Logo

Syed Shayan Real Estate Archive

Logo

From Real Estate History

10 October

Home

Select Date

3 Historical Event found for 10 October
1

On This Date

10 اکتوبر 2013

ہندوستان میں زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کے قانون (LARR) کا نفاذ

ہندوستان میں زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کے قانون (LARR) کا نفاذ

اکتوبر 2013 میں ہندوستان نے زمین کے حصول، بحالی اور آبادکاری کا قانون 2013 (LARR) نافذ کرنا شروع کیا، جو جنوبی ایشیا میں زمین کی گورننس سے متعلق سب سے بڑی اصلاحات میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ قانون ستمبر میں منظور کیا گیا تھا، مگر اکتوبر کے آغاز تک وفاقی حکومت نے صوبوں کے لیے ایسے عملی فریم ورک جاری کیے جن کے تحت قیمتوں کے تعین، معاوضے کے فارمولے، اور سماجی اثرات کے جائزے کے طریقہ کار متعین کیے گئے۔

یہ قانون 1894 کے نوآبادیاتی دور کے Land Acquisition Act کی جگہ لایا گیا، جسے برسوں سے جبری زمین کے حصول اور ناکافی معاوضے کے باعث تنقید کا سامنا تھا۔ 2013 کا نیا قانون ترقی اور سماجی انصاف کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک کوشش تھی، جس کے تحت زمین مالکان اور متاثرہ خاندانوں کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ، بحالی کی سہولتیں اور طویل المدتی روزگار کی ضمانت دی گئی۔

اس قانون نے کئی نمایاں شقیں متعارف کرائیں، جن میں زمین کے حصول سے پہلے عوامی رضامندی، سماجی آڈٹ، ماحولیاتی منظوری، اور بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔ اکتوبر 2013 تک اس قانون کے تحت ابتدائی نفاذ مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور پنجاب سمیت مختلف ریاستوں میں شروع ہو چکا تھا، جہاں مقامی سطح پر قیمتوں کے تعین اور شکایات کے ازالے کے ضابطے بنائے گئے۔

یہ دور ہندوستان کے زمین سے متعلق انتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز تھا، جب صوبائی محکمے اور ضلعی دفاتر اپنی کارروائیوں کو نئے قومی قانون سے ہم آہنگ کرنے لگے۔ اس اصلاح نے زمین کے حصول کے طریقہ کار کو نہ صرف دوبارہ متعین کیا بلکہ ریاست، سرمایہ کاروں، اور مقامی برادریوں کے درمیان ایک نیا سماجی معاہدہ قائم کیا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

▪ حوالہ جات:

حکومتِ ہند، وزارتِ دیہی ترقی (LARR نفاذ رپورٹس 2013) پریس انفارمیشن بیورو، اکتوبر 2013 The Economic Times، Land Bill Rollout in States ورلڈ بینک، Reforming Land Acquisition in South Asia
Views
19
2

On This Date

10 اکتوبر 1885

میلبورن میں پہلی شہری زمین کی نیلامی کا ریکارڈ

میلبورن میں پہلی شہری زمین کی نیلامی کا ریکارڈ

10 اکتوبر 1885 کو میلبورن نے اپنی شہری تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کا مشاہدہ کیا جب شہر کے جنوبی حصے، دریائے یارا کے پار، تیزی سے ترقی کرتے مضافات میں پہلی بڑی عوامی زمین کی نیلامی منعقد کی گئی۔ اُس وقت میلبورن سونے کی تلاش سے حاصل ہونے والی خوشحالی، آبادی کے سیلاب، اور صنعتی ترقی کے باعث ایک غیر معمولی معاشی عروج سے گزر رہا تھا۔

یہ نیلامی میلبورن لینڈ سنڈیکیٹ نے منعقد کی، جس نے شہری پلاٹوں کی قیمت متعین کرنے اور عوامی بولی کے ایک نئے شفاف طریقہ کار کو متعارف کرایا۔ یہ طریقہ جلد ہی پورے آسٹریلیا میں رئیل اسٹیٹ لین دین کے لیے ایک نمونہ بن گیا۔ دو سو سے زیادہ پلاٹ پیش کیے گئے، جو آج کے ساؤتھ میلبورن اور سینٹ کلڈا روڈ پریسنکٹ کے علاقوں میں واقع ہیں۔ ان پلاٹوں کے ساتھ نقشے، گلیوں کے خاکے، نالیوں اور رسائی کے راستوں کی تفصیلات فراہم کی گئیں — جو اُس وقت کے لیے ایک انقلابی قدم تھا۔

دن کے اختتام تک تقریباً تمام زمین فروخت ہو چکی تھی، اور اس سے نجی ڈویلپرز اور نوآبادیاتی حکومت دونوں کو ریکارڈ آمدنی حاصل ہوئی۔ اس واقعے نے زمین کی قیمتوں کے تعین، قیاس آرائی کے رجحانات، اور ملکیتی قوانین کے فریم ورک پر دور رس اثرات مرتب کیے، جو بعد میں پورے آسٹریلیا کی جائیداد پالیسیوں میں شامل ہوئے۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

▪ حوالہ جات:

وِکٹورین گورنمنٹ گزٹ، 1885 میلبورن لینڈ سنڈیکیٹ ریکارڈز نیشنل لائبریری آف آسٹریلیا، Colonial Land Auctions and City Development
Views
23
3

On This Date

10 اکتوبر 1924

کلکتہ میں ابتدائی کوآپریٹو ہاؤسنگ ماڈل

کلکتہ میں ابتدائی کوآپریٹو ہاؤسنگ ماڈل

10 اکتوبر 1924 کو بنگال پریذیڈنسی کے رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز نے کلکتہ (جو اب کولکتہ کہلاتا ہے) میں رہائشی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کی ابتدائی درخواست رجسٹر کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جنوبی ایشیا کی شہری ترقی میں ایک نیا موڑ آیا، جب کوآپریٹو یا اشتراکی اصول، جو اس سے پہلے صرف زرعی قرض اور مالی تعاون تک محدود تھا، پہلی بار زمین اور رہائش کے شعبے تک پھیل گیا۔

اس اقدام کا مقصد متوسط طبقے کے پیشہ ور افراد کو یہ موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ اجتماعی طور پر زمین خریدیں، محلوں کی منصوبہ بندی کریں، اور جائیداد پر باہمی نظم و نسق قائم کریں۔ اُس وقت برطانوی ہند کا شہری ڈھانچہ زیادہ تر نجی زمینداروں اور نوآبادیاتی میونسپل کنٹرول کے زیرِ اثر تھا، اس لیے یہ تصور اُس دور کے لیے نہایت انقلابی تھا۔

1920 کی دہائی کے وسط تک، بھوون پور اور بلی گنج کے گرد قائم یہ ابتدائی سوسائٹیاں منظم مضافاتی بستیاں بن چکی تھیں، جنہوں نے بعد میں آنے والے کوآپریٹو منصوبوں جیسے ماڈل ٹاؤن لاہور (1921 تا 1925) اور سانتاکروز ہاؤسنگ سوسائٹی بمبئی (1927) پر براہِ راست اثر ڈالا۔

▪️ سید شایان ریئل اسٹیٹ آرکائیو

▪ حوالہ جات:

بنگال پریذیڈنسی کوآپریٹو سوسائٹیز ڈیپارٹمنٹ (1924 رجسٹر) کلکتہ امپرومنٹ ٹرسٹ رپورٹس (1923 تا 1927)
Views
12

مزید خبریں "On This Date" سے

news
فرانس میں "عمودی بستی" نامی ہاوسنگ پراجیکٹ متعارف کرایا گیا

2 جولائی کو فرانس کے شہر ریزے، نانت کے قریب معروف معمار لی کوربوزیے کے ڈیزائن کردہ اہم اجتماعی رہائشی منصوبے “La Maison Radieuse” کا افتتاح کیا گیا۔ یہ عمارت جد...

مزید پڑھیں
news
کراچی کی تاریخی سندھ اسمبلی عمارت پاکستان کی پہلی پارلیمان کا مرکز بن گئی

پاکستان کے قیام سے صرف چند روز قبل 10 اگست 1947 کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، یوں کراچی کی یہ تاریخی عمارت نوزائیدہ ریاس...

مزید پڑھیں
news
برطانیہ میں رئیل اسٹیٹ کے سب سے قدیم ہفتہ وار جریدے ای جی (Estates Gazette) نے اپنی اشاعت بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

6 دسمبر 2022 کو برطانیہ کے تاریخی ہفتہ وار رئیل اسٹیٹ میگزین Estates Gazette (EG) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ شدید مالی مشکلات کے باعث اس کے لیے اپنی روایت...

مزید پڑھیں
news
تقسیم کے بعد جائیدادوں کی باقاعدہ منتقلی کا تاریخی آغاز

تقسیم ہند کے بعد لاکھوں افراد کی ہجرت کے نتیجے میں چھوڑی گئی جائیدادوں کے انتظام کا سنگین بحران پیدا ہوا تھا۔ مغربی پنجاب میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 26 نومبر ...

مزید پڑھیں
news
ٹوئن ٹاورز ،زمین کے ایک بڑے منصوبے سے عالمی تاریخ کے المناک نشان تک

کسی شہر کی شناخت بعض اوقات کسی عمارت سے اس قدر جڑ جاتی ہے کہ عمارت محض اینٹ، فولاد اور شیشے کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ پورے شہر کی علامت بن جاتی ہے۔ نیویارک کے ور...

مزید پڑھیں

سید شایان ڈاٹ کوم سے مزید دریافت کریں

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور- ایک ماڈرن سوسائٹی جسے لاہور کے قدیمی جنگل میں آباد کیا گیا

ماڈل ٹاؤن لاہور ایک جدید رہائشی سوسائٹی جو لاہور کے قدیمی جنگل میں بسائی گئی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے لیے زمین کی خریداری اور حصول بھی ایک نہایت ...

مزید پڑھیں
ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟

ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی 500 ایکڑ زمین کہاں گئی؟ ماڈل ٹاؤن لاہور کی زمین 1921 سے 1924 کے درمیان مختلف مرحلوں میں خریدی گئی۔ ابتدا 1921 میں ہوئی جب...

مزید پڑھیں