سو پچہتر ملین ایکڑ پر مشتمل ہے۔ ریاست بننے کے ساتھ ہی Alaska Statehood Act کے تحت امریکی وفاقی حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلہ نافذ کیا، جس کے مطابق نئی ریاست کو یہ حق دیا گیا کہ وہ وفاقی اراضی میں سے تقریباً ایک سو دو سے ایک سو تین ملین ایکڑ زمین اپنی ملکیت میں منتخب کر کے منتقل کر لے۔ امریکی تاریخ میں کسی بھی ریاست کو اتنی بڑی زمین ایک ہی قانونی فریم ورک کے تحت منتقل نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں الاسکا کے اوائل دنوں میں باقاعدہ شہری انفراسٹرکچر، ٹاؤن پلاننگ اور کمرشل زوننگ کی بنیاد پڑی۔

ریاستی حیثیت سے قبل الاسکا کی زمین کی قدر زیادہ تر تاریخی طور پر سونے کی کانوں اور محدود معدنی وسائل تک محدود تھی، مگر 1959 کے بعد شروع ہونے والے سرکاری سرویز، لیزنگ پالیسیوں اور زمین کے انتخابی عمل نے اس خطے کو سرمایہ کاروں کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔ چند ہی برس بعد، 1968 میں Prudhoe Bay کے علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر کی دریافت نے زمین کی معاشی تعریف ہی بدل دی۔ بنجر اور سرد خطہ، جسے طویل عرصہ قابلِ استعمال نہیں سمجھا جاتا تھا، اچانک عالمی توانائی کا مرکز بن گیا۔ اسی تبدیلی نے الاسکا کی کمرشل زمین کو کھربوں ڈالر کی اسٹریٹجک ویلیو تک پہنچایا۔

article image

تصویر میں جو شخصیت درمیان میں نظر آ رہی ہے وہ Bob Bartlett ہیں، جو اس وقت الاسکا کے علاقائی گورنر (Territorial Governor) تھے۔ ان کے اردگرد موجود افراد الاسکا کی سیاسی قیادت اور امریکی وفاقی نمائندے ہیں، اور ان کے ہاتھوں میں 49 ستاروں والا امریکی پرچم موجود ہے جو الاسکا کے امریکہ کی 49ویں ریاست بننے کی علامت تھا۔

ریاست بننے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے فنڈز نے انفراسٹرکچر کی ترقی کو نئی رفتار دی، جس کے نتیجے میں زمین کی قیمتوں میں نمایاں اور فیصلہ کن اضافہ ہوا۔ خاص طور پر Anchorage جیسے بڑے شہری مراکز میں باقاعدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہوئیں، جنہوں نے شہری توسیع اور منظم رہائش کو فروغ دیا۔ اسی طرح Fairbanks میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات کے پھیلاؤ نے شمالی علاقوں کو معاشی اور سماجی طور پر متحرک کیا، جس سے نہ صرف مقامی آبادی کو سہولیات میسر آئیں بلکہ خطے کی مجموعی ترقی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

سڑکوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک نے ان زمینوں تک رسائی ممکن بنائی جو پہلے جغرافیائی رکاوٹوں کے باعث غیر استعمال شدہ تھیں۔

ریاستی الحاق نے زمین کے حقوق سے متعلق ایک اہم تنازع بھی پیدا کیا، کیونکہ مقامی آبادی کے تاریخی دعوے وفاقی اور ریاستی زمین کے انتخاب سے متصادم ہو رہے تھے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے 1971 میں Alaska Native Claims Settlement Act نافذ کیا گیا، جس کے تحت تقریباً چوالیس ملین ایکڑ زمین مقامی قبائلی کارپوریشنز کو منتقل کی گئی۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

ریفرنسز:
▫️ویکیپیڈیا مضمون: الاسکا
▫️انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (اردو ترجمہ شدہ مواد) Alaska Statehood & Alaska Purchase
▫️لائبریری آف کانگریس، امریکہ (Library of Congress)
Alaska Purchase (1867) اور Alaska Statehood Act (امریکی سرکاری آرکائیوز پر مبنی تاریخی و قانونی دستاویزات، اردو تحقیقی حوالہ کے طور پر مستعمل)
Views
20

مزید خبریں "On This Date" سے

news
ملائیشیا کی پیٹروناس ٹاورز دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت بن گئی

31 اکتوبر 2003 کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پیٹروناس ٹاورز نے باضابطہ طور پر دنیا کی بلند ترین رہائشی عمارت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 452 میٹر بلند یہ...

مزید پڑھیں
news
ریاستہائے متحدہ میں پہلا آن لائن پراپرٹی لسٹنگ پلیٹ فارم لانچ ہوا

4 نومبر 1998 کو ریاستہائے متحدہ میں پہلا جامع آن لائن پراپرٹی لسٹنگ پلیٹ فارم لانچ ہوا، جس نے رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹنگ اور سرچ کے طریقے میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس...

مزید پڑھیں
news
روم میں آرچ آف کانسٹنٹائن کا افتتاح، تعمیرات کو شاہی یادداشت میں بدل دیا گیا

25 جولائی 315ء کو روم میں آرچ آف کانسٹنٹائن کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ رومی سینیٹ نے یہ یادگار شہنشاہ کانسٹنٹائن کی 312 میں میلویئن پل کی جنگ میں میکسینٹیئس کے ...

مزید پڑھیں
news
اسلام آباد کے سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے پہلا ماسٹر پلان منظور ہوا

4 نومبر 1985 کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کی سسٹمیٹک سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے پہلا جامع ماسٹر پلان منظور کیا۔ اس تاریخی فیصلے نے منظم شہری ت...

مزید پڑھیں
news
معاہدۂ ورسائی پر دستخط ہوئے جس نے یورپ کی رئیل اسٹیٹ، اور جدید شہری منصوبہ بندی پر گہرے اثرات مرتب کیے

فرانس کے محل ورسائی میں معاہدۂ ورسائی پر دستخط کیے گئے، جس کے ذریعے پہلی جنگِ عظیم کا باضابطہ اختتام ہوا۔ اگرچہ یہ معاہدہ زیادہ تر اپنے سیاسی اور سفارتی اثرات ...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں